اولاد کے ساتھ دوستی، ضروری ہوتی ہے - میاں جمشید

بات یہ ہے دوستو کہ ہر بچہ یا نوجوان تعریف و حوصلہ پانے کو یا اپنا مسئلہ بیان کرنے کے لیے والدین، اساتذہ، یا پھر دوست و احباب کو ہی اپنے قریب پاتا ہے۔ اچھا تو یہی ہوتا ہے کہ پہلے اپنے گھر میں ہی بات کو ڈسکس کیا جائے، لیکن جن والدین کا اپنے بچوں ساتھ دوستانہ رویہ نہیں ہوتا تو پھر اکثر نوجوان اپنی بات بتاتے ہوے گھبراتے اور گھر سے باہر رجوع کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہاں سے ہی شروع ہوتا ہے۔

ہمیں یہ بات سمجھنی ہو گی کہ فطری ضرورت کے تحت ہر فرد اچھے کام پر تعریف اور کسی پریشانی کی صورت میں حل چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اسے سراہنے والا ہو یا کوئی ڈھارس بندھانے والا ہو۔ اب اگر تو اسے ایسا کوئی اپنے گھر میں امی، ابو، بہن، بھائی، شوہر یا بیوی کی صورت میں مل جاتا ہے تو حالات ٹھیک ہو جاتے لیکن جب گھر والے پوری توجہ نہ دیں، ڈر والا ماحول ہو، ضرورت سے زیادہ سختی ہو تو پھر ایسے لوگوں کے ہتھے چڑھ جانے کے بہت امکان ہوتے جو تعریف کرنے، حوصلہ دینے یا کندھا دینے کی اکثر بہت بری اور گھٹیا قیمت وصول کرتے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہو کہ تمام والدین آجکل کے ماحول میں اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں، ان سے پیار والے لہجہ میں مسئلہ و پریشانی پر بات کریں اور صرف غصّے کی بجائے حل تلاش کرنے میں ساتھ دیں۔ اسی طرح بچے ہو یا نوجوان، ان کی اچھے کاموں میں ضرور تعریف کریں اور حوصلہ دیں۔

بات سمجھ آ جائے تو میرے نوجوان دوستو! کچھ بھی ہوا ہے اور ڈر بھی لگ رہا ہے تو بھی رب کا نام لے کر اپنے ابو یا امی ہمت سے بتا دیں اور آنکھیں کھول کر پڑھ لیں کہ اپنوں کو صرف گھر میں تلاش کیا کریں کہ فیس بک پر، کلاس روم میں، اکیڈمی میں، دفتر میں، ہمسائے میں یا پھر کچھ کزن ایسے ہمدرد بہروپیے ہوتے جواکثر آسمان پر چڑھا کر پھر پاؤں تلے زمین کھینچ لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بیٹیاں اور ان کے ساون کے اندھے ورثاء - محمد سلیم

میاں جمشید، زندگی کے مشکل حالات کا مسکرا کر مقابلہ کرنے کے ساتھ رسک لینے اور ہمت سے آگے بڑھتے رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔ کچھ نیا و منفرد کرنے اور سیکھنے و سکھانے کا شوق بھی ہمیشہ ساتھ ساتھ رہا ہے اسی لیے اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ مختلف معاشرتی موضوعات پر اصلاحی اور حوصلہ افزاء مضامین لکھتے ہیں۔ اسی حوالہ سے ایک کتاب "حوصلہ کا گھونسلا" کے مصنف بھی ہیں۔ان سے فیس بک پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