ذرا سوچیے! - عظمیٰ ظفر

جب ہسپانیہ کے آخری مسلمان بادشاہ ابو عبداللہ کوسقوط غرناطہ کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا تو ایک پہاڑ کی چوٹی پر رک کر وہ غرناطہ پر آخری نظر ڈالتے ہوئے رونے لگا۔ تب اُس کی ماں نے یہ تاریخی الفاظ کہے تھے:

“Do not cry like a woman for that which you could not defend as a man.”

"اس کے لیے عورتوں کی طرح مت رو جس کے لیے تم مردوں کی طرح لڑ نہیں سکے۔"*

آج یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنتے دیکھ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کی دہائی پر مجھے ابو عبداللہ کی ماں کے الفاظ یاد آگئئے اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔ غرناطہ، مجھے اقبال کی شاعری میں ایسا غمزدہ آنسو بہاتا نظر آتا ہے، جیسا اقبال اپنا دکھ بیان کرتے ہیں کیونکہ وہ درد دل رکھتے تھے۔

آج ہم کیا رکھتے ہیں؟

آج ہم بیت المقدس میں ناپاک قدموں کو دیکھ سکتے ہیں۔

مسلمانوں کو لہو لہو بھی دیکھ سکتے ہیں۔

لمحے بھر کے لیے سوچ بدلتی ہے، پھر ہم چینل بدل دیتے ہیں۔ صفحے پلٹ دیتے ہیں اور زیادہ وحشت ہو تو ماحول ہی بدل دیتے ہیں۔

ہمارے گھروں سے وہ مصنوعات نکلتی ہیں جن پر ہمارے دشمنوں کا نام لکھا ہوتا ہے، جن کے ذائقے ہم گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں جبکہ وہ ہمارا لہو لہو تک پیتے ہیں۔

ہم ان کے تیار کردہ کھانے اور بوٹیاں چٹخارے لے کر کھاتے ہیں اور وہ ہماری بوٹیاں نوچ نوچ کھاتے ہیں۔

ہم فیشن کے دلدادہ، نفس کے پجاری، مغربی کلچر کے شوقین، منافق، جسموں کو ان کے لباس سے نمائش کے لیے سجا تے ہیں، اٹھلاتے ہیں۔ ادھر وہ درندے ہمیں بے آبرو کرکے لباس کو تار تار کرتے ہیں۔

ہم سب کچھ دیکھ سکتے ہیں ہم سب کچھ سہہ سکتے ہیں۔

کیونکہ سب کچھ ہم سے بہت دُور ہورہا ہے۔ مگر وہ وقت قریب ہے جب ، خاکم بدہن، ہماری گردنوں میں بھی خنجر گھونپا جائے گا، تب ہمیں کون بچائے گا؟

سقوط ڈھاکا ہو یا روہنگیا کا قتل عام، ملکِ شام کا سورج ڈوب جائے یا ہر جگہ کا مسلمان دشمنوں کا نشانہ بنے، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

فقط دو آنسو بہانے سے کچھ نہیں ہوتا، رگوں میں لہو گرمانا پڑتا ہے۔

کسرتی جسم چمکانے سے کچھ نہیں ہوتا، جوانوں طاقت کو بھی آزمانا پڑتا ہے۔

مجھے ابو عبداللہ کی ماں کے الفاظ میں چھپی کاٹ بے چین کر رہی ہے۔

ہم کیسی مائیں ہیں؟ ہماری اولادیں کس روش پر چل رہی ہیں؟ آج کوئی محمد بن قاسم نکلا نہ کوئی ایوبی؟

ہمیں قبلۂ اول سے محبت کے دعوے کا کوئی حق نہیں ہے۔ جب ہم کافر ملکوں کا ویزا آسانی سے لگوانے کے لیے مذہب بدل سکتے ہیں، ختم نبوت پر آواز بھی بلند نہیں کرسکتے، خود کو اسلامی شعار میں ڈھال نہیں سکتے، تماش بین ہی رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ کہنے کا حق نہیں کہ اے فلسطین! ہم تمہارے ساتھ ہیں۔

کیونکہ! جب تم اس کے یے لڑ نہیں سکتے تو اس کے لیے مت رو۔

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.