مقلد اور طالب علم - ضیغم قدیر

مطالعے کی دنیا میں پہلی قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو صرف ایک ہی قسم کی سوچ کو پڑھتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک دوسری سوچ کے لوگوں کو پڑھنا اپنے نظریات کو غلط ثابت کرنے کے مترادف ہوتا ہے. ایسے لوگوں کی مثال اس اندھے جیسی ہے جس کے مطابق یہ دنیا فقط اندھیر نگری ہے، یہاں کوئی چنگاری وجود ہی نہیں رکھتی، یا پھر اس بہرے جیسی جس کے ذہن میں ہے کہ ہمارے کان فقط ایک ایکسٹینشن کی طرح ہیں، ان کا کوئی بھی کام نہیں۔

ان میں ہمارے مدارس کے وہ طلبہ بھی آتے ہیں جو فقط اپنی فقہ کی کتابیں پڑھتے ہیں اور دوسری فقہ کو پڑھنا کفر سمجھتے ہیں یا پھر وہ سائنس کے طلبہ جو فقط سائنس پڑھتے ہیں اور یوں وہ سائنس کی اندھی راہوں کو ہی سچ مان لیتے ہیں. یا پھر جماعت اسلامی کے لوگ جو مودودی رح کے علاوہ کسی اور کو نہیں پڑھتے (گو مودودی رح ایک پرفیکٹ رائٹر ہیں مگر دوسری سوچ سوال اٹھانے کی تحریک دیتی ہے)

یہ سب لوگ اپنے اپنے رائٹرز کے مقلد ہوتے ہیں، مطلب کہ اگر ان کے پیش رو نے کہہ دیا ہے کہ کوا سفید ہے تو انہوں نے بلا تحقیق اس پر یقین کرلینا ہے، یہ فقط لکیر کو ہی راستہ مان کر چلتے رہتے ہیں اور یوں یہ لوگ سوچ کے اس طرف جا ہی نہیں پاتے جو انسانی دماغ کو سوال اٹھانے پہ اکساتی ہے مجبور کرتی ہے!

جبکہ دوسری طرف وہ لوگ آتے ہیں جو سکے کے دو رخ دیکھتے ہیں، جن کے اندر ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کی جستجو ہوتی ہے، وہ ایک طرف کارل مارکس کو پڑھتے ہیں تو دوسری طرف مودودی کو، ایک طرف اوشو کے خیالات دیکھتے ہیں، پھر اسلام کے نامور مصنفین کو پڑھتے ہیں، وہ ایک طرف تو فقہ حنفیہ کی کتاب رکھتے ہیں تو دوسری طرف جعفریہ کی اور پھر غامدی کو پڑھتے ہیں. یہ وہ علم کی متلاشی روحیں ہوتی ہیں جو ایک طرف پریکٹیکل فزکس کو پڑھتے ہیں تو وہیں تھیوریٹیکل کو بھی جو کہ پریکٹیکل کی ایک طرح سے نفی ہے. یہ علم کے مسافر جب مطالعہ کرتے ہیں تو پھر اکیلا نظریہ ارتقا نہیں پڑھتے بلکہ وہ نظریہ وجود کو بھی پرکھتے ہیں اور اس طرح یہ علم کے مسافر صحیح اور غلط دونوں کا ادراک کرلیتے ہیں، اور طالب علم کے درجے پہ پہنچ جاتے ہیں جو اندھی تقلید کا مسافر نہیں ہوتا، بلکہ سوال اٹھانے والی روح ہوتا ہے، جس کا دماغ ایک بات کو اس لیے سچ نہیں مانتا کہ اس کے آباؤ اجداد نے اسے سچ سمجھا، بلکہ وہ اسے سچ اس لیے مانتا ہے کیونکہ یہ اس کی سوچ کو غلط نہیں لگی، اس کی سکیپٹیکل اپروچ اسے سچ گردانتی ہے، جبکہ دوسری طرف مقلد تقلید کی اندھی راہوں پہ ہی اندھیرے کو سچائی مان کر سچ کی روشنی کو دیکھے بغیر ہی جہان فانی کو کوچ کر جاتے ہیں.

اب یہ آپ کی مرضی ہے کہ آپ نے طالب علم بن کر تحقیق کی راہوں پہ بھٹکتے ہوئے یہ جہان چھوڑنا ہے یا پھر اندھا مقلد بن کر لکیر کو راستہ سمجھتے ہوئے. فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے