’’بے لگام ‘‘ – احسان کوہاٹی

سیلانی کو زیادہ حیرت نہیں ہوئی جہاں یروشلم پر یہودیوں کاقبضہ جائز قرار دینے والے دانشوری بکھیر رہے ہوں، جہاں بیت المقدس کو ’’سابق‘‘ کہہ کر امن کے لیے اس سے دستبردار ہوجانے کا مشورہ دیاجا رہا ہو، وہاں ’’ضمیر‘‘ کی عدالت میں بھارت کو معصوم قرار دے کر مشکیں کس کرپاکستان کو پیش کیے جانے کا حکم کچھ زیادہ عجیب نہیں لگتا اور اس وقت بھی عجیب نہیں لگ رہا تھا البتہ کوفت ضرور ہو رہی تھی۔ سیلانی فیس بک قدرے کم مگر استعمال ضرور کرتا ہے اور لگ بھگ نوبرسوں سے کر رہا ہے لیکن اس نے فیس بک پر کوئی’’آستانہ ‘‘نہیں بنایا، وہ دن میں بس ایک دو بارہی اس ’’شرارتی چہرے‘‘پر نظر ڈالتا ہے کہ دیکھ سکے آج اس کے کیا تیور ہیں؟

تیرہ دسمبر کے روز بھی سیلانی نے رات بھر ہونے والی جھڑپوں کے بعد فیس بک کے میدان کا حال جاننے کے لیے فیس بک کھولی۔ اپنی دیوار پر بلا اجازت ٹانگے گئے افکار دھو کر ان بکس کی طرف بڑھا۔ یہاں بہت سارے پیغامات کے ساتھ ایک نئے گروپ میں زبردستی شامل کیے جانے کی اطلاع بھی منتظر ملی۔ سوشل میڈیا کی یہ بڑی خامی ہے کہ آپ کی مرضی کے بنا ہی کوئی بھی آپ کو کسی بھی گروپ میں شامل کرکے کوفت کے بدذائقہ کوفتوں کی دعوت کا اہتمام کیے ہوتا ہے۔ سیلانی پہلی فرصت میں ان گروپوں سے نکل آتا ہے، اس وقت بھی وہ ایسا ہی کرنے کو تھا کہ گروپ میں ہونے والی بحث نے اسے روک دیا یہ ’’امن پسندوں ‘‘ کا گروپ تھا جہاں پاک بھارت تعلقات پر گفتگو چل رہی تھی بلکہ گفتگو کیا تھی؟ مقدمہ تھا پاکستان پر فرد جرم عائد کی جارہی تھی، خطے میں کشیدگی کا ذ مہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جا رہا تھا۔ کہا جا رہا تھا پاکستان ایک جارح ملک ہے جو پڑوسیوں کو تنگ کرتا رہتا ہے، خواہ مخواہ افغانستان بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے، اپنے پالے ہوئے مسلح شدت پسندوں کو بھارت بھیج کر کبھی ممبئی پر حملہ کرتا ہے اور کبھی پٹھان کوٹ پر دھاوا بولتا ہے۔ سیلانی ابھی اس پروپیگنڈے کی گندی لہروں کو اٹھتا دیکھ رہی رہا تھا کہ ایک صاحب نے یاد دلایا

’’دوستو! آج تیرہ دسمبر ہے کچھ یاد آیا؟

’’مجھے تو اپنی گرل فرینڈ کی سالگرہ بھی یاد نہیں رہتی ‘‘ایک نوجوان نے جواب دیا، ساتھ ہی دانت نکالتی ایموجی بھی لگادی۔

’’ابے آج بھارت کی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا ۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا کا بھَلا ہو - امجد طفیل بھٹی

’’اور یہ بھی پاکستان نے کیا تھا ہے ناں؟‘‘سیلانی سے رہا نہیں گیا، جانے کس کمبخت کا گروپ تھا، جس میں سیلانی کو بھی شامل کر لیا گیا اب سیلانی کو اپنی موجودگی کااحساس تو دلا نا تھا ناں!

’’سامنے کی بات ہے اس میں کچھ چھپا تو رہا نہیں‘‘اسی سلیم کمال نامی شخص نے جواب دیا جو کافی دیر سے پاکستان کے خلاف زہر اگل رہا تھا۔

’’اچھا یعنی بھارت میں جو بھی ہوگا اس کے سارے تانے بانے پاکستان سے ہی ملیں گے؟ ‘‘

’’ملیں گے نہیں، ملتے ہیں ‘‘سلیم نے جواب دیا۔

اس کی حمایت میں کوئی فائزہ رانی بھی سامنے آگئی کہنے لگی’’اب تک تو ایسا ہی ہوا ہے ۔‘‘

سیلانی کی انگلیوں نے کمپیوٹر کے کی بورڈ پر حرکت کی ’’آپ لوگ وی ایس مانی کو جانتے ہیں؟‘‘

’’کون مانی، کوئی کرکٹر ہے؟ ‘‘

’’نہیں ہم نہیں جانتے ‘‘دوسرے نے صاف گوئی سے کام لیا۔

’’یہ گھر کا بھیدی ہے‘‘سیلانی نے لکھا

’’مطلب؟ ‘‘

’’بیٹا!یہ بھارتی وزارت داخلہ کے سابق افسر ہیں انہوں نے اپنے حلفیہ بیان میں اس کیس کی تفتیش کرنے والے افسر کے حوالے سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ پر حملہ بھارت انٹیلی جنس ایجنسی نے کروائے تھے اور اس کا مقصددہشت گردی کے قوانین میں ترمیم کرکے اسے مزید سخت بنانا تھا،دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کے لیے زندگی مزید سخت بنانی تھی‘‘۔

