سستا ہے لہو مسلمانوں کا - شاہد مشتاق

چند سال قبل کیلیفورنیا میں "بل " نامی شخص نے اپنے پالتو کتے " ٹم " کو غصے کی حالت میں قتل کردیا تھا۔ اس سانحہ پر پورا مغرب لرزاٹھا، وہاں کے اخبارات نے اس واقعے کو خوب اچھالا، جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی طوفان کھڑاکیا۔ پھر عدالت میں بڑے زور وشورسے مقدمہ چلا، قریب تھاکہ بل کو سزا ہوجاتی مگر اس کے وکیل نے اسے ذہنی مریض ثابت کرکے بچالیا۔ پھر بھی پورا یورپ اس ظلم عظیم پر لرزاٹھاتھا۔ کسی کالم نگار نے اس پر بڑا خوبصورت کالم لکھا تھا۔ جس میں اس نے مٹ سے خیالی مذاکرہ کرتے ہوئے لکھا تھا

"یار ٹم! پچھلے ۲۸گھنٹوں میں عراق پر ۲۰۰حملے ہوئے، بی ون طیاروں سے بغداد کے گھروں اور ہسپتالوں پر ۲۰۰۰بم گرائے گئے، برطانوی جہازوں نے مظلوم نہتےاور کمزور شہریوں پر پانچ سوکروزمیزائل پھینکے، سینکڑوں لوگ مرگئے، سینکڑوں ہی زخمی ہوئے۔ لیکن سان فرانسسکو سے نیویارک تک اور واشنگٹن سے لاس اینجلس تک کیوں کسی شخص نے احتجاج نہیں کیا؟ کسی نے شیم شیم کے نعرے کیوں نہیں لگائے؟ کیوں، آخر کیوں ٹم؟"

کتے نے پلکیں اٹھائیں، اس کی مردہ پتلیوں میں روشنی کوندی، اس کی ڈھلکی گردن میں حرکت بیدارہوئی، اس نے اپنے پنجے سیدھے کیے، ایک زوردار قہقہہ لگایا اور بولا "اس لیے میرے دوست کہ عراق میں انسان تھے ٹم نہیں، وہاں مرنے والے مسلمان تھے، کتے نہیں"۔

آج صبح اٹھتے ہی خبروں پر ایک نظرڈالی تو ایک خبرنے مجھے یہ پرانا واقعہ یاددلا دیا۔ خبر ہے کہ اسرائیلی فورسزکی اندھا دھند فائرنگ شیلنگ و بمباری سے 11 افراد شہید 1400 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ 100 سے زائد زخمیوں کی حالت خطرناک بتائی جا رہی ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر وحشیانہ ظلم کے خلاف پوری دنیا کی خاموشی بتاتی ہے کہ آج مسلمانوں سے کہیں زیادہ حقوق کتوں بلیوں کو حاصل ہیں۔

سب سے ارزاں لہو مسلمان کا ہے، جسے جہاں چاہے جیسے چاہےبہادیاجاتاہے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

یہ ایٹم بم، یہ بہترین افواج، مانی ہوئی خفیہ ایجنسیاں، یہ چالیس اسلامی ممالک کا اتحاد، یہ ڈیڑھ ارب زندہ لاشے، یہ سب کس لیے؟

افغان تو کٹ چکے، عراق تو اجڑ چکا، برما تو جل گیا، سارا شام زخمی ہے، فلسطین لہولہو، کٹا پھٹا ہے۔ آئے روز شعائر اسلامی کا مذاق اڑایا جاتاہے، قرآن جلائے جاتے ہیں، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی شان اقدس پر حرف اٹھائے جاتے ہیں۔

اگرچہ عام مسلمان اپنی تمام تر غفلت کے باوجود امت کے اجتماعی مسائل پر چپ رہنے کوتیارنہیں۔ یہ احتجاج کے ذریعے عالمی برادری کا ضمیر بیدار کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور مظلوموں کی اپنے مال کے ذریعے ہرممکن مدد بھی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ہماری اجتماعی پریشانیاں بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں۔

کفار کا اتحاد پچھلے 17 سال میں ایک ایک کرکے ہمارے ممالک نگلتا چلا جارہاہے۔ پاکستان پہلےہی سازشوں کے نرغے میں ہے، سعودی عرب کے خلاف کھیلنے کےلیے میدان ہموار کیے جارہے ہیں۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے متحد ہوکر جلدکوئی مضبوط لائحہ عمل مرتب نہ کیاتوآنےوالے دن انتہائی خطرناک ثابت ہونے والے ہیں۔ مزیداسلامی ممالک پر حملے ہوں گے، گریٹراسرائیل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان، ترکی، اور سعودی عرب کے گرد سازشوں کے جال بنے جائیں گے، انہیں عدم استحکام سے دوچار کیاجائے گا۔ بیت المقدس اب ہمارے لیے ایک چیلنجنگ کیس بن چکاہے، اب ہم نے اگر اس کے تحفظ کے لیے کوئی انتہائی قدم نہ اٹھایا تو خدانخواستہ جلد یہ شیطانی ہاتھ حرمین کی جانب بھی اٹھیں گے۔ اس سے پہلے کہ ہمارا مزیدنقصان ہوہمیں متحدہوکر کفار کی چالوں کابیڑاغرق کردینا چاہیے۔ ہماری تلواریں زنگ آلودہ ہوچکیں اس سے قبل کہ ہمارے جذبات بھی ٹھنڈے ہوکرمردہ ہوجائیں ہمیں کچھ عملی اقدامات کرلینے چاہئیں۔