غامدی صاحب کا تصورِ سنت و حدیث؛ چند اہم مباحث - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اہلِ علم اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بحث کر رہے ہیں۔ چند پہلو مزید توضیح چاہتے ہیں کیونکہ کئی احباب نے فقہاے کرام، بالخصوص فقہاے احناف، کے تصورِ سنت سے غامدی صاحب کے تصورِ سنت کےلیے استدلال پیش کررہے ہیں۔ اس لیے پہلے اس بات پر بحث کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی احناف سنت اور حدیث میں فرق کرتے ہیں؟ اس کے بعد اس بات کی وضاحت کی جائے گی کہ غامدی صاحب نے اپنا تصور ِسنت کن مآخذ سے لیا ہے؟ آخر میں کوشش کی جائے گی کہ غامدی صاحب کے تصور اور فقہاے کرام کے تصور کا بنیادی فرق واضح کیا جائے تاکہ اس مسئلے میں خلطِ مبحث سے بچا جاسکے۔

پہلا سوال: کیا احناف سنت اور حدیث میں فرق کرتے ہیں؟

شمس الائمہ سرخسی اپنی کتاب "تمھید الفصول فی الاصول" میں وہ قائم کرتے ہیں کہ "عبادات میں مشروعات کیا ہیں اور ان کے احکام کیا ہیں"۔ اس کے تحت وہ پہلے ان مشروعات کی چار قسمیں ذکر کرتے ہیں:
فرض؛
واجب؛
سنت؛ اور
نفل۔
پھر فرض کی تعریف یہ ذکر کرتے ہیں:
فالفرض اسم لمقدر شرعا لا يحتمل الزيادۃ والنقصان، وھو مقطوع بہ لكونہ ثابتا بدليل موجب للعلم قطعا من الكتاب او السنۃ المتواترۃ او الاجماع۔

یہاں یہ نوٹ کرلیں کہ ایک جانب فرض اور سنت کو وہ مشروعات کی دو الگ قسموں کے طور پر ذکر کرتے ہیں اور دوسری جانب بتاتے ہیں کہ فرض جن مآخذ سے معلوم ہوتا ہے، ان کا قطعی ہونا ضروری ہے اور وہ یہ تین ہیں:
کتاب؛
سنت متواترہ؛ اور
اجماع۔
پس یہ تو معلوم ہوا کہ وہ سنت کی اصطلاح دو الگ مفاہیم میں استعمال کر رہے ہیں اور ان دونوں مفاہیم کو ایک دوسرے میں خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

آگے بڑھیے۔
فرض اور واجب کی بحث کے بعد وہ مشروعات کی تیسری قسم، یعنی سنت، کی طرف آتے ہیں اور اس کی تعریف یہ ذکر کرتے ہیں:
وأما السنة: فهي الطريقة المسلوكة في الدين۔
آگے مزید کہتے ہیں:
والمراد به شرعا ما سنه رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ والصحابة بعده عندنا۔
یاد رکھیے کہ جو لوگ احناف کے تصور سنت سے غامدی صاحب کے تصور سنت کےلیے استدلال کررہے ہیں وہ اس تعریف کو لیے پھرتے ہیں، حالانکہ یہ تعریف اس سنت کی نہیں جو 'کتاب' کے مقابل میں ذکر کی جاتی ہے (کتاب و سنت)، بلکہ یہ وہ سنت ہے جو فرض، واجب اور نفل کے مقابل میں ذکر کی جاتی ہے اور من جملہ مشروعات میں سے ہے۔

مزید آگے بڑھیے۔
امام سرخسی فصل قائم کرتے ہیں: شرعی حجتوں کے بارے میں ، یعنی شریعت کے مآخذ کے بارے میں، اور فرماتے ہیں:
اعلم بأن الاصول في الحجج الشرعية ثلاثة: الكتاب والسنة، والاجماع، والاصل الرابع وهو القياس هو المعنى المستنبط من هذه الاصول الثلاثة۔
اب یہاں سنت جب بطور ماخذ قانون ذکر کی جا رہی ہے اور کتاب، اجماع اور قیاس کے ساتھ ذکر کی جارہی ہے تو آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ اس کی تعریف کیسے بیان کرتے ہیں۔
فرماتے ہیں کہ شرعی حجتیں دو قسم کی ہیں:
ایک وہ جن سے قطعی علم حاصل ہوتا ہے اور دوسری وہ جن سے ظنی علم حاصل ہوتا ہے۔
پہلی قسم میں وہ چار چیزیں ذکر کرتے ہیں:
کتاب؛
وہ سنت جو رسول اللہ ﷺ سے براہ راست سنی گئی (یعنی صحابہ کےلیے)؛
وہ سنت جو رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ نقل ہوئی (صحابہ کے بعد کی نسلوں کےلیے)؛ اور
اجماع۔