’’یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں بھارت میں اظہار آزادی کی صورتحال بہر حال ہم سے بہت بہتر ہے، ایسا تھا تو کسی نے نوٹس کیوں نہیں کیا؟میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں کو کم از کم کسی فورم پر مان لینا چاہیے، اتنا ظرف ہوناچاہیے‘‘فائزہ رانی کا طنز سیلانی نے تحمل سے برداشت کیا اور لکھنے لگا ’’آپ کا خیال درست ہے وہاں اظہار رائے کی صورتحال اتنی بہتر ہے کہ نریندر مودی بنگلہ دیش میں جا کر پاکستان توڑنے کی سازشوں کا اعتراف کرتا ہے، کہتا ہے کہ اسے اس پر فخر ہے۔۔۔یہ زیادہ پرانی بات نہیں لگ بھگ دو برس پرانی بات ہے۔ زیادہ پیچھے جانا ہے تو اندار گاندھی کا بیان بھی اخبارات میں مل جائے گا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا‘‘۔

’’انکل یہ کب کی بات ہے؟ ‘‘مراد تبسم نامی کسی نوجوان نے حیرت کے ایموجی کے ساتھ پوچھا۔

’’بیٹا!یہ سب تو نیٹ پر بھی مل جائے گا اگر تحقیق کر سکتے ہیں تو کسی بھی اچھی لائبریری میں چلے جائیں۔ 17 دسمبر 1971ء کو اندرا گاندھی نے یہ الفاظ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہے تھے ‘‘سیلانی کے ان الفاظ پر سلیم کمال نے جھنجھلا کر لکھا’’ماضی میں جائیں گے تو ہاتھ کچھ نہیں آنا، آگے کی سوچیں جناب! بنگالیوں کی تحریک آزادی میں بھارت نے ساتھ دے کر کیا غلط کیا؟ اس نے وہی کیا جو ہم کشمیریوں کے لیے کر رہے ہیں‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   سوشل میڈیا کی نامناسب دوستی، میاں بیوں کیا کریں - جویریہ سعید

’’انا للہ وانا الیہ راجعون…جناب !کشمیر کا بنگال سے کیا موازنہ؟ مسئلہ کشمیر تو اقوام متحدہ کے ٹیبل پر موجود ہے۔ دنیا اسے متنازع مانتی ہے، مشرقی پاکستان تو ہمارا حصہ تھا…اچھا چھوڑیں بات کہاں کی کہاں چلی گئی۔ میں آپ کی بات پر واپس آتا ہوں، نیٹ پر ارون دھتی رائے کو سرچ کیجیے گا، ان کے بارے میں پڑھیے گا،بھارتی مصنفہ ہیں اور نریندر مودی کے مذہب کی ہیں۔ انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے جس کے پیش لفظ میں تیرہ سوال اٹھائے گئے تھے، جس کے جواب آج تک نہیں دیے گئے۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ اگر پارلیمنٹ پر حملہ ڈراما نہیں تھا توسی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ عدالت میں پیش کیوں نہیں کی گئی؟حکومت نے آج تک حملے میں شامل پانچ ملزمان کے نام نہیں بتائے اوراس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کیوں نہیں ہونے دی گئی؟‘‘

سیلانی کو اس وقت یہی دو تین نقاط یاد تھے لیکن ان سوالات کے جواب بھی ان سلیم کمال صاحب اور فائزہ رانی کو یاد نہ تھے، جنہیں پارلیمنٹ پرحملے کی تاریخ یاد تھی۔ وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے صاف لگ رہا تھا کہ وہ بھارتی پروپیگنڈے کا شکار ہوئے ہیں یا پھر وہ سلیم کمال نہیں ساونت کمار ہے۔ سوشل میڈیا سے پہلے ’’امن کے متلاشیوں‘‘کواخبارات میں ’’اہنسا کے پجاری‘‘ تلاش کرنے میں خاصی دقت ہوتی تھی، سوشل میڈیا نے ان کایہ مسئلہ کسی حد تک حل کر دیا۔ اب سوشل میڈیا پر انہیں اسرائیل کے حامی بھی مل جاتے ہیں، دوسروں کے افکار کے جوتے گانٹھنے والے ’’موچی ‘‘ بھی اور مذہب بیزار بدمست ’’بھینسے‘‘ بھی۔ یہ وہ میدان ہے جہاں حکومت کی رٹ کی ’’رے ‘‘ ہے نہ ’’ٹے‘‘لیکن اس میدان کو کب تک اس طرح خالی چھوڑا جاتا رہے گا؟کچے ذہنوں کوپروپیگنڈے کے تیزاب کے چھینٹوں کے لیے چھوڑا جاتا رہے گا؟ حکومت اور اداروں کو اس جانب بہرحال توجہ دینی ہوگی سوشل میڈیا کے منہ زور گھوڑے کو لگام ڈالنی ہوگی… سیلانی یہ سوچتا ہوا ٹھوڑی پر ہاتھ رکھے لیپ ٹاپ کی اسکرین دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.