مجلس عمل کی بحالی، نتائج کیا نکل سکتے ہیں؟ - محمد عامر خاکوانی

آخرکار متحدہ مجلس عمل یعنی ایم ایم اے باقاعدہ طور پر بحال ہوگئی۔ پانچ دینی جماعتوں کے قائدین نے ایک منشور اور ایک نشان کتاب پرالیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ماہ پہلے ایم ایم اے کی بحالی کے سلسلے میں جو اجلاس ہوا، اس میں مولانا سمیع الحق شامل تھے مگر اس ایک ماہ کے دوران انہوں نے اپنی رائے پر نظرثانی کی اور تحریک انصاف سے سیاسی اتحاد کا فیصلہ کر لیا۔ اس طرح نومولود اتحاد کے لباس پر چھ کے بجائے صرف پانچ نگینے ہی موجود ہیں۔ چھٹا پہلے ہی داغ مفارقت دے گیا۔

ایم ایم اے جب پندرہ برس پہلے بنی اور اس نے 2002ءمیں انتخاب لڑا تو اس وقت اس میں تمام مسالک (دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، اہل تشیع )کی نمائندہ جماعتیں موجود تھیں۔2008ء میں یہ ٹوٹ گیا اور اب نو سال کے بعد دوبارہ بحال ہوا تو محاورے کے مطابق پلوں کے نیچے سے خاصا پانی بہہ چکا ہے۔ دیوبندی مسلک اور مدارس کی ایک اہم جماعت جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) نے پرانے اتحاد کو لفٹ نہیں کرائی۔ اس زمانے میں مولانا شاہ احمد نورانی بریلوی مسلک کے قدآوراور غیر متنازع لیڈر تھے، ان کے بعد جمعیت علمائے پاکستان میں خاصی توڑ پھوڑ ہوئی، تین چار دھڑے بن چکے ہیں، ان میں سے ایک دھڑا اس بار ایم ایم اے میں شامل ہے لیکن عملی طور پر اسے تحریک لبیک یارسول اللہ جیسی پرجوش، تیزی سے ابھرتی جماعت سے مسابقت کا سامنا ہے۔

مولوی خادم رضوی کی شعلہ فشاں قیادت کے سامنے نورانی میاں کے صاحبزادے شاہ اویس یا پیر اعجاز ہاشمی دبے دبے لگتے ہیں۔ پچھلے چند ہفتوں میں سیال شریف کی مشہور گدی کے پیر حمیدالدین سیالوی بھی نمایاں ہوئے ہیں۔ پنجاب کے اہم پیر اور مشائخ صاحبان ان کے گرد جمع ہورہے ہیں، ان میں سے بعض الیکٹ ایبلز بھی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ایک نئی جمعیت علمائے پاکستان کی بنیاد ڈالی جا رہی ہے جس کے پاس قدآور رہنما اور الیکٹ ایبلز امیدوار موجود ہوں گے۔ اسی طرح اہل حدیث مسلک کے سب سے نمایاں لیڈر پروفیسر ساجد میر رہے ہیں، اب انہیں بھی پروفیسر حافظ سعید جیسے شعلہ بیان اور طاقتور شخصیت کی زیرسرپرستی ملی مسلم لیگ جیسی جماعت کی مسابقت کا سامنا ہے۔ویسے تو اہل تشیع میں بھی مجلس وحدت مسلمین الگ جماعت بن کر علامہ ساجد نقوی کے سامنے کھڑی ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بظاہرتو نوزائیدہ ایم ایم اے چاروں مسالک کی جماعت ہے، مگر اس بار اس کی پہلے جیسی متفقہ اور مضبوط پوزیشن نہیں۔ اصلاً یہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ کا اتحاد ہے، باقی تو تانگہ پارٹیاں ہیں، بلکہ آج کی اصطلاح میں چنگ چی رکشہ پارٹیاں سمجھ لیں، ایک فرق کے ساتھ کہ چنگ چی رکشہ میں سات آٹھ سواریاں بیٹھ سکتی ہیں اور بعض چھوٹی جماعتوں کے پاس مختلف حلقوں میں اتنے لوگ بھی نہیں۔

تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی مرضی کا اتحاد بنانے، یا نہ بنانے کا، مکمل حق حاصل ہے۔ یہ سیاست اور جمہوریت کا حصہ ہے، مگر ایم ایم اے جیسا بے جوڑ اتحاد اگر بنے توقدرے حیرت ہونا فطری امر ہے۔ مثال کے طور پر اس اتحاد کی دونوں بڑی جماعتوں کو لے لیتے ہیں۔ جے یو آئی (ف)اور جماعت اسلامی، ان دونوں کے مابین اہم قومی ایشوز پر زمین وآسمان کا فرق ہے۔ دونوں جماعتیں اکثر ایشوز پر ایک دوسرے کی متضاد سمت میں کھڑی ہیں۔ جماعت اسلامی پاناما سکینڈل آنے کے پہلے دن سے ان تمام لوگوں کے احتساب کا مطالبہ کر رہی ہے، وہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے احتساب کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیس لے کر گئی۔ میاں نواز شریف کی عدالتی فیصلے سے نااہلی کا اس نے خیر مقدم کیا ۔جماعت اسلامی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے بھرپور انداز میں پاناما میں ملوث ہر پاکستانی کے احتساب کا ایشو اٹھایا، اگر سول سوسائٹی اور تحریک انصاف جیسی دیگر جماعتیں اس کا ساتھ دیتیں تو آج دیگر مگرمچھوں کا احتساب بھی ہو رہا ہوتا۔ جماعت اسلامی کے اس بھرپور اصولی موقف کے برعکس مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت نے مسلم لیگ ن کا کھل کر ساتھ دیا۔ ن لیگ کی کابینہ سے اپنے وزیر نہیں نکالے، عدالتی فیصلے کی یہ مذمت کرتے رہے اور عملی طور پر فضل الرحمٰن صاحب کا رویہ” مٹی پاؤ“والا رہا۔ جماعت اسلامی اپنے انفرادی جلسوں میں بار بار کرپشن اور کرپٹ افراد کے احتساب کی بات کرتی ہے، تاہم ایم ایم اے کا حصہ ہونے کی صورت میں جماعتی رہنما کس منہ سے پاناما سکینڈل، آف شور کمپنیوں والے لوگوں کے احتساب یا لوٹی دولت واپس لانے کا مطالبہ کریں گے ؟ جن سے یہ دولت واپس لینا چاہتے ہیں، مولوی فضل الرحمٰن صاحب ان کے اتحادی، دوست اور ساتھی ہیں اور انہوں نے کبھی پھوٹے منہ بھی ان کی مذمت کی نہ خود کو ان سے فاصلے پر کیا۔ کرپشن ملک کا اہم ترین ایشو ہے، ایسے بنیادی ایجنڈے پر جو جماعتیں متفق نہیں، وہ اکٹھی سیاست کیسے کریں گی؟

یہ بھی پڑھیں:   سگریٹ پر ’’گناہ ٹیکس‘‘ - آصف محمود

فاٹا کا خیبر پختون خوا سے انضمام اس وقت دوسرا بڑا قومی ایشو بن چکا ہے ۔ جماعت اسلامی کا اس پر بھی پرجوش اور جارحانہ موقف ہے۔ جماعت انضمام کے حق میں جلسے، جلوس، لانگ مارچ کر چکی ہے۔ دوسری طرف مولانا فضل الرحمٰن نہ صرف فاٹا کے انضمام کے مخالف ہیں، بلکہ وہ اسے امریکی سازش قرار دیتے ہیں۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ دونوں جماعتیں اس اہم ایشوسے کیسے نمٹیں گی؟اختلافات اور بھی بہت ہیں۔ عمران خان کو مولانا فضل الرحمٰن یہودی ایجنٹ قرار دیتے ہیں، جماعت اسلامی کی رائے مختلف ہے، انہی کے ساتھ مل کر جماعت نے چار سال مخلوط حکومت چلائی ہے ، بلکہ اگلے انتخابات کے لیے باہمی اتحاد کی بات بھی چلتی رہی۔جماعت اسلامی اپنی بُنت میں انقلابی جماعت ہے، 'سٹیٹس کو' کی حامی جماعتوں کے برعکس اس نے ہمیشہ ریفارمز کی حمایت کی۔ جمعیت علمائے اسلام ف ہمیشہ سٹیٹس کو کی حامی جماعت رہی،مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اقتدار اور صاحبان اقتدار کے ساتھ ہمیشہ اچھا تعلق رہا۔ نواز شریف، محترمہ بے نظیر بھٹو، جنرل پرویز مشرف، چودھری برادران، آصف زرداری اور اب پھر نواز شریف صاحب.... فضل الرحمٰن صاحب ہر حکومتی جماعت کے ساتھ رہے ہیں، انہیں ملک میں اصلاحات لانے سے کوئی دلچسپی نہیں، ان کی بلا سے صحت، تعلیم ، انتخابی نظام، بلدیات، صاف پانی، ماحولیات یا دیگر ایشوز میں کوئی پارٹی کچھ کرے یا زرداری صاحب کی طرح ہاتھ بھی نہ ہلائے، ہمارے مولوی صاحب پر کچھ فرق نہیں پڑتا۔ان کے بھائیوں کو وزیر بنا دیں،پارٹی کے اندر چیلنج کرنے والوں (شیرانی صاحب جیسے لوگوں)کو کوئی عہدہ دے کر چپ کرا دیا جائے ،دیوبندی مدارس کو نہ چھیڑیں ، پھر باقی ملک جس قیامت سے گزرے، انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔

