پہلے خود کو بدلو! - محمد فیصل ضیاء

دنیا کے کسی بھی ملک اور خطے کے عوام و الناس اپنے ملک کی ترقی اور کامیابی کے امین ہوتے ہیں۔ ملک حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام اور قوموں سے ترقی کرتے ہیں۔ حکمران اور لیڈر قومیں خود پیدا کرتی اور آگے لاتی ہیں، پھر یہی حکمران عوام کے سامنے جواب دہ بھی ہوتے ہیں اور عوام ان کو انصاف کے کٹہرے میں بھی کھڑا کر سکتی ہیں، مگر یہ سب کچھ تب ہے جب قوم و ملت اور عوام اپنے ملک کے ساتھ خود مخلص ہوں، ان کو اپنے ملک کا احساس ہو۔ مگر جب عوام ہی اپنے ملک کو لوٹنے اور کھانے لگے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ اگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو وطن عزیز میں کئی دہائیوں سے کھاؤ اور کھانے دو! کی پالیسی چل رہی ہے۔ حکمران اپنی تجوریاں اور قبر بھرنے میں مصروف ہیں اور عوام ایک دوسرے کو کھانے میں۔

ابھی کچھ دن پہلے ڈیرہ غازی خان سے چند پولیس والوں کی بطور ٹریفک کانسبیٹل تونسہ شریف میں تعیناتی ہوئی ہے۔ باتوں باتوں میں ایک پولیس والے نے بتایا کہ جن کی تعیناتی ہوئی ہے ان کو یہ ٹاسک دیا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر آپ لوگوں نے دس چالان پیش کرنے ہیں، اور چالان دو سو سے ایک ہزار تک کے ہونے چاہئیں۔ حیف کی بات یہ ہے کہ یہ چالان لازمی ہونے چاہئیں اور ہر حال میں خواہ مخواہ لوگوں پر چالان کرکے اتنی رقم روزانہ کی بنیاد پر اکٹھی کرنی ہے۔ استفسار کرنے پر اس نے وجہ بتائی کہ یہ سب فنڈنگ جمع کرنے کےلیے ہے۔ کرپشن کی یہی صرف ایک مثال نہیں کہ جس پر سر پکڑ کے رویا جائے، بلکہ اب تو کرپشن ہمارا قومی المیہ بنتا جا رہا ہے۔

آپ دور کے کسی گاؤں چلے جائیں تو وہاں بجلی کے کھمبوں پر لگی کنڈیاں حکمران نہیں عوام لگاتے ہیں۔ دن کے وقت یا رات کے کسی پہر آپ کسی بڑے شہر (لاہور، ملتان، اسلام آباد، وغیرہ ) میں کوئی رکشہ یا ٹیکسی کرایہ پر لیں تو جہاں کرایہ 50روپے بنتا ہے وہاں ڈرائیور آپ سے 200 لے گا، یہ ڈرائیور کوئی حکومتی اہلکار نہیں ہوتا۔ اب تو کراچی کی سڑکوں پر پولیس والے بچوں کے پیٹ کے نام پر اور پنجاب میں انعام کے نام پر رشوت لیتے ہیں، خیبر والے رشوت جیسا گندا کام کرتے وقت عمران خان کا مقدس نام لینا بھی گوارا نہیں کرتے اور بعض نے تو یہاں تک کہا کہ عمران جانے تم جانو! ہمیں مال چاہیے۔ بلوچستان کا حال سب کے سامنے ہے۔ یہ صرف محض زبانی کلامی باتیں نہیں، اکثر جگہوں پر ایسا ہوتا آیا ہے۔ شعبہ تعلیم میں کرپشن، محکمہ صحت میں بدعنوانیاں، انصاف کے تقاضوں میں گھپلے سمیت کرپشن کی بے شمار مثالیں ہیں۔ سچ یہی ہے کہ جہاں کرپشن ہو وہاں خیر خواہی کے بجائے بد خواہی کے آتش فشاں پھوٹ پڑتے ہیں، دوستی کے نام کے پیچھے منافقت آمیز رویے اور دشمنی کے کریہہ مناظر جنم لیتے ہیں، بد نیتی، بد عہدی، بد معاملگی، بد گوئی اور بد سلوکی کے نئے نئے واقعات رقم ہونے لگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

ہماری نفسیات اور فطرت میں ایک دوسرے کی تحقیر اور استہزاء رچ بس گئی ہے۔ ہم حکمرانوں کے جابرانہ، اور سنگدلانہ رویے سے نالاں اور شکوه کناں ہیں مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ ان مسائل کا درگزر اور چشم پوشی سے ازالہ نہیں ہو سکتا۔ اسی روش کی وجہ سے ہمارا ملکی نظام غیر ملکی امداد کا محتاج ہے، حالانکہ امداد ایسا جان لیوا زہر ہے جس کا تریاق نہیں۔ قرضے ایسا جال ہیں جن سے نکلنے کےلیے جتنا پھڑکا جائے اس کے تار اتنے ہی بدن میں گھستے چلے جاتے ہیں۔ جب تک عوام خود کو تبدیل نہیں کرتے اس وقت تک ملک میں تبدیلی نہیں آسکتی، تبدیلی لانا ہے تو پہلے خود کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ورنہ آپ لاکھ حکمران بدلو کچھ نہیں ہونے والا!