خواب خواب ہی رہے گا - مولانا محمد جہان یعقوب

آزاد و خودمختار یہودی ریاست کا قیام یہود کا سب سے بڑا خواب ہے، جس کی تکمیل کے لیے اپنے ضرب المثل بخل کے باوجود وہ اپنے خزانوں کے منہ کھول دیتے ہیں. آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے زن، زر اور زمین کو اس امت کا سب سے بڑا فتنہ یوں ہی قرار نہیں دیا. آج یہود کی خوشنودی کے حصول کے لیے امریکا کے عیسائی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے اور وہاں امریکی سفارت خانہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کے جواب میں مسلم دنیا میں اشتعال کی لہردوڑگئی ہے. سخت موقف اور مذمتی بیانات کے علاوہ نہ کسی ملک نے امریکی سفیر کو ملک سے نکالا ہے اور نہ ہی اسرائیل کا معاشی مقاطعہ کیا ہے. فلسطین میں انتفاضہ کی تحریک میں جو شدت دیکھنے میں آ رہی ہے، تو یہ بھی ان نہتے مسلمانوں کا دل گردہ ہے، ورنہ مسلم ممالک کی انھیں اخلاقی حمایت ہی حاصل ہے۔ اور بس! مسلم ممالک کا عسکری اتحاد بھی ایک قدم آگے بڑھاتا ہے تو کوئی نادیدہ قوت یا مجبوری اسے چار قدم پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ بیشتر مسلم ممالک یہودی قرضوں میں گھٹنوں گھٹنوں دھنسے ہوئے ہیں، مشرق وسطیٰ کے مسلم فرماں رواؤں کی عیاشی و تن آسانی نے انھیں عزم و ارادے اور فیصلہ و عمل کی آزادی سے محروم رکھا ہوا ہے۔ لے دے کر ایک طیب اردگان ہیں، جنھوں نے اہل اسلام کا بھرم قائم رکھا ہوا ہے۔

افغانستان سے امارت اسلامیہ کا خاتمہ، عراق میں جارحیت اور وہاں یہود نواز حکومت کا قیام، یمن و شام میں شبِ خون، مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کا خاتمہ اور اخوان کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے اور موت کی سزائیں، دنیا بھر میں ''جہاد'' و ''مجاہد'' کو گالی بنایا جانا، مدارس کی حریتِ فکر کو سلب کرنے کی کوششیں، مسلم ممالک میں اسلام کے نام پر ذہنی ارتداد کی تحریکوں کی پشت پناہی، سب کے پیچھے ہمیں یہودی سازش اور پیسا نظر آتا ہے۔ بلکہ تھوڑا اور پیچھے جائیے تو خلافت عثمانیہ کے سقوط میں بھی شاطرانہ یہودی گریٹ گیم کا حصہ معلوم ہوتی ہے، جس کا یہود خود بھی اعتراف کرتے رہے ہیں۔

2013ء میں اسرائیلی وزیر دفاع نے بیان دیا تھا: سلطان عبدالحمید کی حکومت کا خاتمہ ہم نے کیا تھا۔ یہ سلطنت عثمانیہ کے واحد غیور حکمران تھے، جو یہودی عزائم کی راہ میں رکاوٹ تھے، چنانچہ اسی جرم میں یہودیوں نے ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے لیے یہودیوں نے اپنا روایتی' پروپیگنڈے کا ہتھیار' استعمال کیا، عوام کو خلیفہ کے خلاف اکسایا، سول نافرمانی کی سی صورتِ حال پیدا کی، جس کے نتیجے میں سلطان کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ: اس وقت تک فلسطین خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا۔ پورے فلسطین میں کسی جگہ کوئی یہودی بستی موجود نہیں تھی۔ سلطنتِ عثمانیہ نے پابندی لگا رکھی تھی کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں رہنے والے یہودی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے وزٹ ویزے پر فلسطین آ اور چند روز قیام کر سکتے ہیں، لیکن انھیں فلسطین میں زمین خریدنے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، کیوں کہ خلافت کے علم میں یہ بات تھی کہ یہودی فلسطین میں بتدریج آباد ہونے اور اس پر قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تاکہ وہ اسرائیل کے نام سے اپنی ریاست قائم کر سکیں۔

سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے، خلافت سے دست برداری کے بعد جو اپنی یادداشیں مرتب کیں، ان میں لکھا ہے: یہودیوں کی عالمی تنظیم کے سربراہ ہرتزل نے متعدد بار مجھ سے خود ملاقات کر کے خواہش ظاہر کی کہ وہ فلسطین میں زمین خرید کر محدود تعداد میں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں، مگر میں نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ پھر کہا کہ آپ ہمیں ایک اعلیٰ سطحی یونیورسٹی قائم کرنے کی اجازت دیں، میں نے کہا کہ اس کی بھی صرف ایک صورت میں اجازت ہے، کہ یہ یونیورسٹی فلسطین کے علاوہ کہیں بھی بنائی جائے، کیوں کہ مجھے اندازہ تھا کہ وہ اس یونیورسٹی کو بھی یہودی آباد کاری کے لیے وسیلے کے طور پر استعمال کریں گے۔ سلطان نے لکھا ہے: ایک بار ہرتزل نے میرے سامنے چیک بک رکھ کر منہ مانگی رقم دینے کی پیشکش بھی کی، جس کے جواب میں مَیں نے انتہائی تلخ لہجے میں ہرتزل کو ڈانٹ دیا اور اس سے کہا کہ میری زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہی تھا وہ جرم، جس کی پاداش میں سلطان کو خلافت سے معزول کرکے نظر بند کر دیا گیا۔ ان کو خلافت سے معزولی کا پروانہ پہنچانے والوں میں ترکی کی پارلیمنٹ کا یہودی ممبر بھی شامل تھا۔ سلطان کے بعد جو بھی عثمانی امرا آئے، وہ نرم روی سے چلتے رہے، یہاں تک کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔

خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد فلسطین کو برطانیہ نے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور برطانوی گورنر کی زیرنگرانی یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا، دنیا کے مختلف حصوں سے یہودی آتے اور فلسطین میں زمین خرید کر آباد ہو جاتے۔ اس موقع پر سرکردہ علمائے کرام نے صورت ِ حال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے یہ فتویٰ دیا کہ چونکہ یہودی فلسطین میں آباد ہو کر بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی ریاست قائم کرنے کے خواہش مند ہیں، اس لیے یہودیوں پر فلسطین کی زمین فروخت کرنا شرعا ًجائز نہیں، لہٰذافلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اراضی یہودیوں کو فروخت نہ کریں۔ حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی کی کتاب ''بوادر النوادر'' میں اس موضوع پر خود ان کا تفصیلی فتویٰ بھی موجود ہے۔

علمائے کرام کی یہ مہم کارگر نہ ہوئی۔ اس کی جوہری وجوہ یہ تھیں:
اول: حکومت کے ہم نوا علمانے عوام کو باور کرایا کہ حضرت مہدی کے آنے کا زمانہ قریب ہے اور وہ یہودیوں کو ویسے بھی فلسطین سے بےدخل کر کے تمھاری اراضی تمھارے حوالے کر دیں گے، اس لیے انھیں اپنی اراضی فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں، چند دن کی بات ہے، تمھیں یہودیوں سے رقم تو مل ہی رہی ہے، زمین بھی واپس تمھیں مل جائے گی۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ یہودی دگنی تگنی قیمتوں پر زمینیں خرید رہے تھے۔

اب مسلم اکثریتی فلسطین کے بیشتر علاقوں پر یہودی قابض ہیں۔ مسجد اقصیٰ،جو انبیائے بنی اسرائیل کے سجدوں کی گواہ ہے، یہود بےبہبود کے پنجۂ استبداد میں ہے، وہاں مسلمانوں کو داخلے اور دینی رسوم تک ادا کرنے کی اجازت نہیں۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.