دوستیاں نبھا لو یا ملک بچا لو.... افتخار احمد

مسلم لیگ ن نے اپنے حالیہ دور حکومت میں پارلیمان کی بالادستی اور پارلیمانی جمہوریت کی مضبوطی کا راگ الاپا تو مجھ جیسے بہت سے جمہوریت پسند لوگ سمجھے کہ شاید اپنے ماضی کے برے تجربات سے مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت نے سبق سیکھ لیا ہے۔

آخر کو یہ پارلیمان کی طاقت ہی تھی جس کے بل بوتے پر مسلم لیگ ن کی حکومت اگست دو ہزار چودہ میں اسلام آباد پر حملہ آور ہوئے دو سیاسی کزنز، عمران خان اور علامہ طاہر القادری کا مقابلہ کر پائی۔ اگر ان دھرنوں کے دوران قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود سیاسی جماعتیں ،حکومت کے دفاع کے لئے آگے نہ آتیں تو شایدآج کا منظر نامہ یکسر مختلف ہوتا۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ ن اور اس کی قیادت نے ان گزشتہ سالوں میں حقیقی طور پر پارلیمنٹ کی مضبوطی کے لئے کوئی اقدام کئے؟ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نااہل قرار دیئے جانے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی وزارت عظمیٰ کے سالوں میں کتنی بار قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شریک ہوئے؟ بیسیوں وزرا ء پر مشتمل ان کی کابینہ کے وزراء نے گزشتہ ساڑھے چار سال کے عرصے میں اسمبلی یا سینیٹ کے کتنے اجلاسوں میں شریک ہو کر پارلیمنٹ کو اعزاز بخشا؟ بات صرف قومی اسمبلی اور سینیٹ کی ہی نہیں، پنجاب کی صوبائی اسمبلی بھی اپنے منتخب وزیر اعلیٰ کی راہ ہی تکتی رہ گئی۔

میرے دوست شہباز شریف شاید صوبے کے ترقیاتی منصوبوں کی اسپیڈ میں اس قدر کھو گئے کہ انہیں اس صوبائی اسمبلی میں جانا بھی یاد نہ رہا جس کے ایک رکن ہونے کی حیثیت سے ہی انہیں وزارت اعلیٰ کا منصب ملا۔ جب صوبے کے لیڈر ہی کو اسمبلی کا راستہ بھول جائے تو پھر دیگر ممبران اسمبلی سے تو کوئی گلہ بنتا ہی نہیں۔اس لئے پنجاب اسمبلی کی بلڈنگ کو صرف بل پاس کرنے کے دنوں میں ہی اپنے اراکین کا د یدارنصیب ہوا۔ چار پارلیمانی سالوں میں درجنوں سے زائد ایسے سیشن تھے جو کورم پورا نہ ہونے کے باعث ملتوی کر دیئے گئے، سوال یہ ہے کہ کیا یہی وہ پارلیمانی جمہوریت ہے جس کی مضبوطی کے لئے میاں نواز شریف اوران کی پارٹی بار بار بات کرتی ہے؟ یقیناََنواز شریف اور ان کی سیاسی جماعت کے دیگررہنمائوں کو اس دور حکومت میں بہت سے مقامات پردائمی اقتدار رکھنے والے ریاستی اداروں کے دبائو کا سامنا رہا ہو گا لیکن کیا پارلیمان کے بارے میں جو غیر سنجیدہ رویہ انہوں نے اختیار کئے رکھا اُس کے لئے بھی ان پر کسی جانب سے کوئی دبائو تھا؟

