سچی توبہ - ام محمد سلمان

جسے حقیر سمجھ کر بجھا دیا تم نے

وہی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی

اف خدایا! یہ لڑکا کب سے پانی میں کھیل رہا ہے۔ تھکتا کیوں نہیں؟ حمیرا نے بیزار ہوکر سوچا اور روٹیاں پکاتے پکاتے ارسلان کو آواز لگائی۔

ارسلان بیٹا! نل بند کردیں اب۔ اتنی دیر سے پانی ضائع کر رہے ہیں آپ!

امی تھوڑی دیر اور کھیلنے دیجیے نا! کتنا مزا آرہا ہے پانی میں!

ارسلان! بات سمجھا کریں بیٹا! پانی ضائع کرنے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں۔ گناہ ملے گا آپ کو!

امی جی! تھوڑا سا اور کھیل لوں، پھر باہر آکے توبہ کرلوں گا میں۔

ہائیں…؟ حمیرا چار سالہ ارسلان کی بات سن کے ہکا بکا رہ گئی۔

یا الله! میں کہاں پھنس گئی، یہ نئی نسل تو ہمارے بھی کان کاٹتی ہے۔

ابھی پرسوں کی بات ہے، کچھ کام بگاڑ دیا، تو حمیرا نے ڈرا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ جہنم میں پھینک دیتے ہیں، جو کوئی غلط کام کرے یا اپنے والدین کا کہنا نہ مانے۔

ارسلان بھاگتا ہوا آیا ماں کے پاس۔ امی جی! وہی والی جہنم جس میں آگ جلتی ہے؟

ہاں وہی جہنم، حمیرا خوب چبا کے بولی۔

نہیں امی نہیں، مجھے بچالیں، مجھے بچالیں۔

اب نہیں کروں گا، امی پلیز مجھے بچا لیں نا! ذرا سی دیر میں آنسوؤں نے پورا چہرہ بھگو دیا ارسلان کا۔

حمیرا کو بے تحاشا روتے ارسلان پر ترس آنے لگا۔

اچھا ٹھیک ہے چپ ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ سے کہیں کہ پیارے اللہ! مجھ سے غلطی ہوگئی۔ اب کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ آپ مجھے معاف کردیں۔ میری پکی توبہ!

معاف کردیں گے اللہ تعالی؟ ارسلان نے ذرا شک بھری نظروں سے ماں کو دیکھا،

آنسو ابھی بھی گالوں پر بہہ رہے تھے، حمیرا کو ٹوٹ کر پیار آیا اپنے ارسلان پر۔ کاش تھوڑا سا خوف ہم بڑے بھی اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کرلیا کریں تو کتنا اچھا ہو، دنیا امن کا گہوارہ بن جائے، حمیرا نے دل میں سوچا۔

جی بیٹا! اللہ تعالیٰ معاف کردیتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بہت محبت کرتے ہیں اپنے مومن بندوں سے۔

مجھ سے بھی کرتے ہیں کیا؟ ارسلان نے بڑے اشتیاق سے پوچھا

جی بیٹا آپ سے بھی کرتے ہیں۔ حمیرا نے جواب دیا۔

تو اب مجھے جہنم میں تو نہیں ڈالیں گے نا؟

نہیں بیٹا! حمیرا نے پیار سے اس کا ماتھا چوما اور وہ خوش ہوگیا۔

اور ابھی صرف دو دن ہی ہوئے تھے اور یہ نیا باب کھل گیا۔

لو جی!! اللہ تعالیٰ تو معاف کردیتے ہیں توبہ کرنے سے۔ تو اس کا مطلب ہے اب آپ جو جی میں آئے، کرتے پھرو!

یا اللہ کیا کروں میں؟ کیسے اسے سمجھاؤں؟

وہ ذہن میں مختلف پلان بناتی رہی۔ پھر اچانک کسی سوچ سے اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔


ارسلان بیٹا کھانا کھا لیں۔ اس نے چھوٹا سا دستر خوان بچھایا اور کھانے کی ٹرے ارسلان کے آگے رکھی۔ حسب عادت ارسلان نے کھانے سے بھاگنے کی کی۔ حمیرا نے ہلکا سا تھپڑ اسے لگا کر زبردستی بٹھایا۔ وہ گلا پھاڑ پھاڑ کر رونے لگا تو وہ جلدی سے اس کے سامنے بیٹھ گئی۔

سوری بیٹا! غصہ آ گیا تھا نا، اب نہیں ماروں گی۔

دوستی کر لیتے ہیں؟

وہ کچھ دیر اسے مناتی رہی اور بچہ مان گیا۔

شام تک وہ اسے مختلف باتیں کہتی رہی، بات بات پر ڈانٹتی اور پھر سوری کر لیتی۔ وہ اب ماں سے شاکی دکھائی دے رہا تھا۔

