القدس کی پکار ’’تم کہاں ہو؟‘‘ - محمد عنصر عثمانی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو گھوڑوں پر سوار ہیں۔ ایک طرف وہ مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے کے دوران مسلم ممالک کو ببانگ دہل، ان کے ہی دار میں دھمکیاں دیں اور کافور ہو گئے۔ دوسری طرف عالمی برادری کے سامنے امن مصالح کا راگ الاپا ہوا ہے۔ صدارت پر براجمان ہونے سے قبل عوامی وعدوں، حالیہ فیصلہ عوامی امنگوں، آرزوؤں کی مکمل پیروی ہے۔ مسلمانوں کے قبلہ اوّل بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے اور اسرائیلی ریاست کی پشت پناہی کا شاخسانہ ہے کہ عالمی برادری کے سامنے امریکی مشن جو قیام امن کے مصالحت کا کردار ادا کررہا تھا، معدوم و متروک ہو جائے گا۔

اس بات سے قطع نظر کہ امریکی فیصلہ مشرق وسطیٰ میں کس حد تک عوامی جذبات کو مجروح کرے گا؟ بیت المقدس اپنی حیثیت کی بنا پر بین الاقوامی مذاہب میں ہم آہنگی کو ہوا دے گا۔ دنیا کے تین بڑے مذاہب کے پیشواؤں کی عقیدتوں کو ایک نقطہ پرمرکوز کردے گا، جو کہ امریکہ کے لیے سنگین نتائج کا بنیادی ڈھانچہ بھی ہو سکتا ہے۔ عربی نام بیت المقدس دراصل ’’بیت ہمقدش ‘‘ کا عکس ہے۔ بیت المقدس وہ مقام ہے جہاں اپنے گناہوں سے پاک ہوا جاتا ہے۔ بیت المقدس ’’ مبارک گھر ‘‘ سے امت مسلمہ کی محبت و عقیدت کے قلبی تار کئی ہزار سال قبل مسیح ابولانبیاء جنابِ سیدنا ابراہیم علیہ السلا م سے جڑتے ہیں۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام وحضرت اسحاق علیہ السلام، بعد میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہاں ایک مسجد تعمیر کی، جسے یہودی ’’ ہیکل ‘‘ کہتے ہیں۔

اس جگہ کو تبھی عالمی شہرت حاصل ہے کہ دنیا کے بڑے مذاہب اسے الگ ناموں سے اپنے مذہب سے منسوب کرکے اس کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں۔ یورپی اسے’’یروشلم‘‘ عبرانی ( Jerusalem)اور رومی ’’ ایلیا ‘‘ کہتے ہیں۔ گو کہ یہ تعظیم دنیاوی مقاصد کے حصول کا ذریعہ تھی، اس لیے مسلم حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے یہ مبارک گھر یہودی، رومی، اسلامی، برطانوی ادوار میں ایک کھیل بن کر رہ گیا ہے۔ مغرب کی آنکھوں میں خواب تو پہلے سے سجے تھے۔ لیکن وہ امت مسلمہ کے لیڈروں، سرپرستوں کی عیاشیوں، رقص کی محفلوں، مہ خواری کے سلسلوں کو چشم ِ خودی سے دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ اس سنہرے گنبد کے جدی پشتی نام لیواؤں کے دل کی ایمانی حرکت جانچ چکے تھے۔ وہ ان قربان گاہوں کے والیوں کا مشاہدہ کر چکے ہیں، جن کی تاریخ میں صلیبیوں کی کمریں توڑ دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   اسرا و معراج ، فضائل و اسباق - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

1291 ء سے پہلی جنگ عظیم 1917 ء تک مبارک گھر سے کلمہ حق بلند ہوتا رہا۔ پھر ایک گھناؤنی سازش کا جالا بنا گیا اور اعلان بالفور کے ذریعے مبارک گھر کو شریف مکہ کے والی وارثوں نے گوروں کو ایسی تقسیم کرکے دی جو ناقابلِ تلافی نقصان رہے گا۔ 12 لاکھ عربوں کو فلسطین کا 45فیصد اور صرف سوا لاکھ یہودیوں کو ارض فلسطین کا 55 فیصد علاقہ بخش دیا گیا اور یہ موجودہ حقائق کی روشنی میں اسرائیل فلسطین کے 95فیصد حصے پر قابض ہو کر یہودی بستیاں آباد کرچکا ہے۔ القدس کی تاریخ پر سرسری نظر ڈالیں تو یہ 45 صدی پرانی جگہ ہے۔ القدس کو سب سے پہلے حضرت داؤد علیہ السلام نے فتح کیا۔ بعد میں حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے ترقی دی۔ اہلِ فارس نے اس پر قبضہ کیا تو سکندر کے دور تک یہ سلسلہ جاری رہا، بعد میں اہل روم نے القدس کو فتح کرلیا۔

مسلمانوں میں سب سے پہلے حضرت عمر فاروقؓ نے بیت المقدس کو فتح کیا جو عرصہ دراز تک مسلمانوں کے پاس رہا۔ گیارویں صدی میں یورپی عیسائی اس پر قابض ہوئے اور 80سال تک اس کی عزت وعزمت کا پامال کرتے رہے۔ مسلمانوں کا قتل عام کیا، بیت المقدس میں گھوڑوں کے اصطبل بنائے، جسے ’’اصطبل سلیمانی‘‘ کا نام دیا گیا۔ 1178 ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے مسلمانوں کے لیے القدس کو دوبارہ فتح کیا۔ مسجد اقصی ٰ کے احاطے میں مشہور ’’دیوار براق‘‘ موجود ہے، جہاں سے آقا مدنی ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔

امریکہ کا اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقلی کا معاملہ ہو یا اسرائیلی ریاست کا ناجائز وجود۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کا بیانیہ دیکھ لیں، یا پچاس برس سے اس تنازع کی وجوہ پر غور و غوض کر لیں، بات واضح ہوتی ہے کہ 58 اسلامی ممالک، ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں شاید ہی کسی میں احساس ہو کہ بربادی ان کے سروں پر آن پہنچی ہے۔ امت مسلہ گونگے کا گُڑ کھائے بیٹھی ہے۔ عظیم تر اسرائیل اور طویل المیعاد یہودی منصوبے میں یہ فیصلہ پہلی کیل ثابت ہوگا اور یہ سانحہ کئی عرب ملکوں کو نگل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   گمشدہ مسجدِ اقصیٰ ملتی ہے! - حافظ یوسف سراج

سوال یہ ہے کہ امریکہ کیسے اقوامِ متحدہ کے منظور کردہ مقبوضہ علاقے کو ریاست تسلیم کر سکتا ہے؟ اور کیا یہ انٹرنیشنل لاء اور عالمی عدالت انصاف سے کھلی غداری نہیں؟ عالم اسلام کی آپسی پھوٹ ہے کہ اس وقت اس اہم ترین مسئلے پر صرف ترکی ہی ایسا ملک ہے، جس نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ ایسے حالات میں جب دنیا بھر میں اس اعلان کے خلاف رنج و غم پایا جا رہا ہے، مبارک گھر پوچھتا ہے اے امت مسلمہ تم کہاں ہو؟