جمعہ کلچر کا خاتمہ - کاشف حفیظ صدیقی

۱۲ ربیع الاول کو جمعہ کا مبارک دن تھا۔ جمعہ، تمام دنوں کا سردار دن کیونکہ ۱۲ ربیع الاول کا دن بھی تھا اس لیے چھٹی کی وجہ سے طویل عرصہ بعد مسجد جانے کی تمام تر تیاری کی۔ صاحبزادے کو ساتھ لیا اور مسجد رضوان پہنچ گیا۔

پھر ہوا کچھ یوں کہ بچپن کی یادیں، نکھر نکھر کر سامنے آنے لگیں۔ منظر کچھ نہیں بدلا تھا۔ بس کردار بدلے تھے۔ چھوٹے بچوں کا انبوہ عظیم تھا جو ٹولیوں کی صورت میں اپنے دوستوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے اور امام صاحب کی تقریر سے بے نیاز باتوں میں مشغول تھے۔ ہر تھوڑی دیر بعد کوئی بڑا انہیں گھورتا۔ کوئی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش ہونے کا اشارہ کرتا۔ وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوتے اور پھر شروع ہو جاتے۔ یعنی ایک شور تھا جو مسجد میں گونج رہا تھا۔

چھوٹے چھوٹے بچے تیار ہو کر اپنے والد کے ساتھ ٹوپی پہن کر مسجد خوشی خوشی چلے آئے تھے۔ یہ وہ بچے تھے جو عام دنوں میں والد کی عدم موجودگی میں مسجد نہیں آپاتے تھے۔ گویا کہ ہر مسجد میں شورہوتا تھا اور کچھ بڑے ہوتے تھے جو ان کو رضاکارانہ کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتے۔

نماز جمعہ کے بعد کی الگ سرگرمی، کوئی کھیل، گپ شپ، پھلوں کی خریداری، سوشلائزیشن اورجمعہ کے خصوصی کھانے روایات تھیں ۔ مگر ہوا کچھ یوں کہ جمعہ کی چھٹی اچانک سے ختم کر دی گئی۔ کہا گیا کہ اس سے ملک کو معاشی نقصان ہے مگر بظاہر نظرنہ آنے والے مسائل فیصلہ کرنے والوں کی موٹی عقل کو نظر نہیں آسکتے تھے اور وہ نہیں آئے ۔

مگر، اب سب کچھ بدل گیا … اب صورت حال یہ ہے کہ چھوٹے بچے اب جمعہ کو جا نہیں پاتے اس لیے کہ گھر میں ان کے والد نہیں ہوتے۔

دوئم، اسکول کی گاڑیاں ہی ایک بجے نہیں پہنچ پاتیں، یوں جمعہ کی نماز اور اس کی تیاری اکثر رہ جاتی ہے ۔ میں جہاں نماز پڑھتا ہوں وہاں ایسے بچے بہت کم بچے ہوتے ہیں جن کی عمر ۱۰ سال سے کم ہو ۔

اللہ کی خیر و برکت اور رحمت کا پیمانہ نہایت الگ ہے، اس کا کوئی تعلق ظاہری شماریاتی حساب کتاب سے نہیں ۔

اول تو اسلام میں چھٹی کا ہی کوئی تصور نہیں مگر اگر کرنی ہی تو جمعہ کی کیوں نہیں ؟

اہل یہود کی نقل میں ہفتہ اور اہل نصاریٰ کی پیروی میں اتوار کی چھٹی ہو سکتی ہے تو اہل اسلام کیوں نہ ممیز ہونے کے لیے جمعہ کو چھٹی کریں ؟

نواز شریف صاحب کو اپنے ساتھ پیش آنے والے مسائل کی وجوہات کا صحیح ادراک نہیں۔ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے اس کی وجوہات کچھ اور ہیں ۔ یہ اللہ کی لاٹھی ہے اگر وہ کچھ سمجھ سکیں۔

Comments

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی معروف سروے کمپنی پلس کنسلٹنٹ، کراچی کے سربراہ ہیں، اسلامی اور معاشرتی موجوعات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • آپ کی بات سو فی صد درست ہے۔ ہماری پستی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم نمازوں کو عموما اور نماز جمعہ کو خصوصا ترک کرتے جا رہے ہیں۔ اور ہمارے سکول جانے والے بچے تو شاید ہی جانتے ہوں کہ جمعہ کی کتنی رکعات ہوتی ہیں؟ اور ان میں تلاوت جہرا کی جاتی ہے یا سرا؟