یہ بھی پڑھیں:   تبلیغی جماعت، طریق کار اور مقصد - علی عمران

اس کے بعد پہلے وہ کتاب پر بحث کرتے ہیں۔ پھر سنت کی طرف آجاتے ہیں اور یہاں خبر متواتر، خبر مشہور اور خبر واحد کی تفصیلات ذکر کرتے ہیں۔
اب آپ ہی بتائیے کہ احناف سنت اور حدیث میں کس قسم کا فرق کرتے ہیں۔

دوسرا سوال : غامدی صاحب کے تصور سنت کے مآخذکیا ہیں؟

یہ بات تو واضح ہے کہ غامدی صاحب نے اپنا تصورِ سنت فقہاے کرام سے نہیں لیا ہے۔ یہاں یہ بات واضح کرنی ہے کہ ان کا تصور بیسویں صدی عیسوی کے برصغیر میں اٹھنے والے سوالات اور ان کے جوابات کے متعلق وجود میں آنے والے مکالمے سے ماخوذ ہے۔ ان کے تصور سنت کو سمجھنے کےلیے میرے نزدیک درج ذیل ترتیب سے جانا چاہیے:
1۔ پرویز صاحب اور مولانا مودودی کا مکالمہ جو 1930ء کی دہائی میں ہوا اور اب مولانا مودودی کی کتاب 'تفہیمات' میں موجود ہے۔
2۔ اس مکالمے کے بعد مولانا مودودی کو بعض اہلِ حدیث علماے کرام سے راوی کی فقاہت کے مسئلے پر بھی بحث کرنی پڑی اور پیغمبر کی شخصی اور نبوی حیثیتوں میں فرق پر بھی بات کرنی پڑی۔ یہ بحث بھی تفہیمات میں موجود ہے۔
3۔ جماعت کی تشکیل کے بعد ترجمان القرآن میں شائع شدہ بعض مضامین پر ایک ممتاز اہلِ حدیث عالم کی جانب سے تنقید 'جماعت اسلامی کا نظریۂ حدیث' کے عنوان سے شائع ہوئی۔ (واضح رہے کہ ترجمان کے ان مضامین میں بعض مولانا اصلاحی کے تھے اور اس وجہ اس کتاب میں مولانا اصلاحی پر الگ تنقید بھی کی گئی۔)
4۔ ڈاکٹر عبد الودود صاحب کے ساتھ مولانا مودودی کی بحث جو 'سنت کی آئینی حیثیت' کے عنوان سے شائع ہوئی۔
5۔ مولانا مودودی کے 'رسائل و مسائل' کی ابتدائی دو جلدوں میں بعض احادیث پر اعتراضات اور ان کے جو جوابات دیے گئے۔
6۔ مولانا اصلاحی کے لیکچرز جو 'مبادیِ تدبرِ حدیث' کے عنوان سے جمع کیے گئے۔

جہاں تک اس موضوع پر غامدی صاحب کی اپنی تحریرات کا تعلق ہے تو ایک تو غامدی صاحب کے مضامین کا مجموعہ 'میزان - حصۂ اول' جو 1980ء کی دہائی کی ابتدا میں شائع ہوا اور جس کے بعض مضامین اس وقت 'برہان' میں شائع ہوتے ہیں لیکن اس میں 'سنت' کی بحث اب شائع نہیں ہوتی۔

پھر 1990ء کی دہائی کے اواخر میں 'میزان' ایک الگ کتاب کا نام ہوا، اور اس کے مختلف اجزا الگ الگ شائع ہونے لگے۔ ان میں مبادی تدبر سنت اور مبادی تدبر حدیث کے عناوین کے مختلف ایڈیشن آئے جو ابتدا میں 'اشراق' میں شائع ہوتے رہے اور پھر کتابچوں کی صورت میں۔ 2001ء تک یوں کہیں کہ ان کا ایک مستقل مؤقف بن گیا۔ بعد میں اس میں کہیں کہیں جزوی تبدیلیاں آئی ہیں لیکن مؤقف بنیادی طور پر وہی رہا ہے جو 2001ء کی 'میزان' میں شائع ہوا ہے۔

