جمہوری آمریت اور آمرانہ جمہوریت- ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

برادرم شیخ رشید ہمیشہ تنقید کرتے ہیں اور ٹھیک ٹھاک کرتے ہیں۔ اگر صرف ٹھیک کہا جائے تو مزا نہیں آتا۔

شیخ صاحب نے ایاز صادق کی برملا اور برمحل تعریف کی ہے۔ شیخ اپنے آپ کو میرا شاگرد کہتا ہے۔ میں نہیں کہتا وہ میرا شاگرد ہے تو پھر پرویز رشید بھی میرا شاگرد ہے۔ یہ مجھے قبول نہیں ہے۔

میری غلطی یا غلط فہمی یہ ہے کہ میں نے پرویز رشید سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ جب وہ وزیر شذیر تھا اور شیخ رشید سے رابطہ ہوا وہ وزیر نہ تھا اور وہ چھ سات مرتبہ وزیر بنا ہے۔ پرویز رشید شاید دو دفعہ وزیر بنے ہیں۔

آپ ایک ہی دفعہ سمجھیں جبکہ دوسری دفعہ انہیں فارغ کر دیا گیا تھا اور یہ کام نواز شریف نے کیا پرویز رشید کے ساتھ خواجہ آصف کو بھی فارغ کیا تھا مگر پھر انہیں باعزت بحال کر دیا گیا۔

ایاز صادق کے لیے شیخ رشید نے تنقید نہیں کی بلکہ تعریف کی ہے۔ شیخ صاحب نے جناب سپیکر کو مبارکباد دی ہے۔ بیان میں ایاز صادق نے کہا تھا ’’کچھ ہونے والا ہے۔ لگتا نہیں کہ اسمبلیاں مدت پوری کریں گی۔ یاد رکھیں کہ ایاز صادق قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو ہو رہا ہے وہ ملک کے لیے اچھا نہیں۔ استعفوں کا بھی خدشہ ہے گریٹر پلان نظر آ رہا ہے۔

بیرونی عناصر بھی کارفرما ہیں۔ اندرونی خطرات ہیں۔ مارشل لا کا امکان نہیں ہے۔ آخری جملے سے مجھے یہ خوشبو آ رہی ہے کہ مارشل لا کا امکان بھی ہے لیکن مارشل لا حقیقی ہو مجازی نہ ہو۔ میں جمہوریت اور آمریت میں کوئی فرق پاکستان میں نہیں سمجھتا۔ جمہوری آمریت اور آمرانہ جمہوریت کے مزے ہم چکھ رکھے ہیں۔

مشرف نے کہا ہے کہ نواز شریف آرمی چیف اور چیف جسٹس کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ کارگل کے معاملے میں نواز شریف نے فوج کی بے عزتی کرائی۔ وہ فوج کے ساتھ ماتھا نہ لگائیں تو اچھا ہے۔ جمہوریت کو چلنے دیں۔

جنرل مشرف نے ایک نجی محفل میں کہا کہ نواز شریف نے ایک دفعہ مجھے کہا کہ میرا نام نواز شریف کی بجائے نواز چیف ہونا چاہیے۔ وہ پاکستان آرمی کو شریف آرمی بنانا چاہتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے ہر دور حکومت میں کوشش کی کہ دونوں پاکستان اور بھارت میں کوئی ’’پرامن‘‘ فوجی معاہدہ ہونا چاہیے۔
بات ایاز صادق کے بیان سے شروع ہوئی تھی ان کے نام کے ساتھ صادق آتا ہے مگر نواز شریف اپنے علاوہ کسی کو صادق اور امین ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے یہ جملے بہت نمایاں اور سنجیدہ ہیں۔ اس لیے کہ وہ قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں اور وہ دو ایک اچھے اور یاد رہ جانے والے سپیکرز میں سے ہیں۔ ان کے اس جملے پر خاص طور سے غور کرنا چاہیے۔

لگتا نہیں کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔ ایسے میں ’’دھرنا فیم‘‘ وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے ’’اپوزیشن کے منہ کو خون لگا ہوا ہے۔‘‘ وہ یہ تو بتائیں کہ یہ خون کس نے بہایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق ہی نگران حکومت قبول کریں گے۔ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ نگران حکومت آئین کے مطابق ہے یا نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ نگران حکومت طویل مدت کے لیے ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ برادرم احسن اقبال کو مستقل نگران وزیراعظم مقرر کر دیا جائے۔ وہ سب کچھ سنبھال لیں گے۔ وزیراعظم بھی تو نگرانی کا کام ہی کرتا ہے۔

شاہد خاقان عباسی ہمارے وزیراعظم ہیں اور وہ بہت شریف آدمی ہیں۔ پہلے کہا گیا تھا کہ وہ عارضی وزیراعظم ہیں۔ کچھ مدت کے بعد مستقل وزیراعظم آئیں گی اور امید ہے کہ وہ آئندہ وزیراعظم ہوں گی۔ اس سلسلے میں محترمہ کلثوم نواز کا نام سننے میں آیا تھا۔

مریم نواز نے ان کی زبردست الیکشن مہم بھی اسی طرح چلائی تھی کہ وہ آئندہ وزیراعظم ہوں گی۔ ورنہ مریم نواز خود الیکشن لڑتیں۔ ابھی نواز شریف نہیں چاہتے تھے کہ مریم نواز کو وزیراعظم بنوایا جائے۔

اس سلسلے میں خاندانی بلکہ گھریلو حکومت پر زبردست تنقید کا خدشہ تھا۔ میرے خیال میں اس کے لیے موزوں آدمی چودھری نثار اور ایاز صادق ہیں۔

اب شیخ رشید نے ایاز صادق کی تعریف کر دی ہے تو ممکن ہے کہ کوئی خدشہ نواز شریف کے دل میں پیدا ہو گیا ہو۔ چودھری نثار کا نام بھی اس سلسلے میں اضافی ہے ورنہ وزیراعظم خاقان عباسی کی بجائے چودھری نثار وزیراعظم ہوتے۔ وہ ہوتے تو سیاسی سماجی معاشی صورتحال مختلف ہوتی۔ یعنی بہتر ہوتی۔ کاش کبھی تو ایسا ہو۔ ہمارے سیاستدان ایسا چاہتے ہی نہیں۔ نواز شریف کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ان کی ن لیگ میں کوئی اور بہتر آدمی نہیں۔