دور حاضر کا طاغوت - عادل لطیف

قرآن کریم میں مختلف مقامات پر طاغوت کی عبادت سے اجتناب اور انکار کی تعلیم دی گئی ہے.

موجودہ دور میں طاغوت ایک ہمہ گیر صورت اختیار کر چکا ہے، اس نے پوری انسانیت کو اپنے شکنجہ میں جکڑ لیا ہے. طاغوت کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ حق کو دھوکہ دینے کے لیے اپنے چہرے بدلتا رہتا ہے چنانچہ اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ طاغوت کو اس کی ہر صورت میں پہچاننے اسے سمجھنے کی اہلیت پیدا کریں. مسلمانوں کے لیے یہ دور بالخصوص عہد حاضر کا سب سے بڑا مذہبی، علمی اور تہذیبی چیلنج ہے.

طاغوت کی ایک صورت تو بت پرستی کی ہے جو ہر دور میں موجود رہی ہے. بت پرستی سے مسلمانوں کی نفرت فطری ہے کہ ان کے لیے بتوں کے سامنے سجدہ ریزی کا منظر سب سے زیادہ مکروہ منظر ہے. ہر مسلمان چاہے عمل کے اعتبار کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، طاغوت کی اس صورت کا برملا انکار کرنے میں اسے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی.

طاغوت کی دوسری صورت نفس پرستی کی ہے کہ ہر وقت نفس کی بےلاگ خواہشات کے پورا کرنے کی فکر غالب ہو. خواہشات نفسانی کی تسکین اور مادی دنیا کی لذتوں سے آخری حد تک استفادہ، یہ نفسانی، شہوانی بتوں کی خوب صورت شکل میں پرستش کی بدترین شکل ہے، اگرچہ طاغوت کی اس صورت سے نفس کے غیر معمولی مجاہدات کے بغیر بچاؤ مشکل ہے، لیکن طاغوت کی اس صورت کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں مبتلا شخص کو اپنی کمی کوتاہی کا ادراک ضرور ہوتا ہے اور جب بھی ندامت کے دو آنسو بہاتا ہے اس کے جرم خانہ خراب کو عفو بندہ نگاہ میں پناہ ملتے دیر نہیں لگتی.

طاغوت کی تیسری صورت جو اس دور کا خاصہ ہے وہ جدید مادی نظریات ہیں جن پر مغربی تہذیب کی عمارت قائم ہے. یہ تہذیب ایک نئے معبود کی صورت میں سامنے آئی ہے.
اس تہذیب کی پشت پر انکار خدا، انسان اور تخلیق کائنات کے بارے میں خالص ملحدانہ نظریات کار فرما ہیں اس لیے یہ مادی تہذیب ملحدانہ نظریات کا طوفان بھی اپنے ساتھ لائی ہے. جس طوفان میں ہماری جدید نسلیں خس وخاشاک کی طرح بہتی جارہی ہیں. طاغوت کی یہ سب سے خطرناک صورت ہے، جو اس دور میں پیدا ہوئی ہے. عام لوگوں کو تو رہنے دیں خواص بھی اس کی سنگین نوعیت کو پہچاننے سے قاصر ہیں.

یہ بھی پڑھیں:   میں اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر سکتا - رضوان اسد خان

جدید مغربی تہذیب کے نظام تعلیم کے غلبے کی وجہ سے نسل نو کے ذھن میں اسلام کے تصور الہ، تصور علم، تصور انسان، تصور نجات پر عقلیت کے غلبہ کا تصور حاوی ہوچکا ہے. یہی وجہ ہے کہ اس تعلیمی نظام سے استفادہ کرنے والوں میں ایک طبقہ ایسا ہے جو انسانی مسائل کے حل کے لیے وحی کے ذریعے ہونے والی رہنمائی کے بجائے سارے اجتماعی مسائل کے حل اور ریاستی نظام کی تشکیل میں عقلیت اور سیکولرازم کو ضروری سمجھتا ہے. ایک گروہ ایسا ہے جو ڈارون کے نظریہ ارتقا کو صحیح سمجھتا ہے کہ انسان اللہ کی تخلیق کا شاہکار نہیں بلکہ وہ بندر کی ارتقا یافتہ صورت ہے. ہمارے سارے مؤثر اور جدید طبقات مغربی افکار اور مغربی تہذیب سے نہ صرف مرغوب ہیں، بلکہ وہ اس پر فریفتہ بھی ہیں. وہ کاروبار، تجارت معاشرت اور اجتماعی معاملات میں اسلامی تعلیمات کو کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں.

اس کا سبب یہ ہے کہ یہ طاغوت مسلمانوں کو اپنے اسلامی نام تبدیل کرنے، اس کے نام کا کلمہ پڑھنے یہاں تک کہ ذاتی زندگی میں عبادت کی راہ میں بھی رکاوٹ نہیں ہے. اس کا کہنا ہے کہ اپنی روح کی تسکین کے لیے زندگی کے محدود دائرہ وگوشہ میں اوراد وظائف جس طرح بھی کرنا چاہتے ہیں اس کی تمہیں اجازت ہے، لیکن اجتماعی ومعاشرتی معاملات سیکولرازم پر ہی استوار ہوں گے. اس طرح مغربی تہذیب ایک طاقتور طاغوت کی صورت میں ہمارے لیے سب سے بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے.

طاغوت کی یہ بدترین شکل سارے عالم اسلام پر مسلط کر دی گئی ہے جو سب سے بڑی المناک صورتحال ہے.
مدارس سے وابستہ علمائے کرام اس سلسلے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کرسکتے اس لیے کہ ان کے تعلیمی نظام میں جدید طاغوت کی فکری وعلمی بنیادوں کے فہم کی کوئی صورت موجود نہیں ہے.

یہ بھی پڑھیں:   اکیسویں صدی کے صحرا نشین - شبیر بونیری

ملت کو طاغوت کی اس بدترین صورت سے نجات دلانے کے لیے اسلامی فکر کے حامل ایسے افراد درکار ہیں جو جدید ذہنی وعلمی صلاحیتوں سے مالا مال ہوں اور اپنے تہذیبی ورثہ یعنی روحانی صلاحیتوں سے بھی بہرہ ور ہوں وہی افراد اس سلسلہ میں کوئی مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں.