"بِٹ کوائن" آخر ہے کیا ؟ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

تازہ خبر یہ ہے صاحب کہ بِٹ کوائن سوا سترہ ہزار ڈالر کا ہندسہ عبور کرگیا۔ یعنی ایک بِٹ کوائن حاصل کرنے کے لیے آج کی تاریخ میں اتنی رقم درکار ہوگی۔ کسی عام آدمی کے لیے جہاں یہ خبر کچھ خاص معنی نہیں رکھتی، تو کچھ ایسے ہیں جو اس سے خاصے دلبرداشتہ ہیں۔ قسمت کی دیوی ان کے گھر آتے آتے ایک گلی پہلے مڑ گئی۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ یہ قیمت آٹھ ہزار ڈالر تھی، تب خریداری کر لی ہوتی تو آج رقم دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہوتی۔ یہ سوچ کر دلبرداشتہ ہونے والے ان کا حال بھی دھیان میں رکھیں جو اس وقت خریداری نہ کر سکے جب یہ صرف 14 ڈالر کا تھا۔ یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں کیونکہ خود بِٹ کوائن بھی تو قریب آٹھ سال قبل 2009ء میں ہی سامنے آیا۔

یہ بِٹ کوائن آخر ہے کیا؟ ان دنوں اس کے متعلق اس تواتر سے لکھا جا رہا ہے کہ بیشتر قارئین اس سے بخوبی واقف ہوں گے۔ جو دوست اس کی آگہی نہیں رکھتے ان کے لیے عرض ہے کہ یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی کا نام ہے۔ اس میں اور عام کرنسی میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اس کی کوئی "ٹھوس" شکل نہیں۔ نہ اس کے سکے ہیں اور نہ ہی کاغذ کے نوٹ۔ جہاں عام کرنسی اور ڈیجیٹل کرنسی میں یہ مماثلت ہے کہ دونوں کی ترسیل ڈیجیٹل طریقہ، جیسا کہ آن لائن ٹرانسفر وغیرہ سے ہوتی ہے وہاں یہ فرق واضح ہے کہ بٹ کوائن کا وجود بھی ڈیجیٹل سگنلز تک ہی محدود ہے۔ تاہم بِٹ کوائن حاصل کرنے کے لیے آپ کو روایتی کرنسی کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ جتنے یونٹ خریدنا ہوں ان کی مالیت کے برابر رقم بذریعہ کریڈٹ کارڈ اس سسٹم میں داخل کرنا ہوتے ہیں اور اتنے بِٹ کوائن آپ کے "والٹ" یعنی آن لائن کھاتہ میں جمع ہو جاتے ہیں۔

بِٹ کوائن اپنی نوع کی کوئی واحد کرنسی نہیں، لیکن اس وقت یہ اپنی فی یونٹ مالیت اور کاروباری قبولیت کے اعتبار سے دیگر سب کرنسیوں سے بہت آگے ہے۔ اس طرح کی کرنسیوں کو "کرپٹوکرنسی" کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی تشکیل ، سٹوریج اور ترسیل کے لیے کرپٹوگرافی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ یعنی یہ سب سلسلہ ایسے پروگرامز اور سسٹمز سے چلایا جاتا ہے جس میں خفیہ/پیچیدہ کوڈز کا وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے تاکہ رقم کی ترسیل اور اس کے استعمال اور حساب و کتاب کو مربوط اور کسی بھی بیرونی دستبرد سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بِٹ کوائن کے پشت پناہ اس کے "محفوظ" ہونے کو اس کے قابل بھروسہ ہونے کی سب سے بڑی گارنٹی بتاتے ہیں۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا یہ کرنسی 2009 میں سامنے آئی او "ساتوشی ناکاموتو" کو اس کا موجد بتایا گیا۔ ساتوشی ناکاموتو کون ہے؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔ کیا یہ ایک فرد ہے ، چند افراد ہیں یا کوئی باقاعدہ ادارہ جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور معاشیات کے ماہرین کام کر رہے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں کو ہنوز پردہ میں ہیں۔ گویا کرپٹوکرنسی کے خالق بھی "کرپٹو" (خفیہ) ہیں۔

اس کرنسی کے متعلق جو باتیں اس کے حق میں کہی جاتی ہیں وہ کچھ یوں ہیں کہ یہ تکنیکی لحاظ سے اس قدر مضبوط پلیٹ فارم پر قائم ہے کہ اس میں کسی قسم کی گڑبڑ نہیں ہو سکتی۔ اس پر کسی حکومت یا سرکاری ادارے کا کنٹرول نہیں اس لیے اس میں سرمائے پر کنٹرول کی کسی پالیسی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اس کی قدر بھی برقرار رہے گی کیونکہ اول تا آخر اس کے کُل دو کروڑ دس لاکھ یونٹ ہی بنیں گے اور اس کے بعد مزید بٹ کوائنز کی تشکیل نہیں ہو گی۔ نیز یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی لحاظ سے بھی غیر قانونی نہیں کیونکہ اس کے استعمال پر کسی قسم کا ملکی یا بین الاقوامی قدغن دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ اب تو بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں بِٹ کوائن کی صورت ادائیگیاں قبول کرنے لگی ہیں۔ اس سب کے علاوہ جو ایک اور بہت "پرکشش" نکتہ اس کرنسی کے حق میں پیش کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے استعمال میں آپ کو نہ تو اپنی شناخت ظاہر کرنا ضروری ہے اور نہ ہی ذریعہ آمدنی یا اس رقم کے سورس کے بارے میں کچھ بتانے کی ضرورت ہے جس کی ترسیل آپ کرنا چاہتے ہیں۔

اب آئیے ایک نظر ان اعتراضات پر بھی ڈال لیں جو بِٹ کوائن اور ایسی دوسری کرنسیوں پر کیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے وہی بات لے لیجیے کہ اس کے لیے نہ ذاتی شناخت کی ضرورت ہے نہ اس رقم کا ذریعہ بتانے کی۔

اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کس طرح کے لوگوں کے لیے یہ ایک ترجیحی آپشن بن سکتی ہے۔ نہ صرف یہ کہ کالے دھن کی منتقلی اور اسے چھپانے کا ایک نیا ذریعہ بن جانے کا پورا سامان یہاں موجود ہے ، بلکہ ایک طرح سے اس کی دعوت عام ہے۔ اس وقت آف شور کمپنیوں کے حوالہ سے جو حالات ہیں ان میں یہ مخصوص طبقات کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ ثابت ہو سکتی ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ بات کہ طلب و رسد کے قانون کے تحت اس کی قدر بڑھتے رہنے کے امکان سے اس میں سٹے بازی کا رجحان بھی بڑھے گا اسے اور مہمیز دیتی ہے۔ جیسا کہ اس وقت بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میکانزم کو سمجھنے کے لیے اسٹاک مارکیٹ کا نظام دیکھیے، بالخصوص ہمارے یہاں۔ حصص بازار بظاہر یہ ایک قانونی نظام سرمایہ کاری ہے لیکن یہاں پر جس طرح مارکیٹ بڑھائی اور گرائی جاتی ہے اس سے یہ سرمایہ کاری کے بجائے سٹہ بازی کا میدان بن جاتی ہے۔ خود ہی قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں اور ہھر اچانک گرا کر اپنی رقم محٖوظ کر لی جاتی ہے اور اس سب میں مارے جاتے ہیں تاخیر سے آنے والے وہ چھوٹے سرمایہ کار جو کچھ اپنی لالچ اور کچھ ضرورت کے تحت چڑھتی مارکیٹ میں اپنی جمع پونجی لگاتے ہیں لیکن بڑے کھلاڑی ان کی رقم پر اپنا کھیل کھیل جاتے ہیں اور نقصان سب کا سب ان کے حصہ آ جاتا ہے۔ اب چونکہ یہ سب بظاہر تو ایک قانونی چھتری تلے ہو رہا ہے اس لیے یہ بیچارے اپنی رقم لُٹوا کر چپ چاپ گھر واپس آ جاتے ہیں۔ انہیں کبھی فائدہ تو نہیں ملتا ہاں البتہ کوئی نا کوئی جان لیوا روگ ضرور ساتھ لگ جاتا ہے۔ لگ بھگ یہی معاملہ بِٹ کوائن کے ساتھ بھی ہے۔ اس کی قدر میں اتار چڑھاؤ کا پچھلا گراف دیکھا جائے تو یہی کھیل وہاں بھی ہے۔ اگر اس پر کسی کا کنٹرول نہیں تو اس کے متعلق پھر جوابدہ بھی کوئی نہیں ہے۔ بغیر وارنٹی موبائل فون یا لیپ ٹاپ کی طرح۔ چل گیا تو چل گیا ورنہ سب فارغ!

یہ کہا تو جاتا ہے کہ کل ملا کر دو کروڑ دس لاکھ "ساتوشی" (بِٹ کوائن کا ایک یونٹ) جاری کیے جائیں گے جس سے اس کی قدر محفوظ رہے گی لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ ہر ایک ساتوشی کے دس کروڑ سب یونٹس بھی ہیں جس سے اس کی قدر ابھی بہت جلد مستحکم نہیں ہو گی اور مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گی۔ آخری اور سب سے اہم بات۔ ہر کرنسی کی کچھ بنیاد ہوتی ہے۔ دنیا کی بیشتر کرنسیاں ڈالر کے ساتھ کسی نا کسی صورت منسلک ہیں اور ڈالر کی قدر اس بات سے وابستہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کا تمام لین دین صرف اور صرف ڈالر میں ہو گا۔ چناچہ ڈالر کی ضرورت ہر وقت ہر جگہ موجود رہتی ہے۔ جس کرنسی کی بنیاد محض منافع اور رازداری ہو اس سے عام آدمی کا کچھ لینا دینا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ سب اسے گھیرنے کا جال ہے۔ یہ مگرمچھوں کا کھیل ہے ، خود کو ان کا چارہ بنانے میں کوئی سمجھداری نہیں۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.