القاب کے حوالے سے کامن سینس کی کچھ باتیں - فیصل ریاض شاہد

ہمارا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم محبت اور جنگ میں آنکھیں بند کر دیتے ہیں اور زبان کھول لیتے ہیں۔ اوپر سے ہم فضول خرچ بھی واقع ہوئے ہیں، لہٰذا اعتدال سرے سے مفقود ہے۔ دوسری تیسری باتوں سے قطع نظر براہ راست موضوع پر آتے ہوئے میں یہ عرض کرنا چاہتاہوں کہ دیگر معاملات کی طرح، کسی دینی شخصیت کو القاب سے نوازنے میں بھی ہمارا ہاتھ بہت کھلا ہے۔ ہم یہ قطعاً نہیں سوچتے کہ جس شخصیت کو ہم فلاں فلاں القاب سے نواز رہے ہیں، کیا حقیقت میں وہ فلاں فلاں ہے بھی سہی یا نہیں؟

مثلاً ہمارا ایک عام اصول یہ ہے کہ ہماری کسی پسندیدہ دینی شخصیت نے اپنی کسی کتاب کی کسی عبارت میں اگر کہیں کسی دنیاوی یافنّی یا کسی بھی دوسرے "غیر اسلامی"علم کا کوئی لفظ یا اصطلاح لکھ دی، یا ایک دو جملے کہہ دیے تو ہم موصوف کودین کے ساتھ ساتھ اس مخصوص میدان کا بھی "ماہر" مان لیتے ہیں۔ ظلم تو یہ ہے کہ پھر ہم دوسروں سے بھی اسے امام منوانا چاہتے ہیں۔ پھر اگر کوئی ہم سے ان "امام صاحب" کی تحقیقات کا مطالبہ کر دے تو ہمارے پاس پیش کرنے کے لیے سوائے دعوے اور طعنہ و دشنام کے، کچھ نہیں ہوتا۔ مختلف دینی شخصیات کے لیے بلند و بانگ القابات کا جنم اندھی عقیدت کی اسی کوکھ سے ہوتا ہے۔ لیکن میرا مطلب یہ بھی نہیں کہ شخصیات کے لیے جائز القاب بھی استعمال نہ کیے جائیں۔ میں تو بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ القاب میں بخل اور فضول خرچی دونوں ہی "حرام" ہیں۔

ذیل میں کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں، اور صاف کہتا ہوں کہ میرے پاس بھی انہیں ثابت کرنے کے لیے دلیل نہیں ہے۔ بات آپ کے دل کو لگے تو سو بسم اللہ، نہ بھی لگے تو سو بسم اللہ!

1۔ کسی بھی شخصیت کو کوئی بھی لقب ذاتی پسند یا جذبات کی بنیاد پر نہیں دینا چاہیے۔

2۔ عام مشاہدہ شاہد ہے کہ القابات کی فضول خرچی یا زمین و آسمان کے قلابے ملا دینا کوئی علمی رویّہ نہیں اور نہ اہل علم القابات کی کثرت کو پسند کرتے ہیں۔

3۔ لقب کا تعلق کسی شخصیت کے تشخص کے ساتھ ہوتا ہے، یعنی لقب ہمیشہ کسی شخصیت کی ذات کے ممتاز، غالب اور نمایاں ترین پہلو کو مدنظر رکھ کر دینا چاہیے۔

4۔ یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ دنیا کی کوئی بھی شخصیت ہر ہر علم و فن میں ممتاز، دوسروں پر غالب اور کامل و اکمل نہیں ہو سکتی لہٰذا کسی بھی شخصیت کے ذکر میں مبالغہ آرائی سے بچ کر حقائق کو دیکھنا چاہیے۔

5۔ اسلامی تاریخ میں عظیم ترین اہل علم مثلاً حضرت نعمان بن ثابت ابو حنیفہ ؒ اور حضرت محمد بن اسماعیل بخاریؒ کے لیے بھی ایک، ایک دو، دو القاب مثلاً امام اعظم اور امام المحدثین جیسے القاب مستعمل ہیں۔

6۔ لقب ہمیشہ جامع ہونا چاہیے، ایسا نہیں کہ آپ القاب کی تعداد بڑھانے کے لیے شخصیت کے درجنوں حصے بخرے کر ڈالیں۔

7۔ عام بول چال یا علمی کتب میں القاب کی کثرت سامع یا قاری کے لیے جھنجھلاہٹ کا باعث ہوتی ہے۔

8۔ لقب ایک ثانوی شے ہوتا ہے۔ شخصیت کا اصل تعارف اس کا علمی یا عملی کام ہوتا ہے۔ کسی بھی شخصیت کو منوانے کے لیے آواز یا القاب بلند کرنے کی بجائے، اس کے کام کو پیش کریں۔

9۔ ہم جانتے ہیں کہ عظیم لوگوں کا نام ہی ان کی پہچان ہوتا ہے، انہیں کسی لقب کی ضرورت نہیں ہوتی مثلاً غزالی، رازی، طبری، ابن خلدون، ابن حجر، اقبال وغیرہ۔ اگر ان کے اسماء کے ساتھ ایک آدھ لفظ مثلا "علامہ" یا "امام" بڑھا دیا جائے تو مزید کسی لقب کی ضرورت میرے خیال سے توباقی نہیں رہتی۔

10۔ لیکن اہل علم کے ساتھ عوام الناس کی جذباتی وابستگی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا کوشش کی جائے کہ القاب کی رو میں بہہ کر بھی تین سے زائد القابات نہ بولے/لکھے جائیں ورنہ آپ اپنی تقریر وتحریر کی تاثیر کھو بیٹھیں گے۔تحریر میں تو دو القاب کی گنجائش بھی بڑی مشکل سے نکلتی ہے۔