امی جی! آپ ہر بار سوری کر رہی ہیں اور پھر آپ وہی کرتی ہیں۔ میں آپ سے نہیں بولتا۔ ارسلان منہ پھیر کے بیٹھ گیا۔

حمیرا کی دلی مراد بر آئی۔ تھوڑا سا پیار کیا اور کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیا۔ رات کو سرہانے بیٹھ کر اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے پھیرتے وہ اپنے مقصد پر آ گئی۔

ارسلان بیٹا! آپ کو برا لگا نا کہ آج سارا دن میں نے آپ کو ڈانٹا ہے؟

جی امی! بہت برا لگا۔

پر زیادہ برا تو یہ ہوتا ہے نا کہ آپ ہر بار کہہ رہی تھیں کہ اب نہیں کروں گی، اور پھر وہی کرتیں۔ آپ خود تو کہتی ہیں کہ سوری پکی کرتے ہیں، دوبارہ نہیں کرتے ایسے۔ وہ خائف تھا۔

جی بیٹا! دیکھا آپ نے کہ آپ کو آج یہ بات کتنی بری لگی، پھر جب آپ یہی کام اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات بہت بری لگتی ہے۔ بار بار سوری کر کے وہی کام یا گناہ پھر کیا جائے تو اللہ تعالٰی پھر معاف کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ اسی کی توبہ قبول کرتے ہیں جو پکی توبہ کرتا ہے اور پھر اس کام کو نہیں دہراتا۔ جو سوری کر کے پھر وہی کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس نے دل سے سوری نہیں کی اور اس لیے پھر اللہ تعالیٰ اس بندے سے ناراض ہو جاتے ہیں۔

تو کیا اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہیں؟ ارسلان خوفزدہ ہوا۔

ہاں بیٹے! اگر آپ بار بار یہ سوچ کر غلطیاں کریں گے کہ اللہ تعالیٰ تو معاف کردیتے ہیں، تو میں جو جی چاہے کروں۔ تو یہ تو اچھی بات نہیں ہے نا؟ اللہ پاک دلوں کا سب حال جانتے ہیں کہ بندے کیا سوچتے ہیں اور کب سچی توبہ کرتے ہیں اور کب جھوٹ بولتے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے، اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے؟ وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ اور پتا ہے وہ جو اتنی پیاری جنت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے بنائی ہے نا، پھر اس میں بھی نہیں جاسکیں گے آپ۔

تو اب میں کیا کروں امی جی؟

اب آپ سچے دل سے معافی مانگ لیں، پھر اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہوجائیں گے اور جنت میں بھی لے جائیں گے۔ ان شاء اللہ!

اور ارسلان بستر پر اٹھ کے بیٹھ گیا۔ دونوں ہاتھ دعائیہ انداز میں اٹھائے، ایک نظر ماں کی طرف دیکھا اور شرماگیا، امی جی آپ ادھر منہ کریں نا! میں دعا مانگ رہا ہوں۔

حمیرا اس کی معصومیت پر قربان ہو ہو گئی اور منہ دوسری طرف کر کے کن انکھیوں سے اسے دیکھنے لگی۔

ارسلان نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا، پیارے اللہ! آپ مجھے معاف کردیں نا! اب غلطی نہیں کروں گا، جھوٹ بھی نہیں بولوں گا۔ آپ مجھے جنت میں جانے دیں گے نا؟ پرامس… اب نہیں کروں گا۔ آپ مجھ سے خفا تو نہیں ہیں نا؟ میں اچھا بچہ بنوں گا۔ امی کی بات مانوں گا۔ پانی بھی نہیں پھینکوں گا۔ اللہ جی! مجھے معاف کردیں نا! اور ارسلان نے دونوں ہاتھ منہ پر پھیر لیے۔

حمیرا نے پیار سے ارسلان کے گال چومے، اور وہ خوشی خوشی ماں سے لپٹ کر سو گیا۔

حمیرا سوتے ہوئے ارسلان کو پیار سے دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی اللہ کی محبت اور خوف اگر شروع سے ہی بچوں کے دل میں ڈال دیا جائے تو ان کی تربیت کرنا کتنا آسان ہوجاتا ہے؟ بچے واقعی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتے ہیں۔ اور سچی توبہ تو ویسے ہی دلوں کو سکون و اطمینان سے بھر دیتی ہے۔

(یہ صرف تخیل نہیں بلکہ سچی کہانی ہے)

Comments

ام محمد سلمان

کراچی میں مقیم اُمِّ محمد سلمان نے زندگی کے نشیب و فراز سے جو سبق سیکھے، ایک امانت کے طور پر دوسروں کو سونپنے کے لیے قلم کو بہترین ساتھی پایا۔ اُن کا مقصد ایسی تحاریر لکھنا ہے جو لوگوں کو اللہ سے قریب کریں اور ان کی دنیا و آخرت کی فلاح کا سبب بنیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.