سید متین احمد شاہ صاحب نے بجا طور پر سید سلیمان ندوی کے ایک مختصر مضمون کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں ندوی صاحب سنت اور حدیث میں فرق کی بات کرتے ہیں۔ تاہم یہ مضمون غامدی صاحب کے ڈسکورس میں نوے کی دہائی میں آیا ہے، اور اسی کی دہائی میں اس کا کوئی سراغ ان کے ڈسکورس میں نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں:   نواستشراق کے مذاہبِ اربعہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بہرحال غامدی صاحب کی ان تحریرات کو ابتدائی 5 مآخذ کے ساتھ ملا کر پڑھیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کے سامنے بنیادی طور پر وہی سوالات رہے ہیں جو مولانا مودودی کے سامنے پیش کیے گئے تھے۔ شاید ہی کوئی نیا سوال آپ ڈھونڈ سکیں۔ یہاں تک کہ (اور یہ شاید بعض لوگوں کے لیے حیرت کا باعث ہو) مثالیں بھی بعینہ وہی ہیں جو ان 5 مآخذ میں مذکور ہیں۔ شاید ہی غامدی صاحب کے ڈسکورس میں کوئی ایسی مثال انھوں نے پیش کی ہو جو ان 5 مآخذ سے باہر کی ہو۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سنت اور حدیث کے معاملے میں ان کا مؤقف وہی ہے جو مولانا مودودی کا ہے۔ بتانا صرف یہ ہے کہ ساری بحث اسی محور میں گھوم رہی ہے۔

تیسرا سوال : غامدی صاحب کی فکر میں سنت و حدیث کا فرق: اصل مسئلہ کیا ہے؟

اصل مسئلہ جس پر بحث ضروری ہے، اور بوجوہ اس پر بحث نہیں ہورہی، یہ ہے کہ جب غامدی صاحب 'سنت' بولتے ہیں تو ان کی مراد کچھ اور ہوتی ہے اور جب ان کے ناقدین ان پر نقد کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں سنت کا تصور کچھ اور ہوتا ہے۔ اس وجہ سے دونوں فریق الگ الگ دائروں میں سفر کررہے ہوتے ہیں۔

جہاں تک میں نے غامدی صاحب کے تصور سنت کو سمجھا ہے، ان کے نزدیک سنت سے مراد وہ چیز ہے جسے فقہاے کرام 'الطريقة المسلوكة في الدين' سے تعبیر کرتے ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اس سنت کے لیے غامدی صآحب تواتر کی شرط لگاتے ہیں اور یوں وہ 'سنت مشہورہ' اور اس سنت کو جو خبرواحد سے ثابت ہو رہی ہے، 'الطریقۃ المسلوکۃ فی الدین' سے نکال دیتے ہیں۔

یہ مؤقف ظاہر ہے کہ فقہاے کرام کے مؤقف سے مختلف ہے۔ جو احباب اس کے لیے احناف کے اصول سے استدلال کی کوشش کرتے ہیں، وہ بالخصوص غلط کر رہے ہیں کیونکہ احناف سنت مشہورہ کو بھی الطریقۃ المسلوکۃ فی الدین میں شمار کرتے ہیں اور خبر واحد سے ثابت عمل کو بھی، اگرچہ اس آخر الذکر کو وہ ظنی اور پہلی دو قسموں کو (معمولی فرق کے ساتھ) قطعی قرار دیتے ہیں، لیکن الطریقۃ المسلوکۃ فی الدین میں بہرحال تینوں کو شمار کرتے ہیں۔

یہ بات واضح ہوئی ہو تو اب اگلی بات پر غور کریں۔
جب فقہاے کرام سنت کو بطور 'حجت شرعیہ' ذکر کرتے ہیں اور اسے کتاب کے مقابل ذکر کرتے ہیں (کتاب و سنت)، تو وہاں فقہاے کرام کی مراد 'الطریقۃ المسلوکۃ فی الدین' نہیں ہے بلکہ ان کی مراد شرعی حجت ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اولین مخاطبین کےلیے براہ راست سماع سے اور دوسروں کو 'خبر' سے ملی۔ یہ خبر متواتر بھی ہوسکتی ہے، مشہور بھی اور خبرواحد بھی۔ اسی خبر کو حدیث کہتے ہیں۔ اس مفہوم میں 'کتاب و سنت' کا اور 'قرآن و حدیث' کا مفہوم ایک ہی ہوتا ہے۔

غامدی صاحب نے یہ ساری بحث خلط ملط کردی ہے اور اب ان کے متبعین سنت کے پہلے مفہوم کو لیے پھرتے ہیں اور ناقدین کے ذہن میں دوسرا مفہوم ہوتا ہے۔
میرے نزدیک اس ساری بحث میں اصل مسئلہ یہی ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • میں یہ سمجھتا ہوں کہ اہلِ علم میں اختلافات تو ہوتے رہتے ہیں۔۔۔ تفردات بھی کوئی نئی بات نہیں۔ اب ان سے اتفاق اور اختلاف اور اتفاق دونوں دلیل کی بنیاد پر ممکن ہیں۔۔۔ لیکن کسی/ چند علمی اختلافات کی بنیاد پر شخصیت پر خطِ نسخ لگانا اور سب خدمات سے پہلو تہی کرنا مجھ ناقص کے خیال میں دیانت داری کے خلاف ہے۔۔۔ پھر سفر بھی تنقید سے تنقیص کی طرف ہونا بہر حال موزوں معلوم نہیں ہوتا۔۔۔۔ جیسے اپنے پروگرامز/ دوروں/ براہِ راست ملاقاتوں میں کتنے ہی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو غامدی صاحب کی وجہ سے الحاد سے بچے اور دین بیزاری سے بھی۔۔۔۔ اسی طرح جن ویڈیوز میں غامدی صاحب کو جواب دیتے سنا گیا ہے بالعموم وہ شائستگی/ اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور سنجیدہ انداز میں اس کا جواب دیتے ہیں جو جدید نسل کو عقلی طور پر بھی مطمئن کردیتا ہے، اسی طرح وہ نہایت اچھے سامع بھی ہیں، جب کہ ان کے اکثر ناقد جذباتی اور بدزبانی پر اترنے تک کو غیرتِ دینی سمجھ کے کور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اس لیے میرے خیال میں علمی اختلاف کو ایک دائرے میں رکھتے ہوئے (جس کے بیان کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں) پوری شخصیت کو قبول کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔

  • ڈاکٹر محمد مشتاق احمد صاحب کا یہ کہنا بجا ہے کہ غامدی صاحب کا تصور سنت فقہائے کرام کے تصور سنت سے ماخوذ نہیں ہے ، البتہ یہ کہنا کہ ان کا تصور سنت بیسویں صدی میں برصغیر میں اٹھنے والے سوالات اور ان کے جوابات کے متعلق وجود میں آنے والے مکالمے سے ماخوذ ہے ، ہمارے نزدیک محل نظر ہے۔ یہ بات ، البتہ ضرور کہی جا سکتی ہے کہ اس بحث سےاُٹھنے والے سوالات کا شافی جواب جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے تصور سنت اور حدیث کے دائرہ کار کے موقف میں ہمیں مل جاتا ہے۔
    ڈاکٹر صاحب کا یہ کہنا بھی ہمارے نزدیک درست نہیں معلوم ہوتاہے " جہاں تک میں نے غامدی صاحب کے تصور سنت کو سمجھا ہے، ان کے نزدیک سنت سے مراد وہ چیز ہے جسے فقہاے کرام 'الطريقة المسلوكة في الدين' سے تعبیر کرتے ہیں۔" '
    الطريقة المسلوكة في الدين' سنت کی فقہی تعریف کو بیان کرتی ہے جو فرض اور واجب کے بعد کے درجے کو بتاتی ہے جب کہ غامدی صاحب سنت کو اپنے ہاں ماخذ دین کے لحاظ سے زیر بحث لاتے ہیں جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے خود بھی اس کی وضاحت کی ہے ۔اس موقف کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے سلف کے موقف کو سمجھنا ہو گا۔
    ابن عبدالبر جن کی کتاب جامع بیان العلم دین کے اصول و مبادی کے علم پرایک ام الکتاب کی حیثیت رکھتی ہے، وہ لکھتے ہیں "(دین کے)علم کی بنیادیں قرآن و سنت ہیں"سنت دو قسم کی ہے ان میں سے ایک قسم اجماع سے ملی ہے جو لوگوں کی ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوئی یہ ایک ایسی مضبوط حجت ہے جو قطع عذر کر دیتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی اختلاف مروی نہیں ہے(یعنی اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے)۔ غامدی صاحب کے نزدیک ساری سنت اسی طریقے سے ہمیں ملی ہے۔
    ابن عبد البر اسی ضمن میں مزید لکھتے ہیں ۔ 'سنت کی ایک دوسری قسم ہے جو صحیح سند کے ساتھ ملی ہو تو قابل حجت علماء کے نزدیک اس طرح کی خبر پر عمل واجب ہوتا ہے ۔اور ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو عقیدہ اور عمل دونوں کے واجب ہونے کے قائل ہیں'۔
    غامدی صاحب سلف سے سنت کے اس دوسرے حصہ میں جو اخبار احاد سے ملی ہے، سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اخبار احاد سے جو دین بھی ہمیں ملا ہے وہ اجماع اور تواتر سے ملنے والی سنت اور قرآن پر کوئی اضافہ نہیں کرتا بلکہ ان کی وضاحت کرتا ہے یا آپﷺ کے اسوہ کو بیان کرتا ہے۔