اسرائیل کا گریٹر پلان کیا ہے؟ نعمان بخاری

مقبوضہ فلسطین کےاس سارے قصے میں آپ کو کوئی یہ نہیں بتا رہا ہوگا کہ اسرائیل کا گریٹر پلان کیا ہے؟

اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ وہ اردن اور بحیرہ روم کے درمیان (موجودہ اسرائیل+ فلسطین) اتنے یہودیوں کو آباد کرے کہ وہ عددی برتری حاصل کریں اور ایک ڈیموکریٹک حکومت بنائے جو کہ ماڈرن دنیا کو چار و ناچار قبول ہو۔ اس لیے اسرائیلی حکومت یورپ سے آنے والے تمام یہودیوں کو اسی دن اسرائیل کا شہری تسلیم کرتی ہے۔ نہ صرف انھیں شہریت دی جاتی ہے بلکہ ان کو اسرائیل آنے کے لیے مفت ائیر ٹکٹ، ماہانہ الاؤنس اور کچھ عرصے کے لیے مفت مکانات دیے جاتے ہیں۔ اگر وہ پراپرٹی خریدنا چاہیں تو ان کے لیے عرب یہودیوں سے زیادہ ڈسکاؤنٹ ہوتا ہے۔

اس وقت اس خطے کی آبادی لگ بھگ 85 لاکھ ہے، جس میں یہودیوں اور مسلمانوں کا تناسب آدھا آدھا ہے۔ اسرائیلی حکومت چاہتی ہے کہ آئندہ دس، پندرہ سالوں میں 30 سے 40 لاکھ باہر سے آنے والے یہودی اسرائیل میں آباد ہوں تاکہ عرب ان کے مقابلے میں کم ہو جائیں۔ اس منصوبے کے ایک اسرائیلی رہنما اور ابزارپشن پلان (the absorption plan) کے مولف ڈؤ میئمن کا کہنا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں مسلمانوں کی شرح پیدائش کم ہو رہی ہے اور اسرائیلی زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہر سال اسرائیل آنے والے یہودیوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے مطابق یہ تعداد 30 ہزار سالانہ تک جا پہنچی ہے اور اس میں مزید اضافہ ہوگا۔

ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس کے مطابق اگر چارلی ایبڈو جیسا (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے اور پھر اس پر مسلمانوں کے حملے والا واقعہ) ایک اور واقعہ پیش آئے تو اسرائیل آنے والے یہودیوں کی تعداد میں انتہائی اضافہ ہو سکتا ہے۔ شاید یہ دعوی بھی صحیح ہو کہ یہودی اپنے وسائل استعمال کرکے دانستا ایسے واقعات کا سامان کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حماس کی اسرائیل کے خلاف تازہ فتح کیسے ممکن ہوئی؟ عبدالمنعم

آخری بات کہ جو یہودی اسرائیل آتے ہیں، ان کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ بہت سارے اچھی زندگی کے گزارنے کے خیال سے جاتے ہیں، کچھ اسرائیل پروٹیکشن فورس میں شامل ہونے کے لیے آتے ییں اور کچھ ان میں ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ فلسطین میں آباد ہونا خدا کا حکم سمجھتے ہیں کہ کئی صدیوں بعد یہیں سے سلطنت یہود پھر سے ابتداء ہوگی۔ا