اب فاٹا کے مستقبل کے بارے میں کئے جانے والے فیصلے کو ہی لے لیجئے، پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں موجود سیاسی جماعتیں اس بات پر رضامند ہیں کہ فاٹا کے عوام کو ایف سی آر جیسے کالے قوانین کے چنگل سے آزاد کروانے کا وقت آگیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں سمیت تقریباََتمام جماعتیں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی حمایت کا عندیہ دے چکی ہیں لیکن مسلم لیگ ن کی حکومت صرف اپنے دو اتحادیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر اس سلسلے میں قانون سازی کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ حالانکہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے سلسلے میں سب سے پہلا قدم اس وقت کے وزیر اعظم نوا ز شریف کی طرف سے ہی اٹھایا گیا تھااور نومبر دو ہزار پندرہ میںانہوں نے فاٹا کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اس کمیٹی نے نہ صرف سات قبائلی ایجنسیوں کے دورے کئے بلکہ چھ فرنٹیر ریجنز کے نمائندگان سے بھی ملاقاتیں کیں۔ کمیٹی اس عرصے میں تقریباََ ساڑھے تین ہزار سے زائد قبائلی عمائدین سے بھی ملی ۔ دس دسمبر دو ہزار پندرہ کو اس کمیٹی نے فاٹا سے تعلق رکھنے والے انیس اراکین پارلیمنٹ سے بھی ایک خصوصی ملاقات کی جس میں فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ نے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں تمام اختیار کمیٹی کو سونپ دیا۔

تقریباََ ایک سال بعد تیس اگست دو ہزار سولہ کو اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ تجاویز سمیت وزیر اعظم کو پیش کر دی، جو اگلے ہی دن نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں بھی پیش کر دی گئی تھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر اس رپورٹ کو نو ستمبر دو ہزار چھ کو قومی اسمبلی، جبکہ ستائیس ستمبر کوسینیٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔

اس دوران کمیٹی کو میڈیا کے ذریعے بھی تجاویز ملتی رہیں، جن کو بھی فائنل ڈرافٹ میں شامل کر لیا گیا۔ تیرہ دسمبر دو ہزار سولہ کو وزارت سیفران نے ان تمام تجاویزات پر مبنی سمری کو کیبنٹ کے سامنے منظوری کے لئے پیش کیا لیکن ایک دو نکتوں کے بارے میں چند سیاسی جماعتوں کے اعتراض کے باعث سمری منظور نہ ہو سکی۔ وزارت سیفران کو اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ فروری دو ہزار سترہ تک ہر صورت میں فائنل ڈرافٹ کو تیار کر لیا جائے گا۔

پھر دو مارچ دو ہزار سترہ کو فاٹا ریفارمز کے پیکیج کو کابینہ کی جانب سے بھی منظوری مل گئی،جس کے بعد فاٹا کے عوام کو یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید اب انہیں بھی باقی پاکستان کے عوام کی طرح ان بنیادی حقوق تک رسائی ہو جائے جن کا وعدہ آئین پاکستان میں کیا گیا ہے۔ لیکن اس امید پر اس وقت پانی پھر گیا جب مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے دو سیاسی رفقا کے ایما پرفاٹا ریفارمرز کے سارے عمل کو پس پشت ڈال دیا۔

وہی مسلم لیگ ن جو آج کل پارلیمانی بالادستی کی بات کرتی ہے، پچھلے کئی مہینوں سے ایک بل اسمبلی میں پیش نہیں کر سکی جس کے بعد فاٹا سپریم کورٹ آف پاکستان اور پشاور ہائی کورٹ کے زیر اثر آجائے گا۔ اب سوال تو یہ ہے کہ فاٹا کے رہنے والے لوگوں نے ایسے پارلیمانی جمہوری نظام کا کیا کرنا ہے جس میں انہیں بنیادی حقوق بھی میسر نہ ہوںاور ان بنیادی حقوق تک رسائی دینے والی قانون ساز ی مسلم لیگ نواز کی سیاسی مجبوریوں کی بھینٹ چڑھ جائے ۔

یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم صحیح وقت پر صحیح فیصلے نہیں کرتے اور پھر تاریخ کی ستم ظریفی کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ سقوط ڈھاکہ اس کی ایک ایسی مثال ہے جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ حکمرانوں کی ہٹ دھرمی اور کچھ لوگوں کو خوش رکھنے کی روایت حقیقت میں تباہی کا ایک ایسا نسخہ ہے جس کے نتائج آنے کے بعد اس پر پشیمان ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ڈیورنڈ لائن ایک طے شدہ سرحد ہے، جس ملک کی سرحدیں طے شدہ نہ ہوںوہ کسی اعتبار سے بھی ملک کہلانے کا حقدار نہیں۔