جماعت اسلامی مدارس کی حامی ہے، مگر ان کے لیے صرف یہ مرکزی ایشو نہیں، ان کے ہاں موروثیت یا اقرباپروری نہیں، امیر جماعت کے بھائی، بچوں کو سیاست میں آگے لانا ضروری نہیں،اس لیے وزارتوں کی بھی کوئی مجبوری نہیں۔ جماعت کے لیے ریفارمز کا ایجنڈا اہم رہا ہے۔ اس بار مگرجماعت اسلامی کی مجبوری یہ ہے کہ الیکشن میں پرفارمنس ان کا سروائیول(Survival) ایشو بن چکا ہے۔ پچھلے انتخابات میں بری کارکردگی اور حالیہ دو تین ضمنی الیکشنز میں بدترین کارکردگی سے جماعت کی میڈیا میں بہت بھد اُڑی ہے۔ لاہور میں پانچ سو ووٹوں کی کارکردگی نے توجماعت کے وابستگان کو کسی سے آنکھ ملانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ جماعت اسلامی اب باعزت کارکردگی چاہتی ہے، جس میں اس کا بھرم رہ جائے اور کچھ نشستیں بھی ہاتھ آ جائیں۔ تحریک انصاف سے اتحاد کے لیے جماعت کے اندر خواہش موجود رہی ، مگر بیل منڈھے چڑھ نہیں پائی۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی حکومت کے سو دن - مفتی منیب الرحمن

تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا اتحاد تین چار وجوہات کی بنا پرممکن نہیں ہوسکا۔ ایک تو عمران خان کے گرد سیکولر، غیر مذہبی سوچ رکھنے والے رہنماؤں کی مضبوط لابی موجود ہے، جنہیں جماعت اسلامی کے نام سے چڑ ہے۔ دوسرا شاید کپتان یہ سمجھتا ہے کہ جماعت ٹف بارگین کرتی ہے، اپنے حصے سے بہت زیادہ کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے۔تیسرا یہ کہ تحریک انصاف کا اصل معرکہ پنجاب میں ہے، جماعت یہاں بہت کمزور ہونے کی وجہ سے مفید نہیں ہوسکتی،خیبر پی کے میں انہیں لگتا ہے کہ این اے 4 کے ضمنی انتخاب کی طرح تنہا ہی میدان مار لیں گے۔ ویسے اطلاعات کے مطابق تحریک انصاف کی صوبائی قیادت اورپرویز خٹک جماعت سے اتحاد کے حق میں تھے۔ چوتھا اور شاید بہت اہم سبب یہ ہے کہ عمران خان پچھلے انتخاب میں جماعت کے ووٹ بینک کو توڑ چکے ہیں،انہیں گمان ہے کہ جماعت اسلامی تحلیل ہورہی ہے اور اس کاماڈریٹ کارکن اور ووٹرتحریک انصاف کی طرف آئے گا، الگ رہ کر الیکشن لڑنے سے وہ جماعت کا مزید ووٹ بینک چرا سکتا ہے، اکٹھے رہنے سے جماعت کا ووٹ بینک مستحکم ہوگا۔

میری ذاتی رائے میں تحریک انصاف کو کم ا ز کم کے پی کے میں جماعت اسلامی سے اتحاد کر لینا چاہیے تھا۔ اس سے خاصے سیاسی فوائد حاصل ہوتے۔ بہرحال وجوہات بہرحال جو بھی ہوں، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کا اتحاد نہیں ہوسکا اور اب یہ ایم ایم اے کا حصہ بن چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مولوی صاحب کی صحبت جماعت والوں کو راس آتی ہے یا پھر سابقہ تلخ تجربہ ہی مقدرمیں آئے گا؟

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • محترم! آپ کی ان باتوں سے اتفاق ہے کہ
    اب ایم ایم اے اتنی مضبوط نہیں ہوگی جتنی کہ آج سے نو سال قبل تھی۔
    ایم ایم اے کا اتحاد دراصل دو پارٹیوں کا ہی اتحاد ہے۔ مولانا سمیع الحق کا اس اتحاد سے نکلنا بہت نقصان دہ ہے۔ البتہ جمعیت ف مسلک دیوبند کے ایک اور مضبوط دھڑے کو اپنے ساتھ شامل کر لیتی ہے تو کراچی اور پنجاب سے کچھ سیٹیں بہرحال نکال لے گی۔ لیکن یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آ رہی۔ کیوں کہ ایم ایم اے میں کچھ لوگوں کی وجہ سے وہ دھڑا ایم ایم اے کے قریب نہیں آنے والا۔۔۔ باقی تحریک انصاف ، لگتا ہے کہ آخری وقت میں کوئی نہ کوئی ایسی فاش غلطی کر جائے گی جو اس کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ کیوں کہ سیاسی نابالغ کے گرد ، گرگ چشم دیدہ کھڑے ہیں اور وہ گزشتہ جماعتوں کے وہی پرانے سکے ہیں جنہیں عوام مسترد کر چکے ہیں۔ اور سیاسی نابالغ ہٹ دھرم بھی ہے، کہتے ہیں کسی کی نہیں مانتا۔