مسلمانوں کا سب سے بڑا کردار - ابو فہد ندوی

قَالَ لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ﴿٩٢﴾ یوسف نے کہا: آج تمہاری کچھ گرفت نہیں ہوگی، اللہ تمہیں معاف فرمائے اور وہ بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے

یہ وہ عظیم الفاظ ہیں جو حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان مبارک سے ادا ہوئے تھے۔ان کی عظمت میں اس وقت مزید اضافہ ہوجاتا ہے جب ہم تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں اور ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ الفاظ کسی معمولی لغزش کی معافی کے طور پر نہیں کہے گئے تھے، نہ کسی مجبوری و لاچاری کے چلتے ادا کیے گئے تھے اور نہ ہی ایسی کوئی بات تھی کہ معافی کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اس کے برعکس یہ الفاظ ایک ایسے ناقابل معافی جرم کے مقابل معرض وجود میں آئے تھے جسے تاریخ کے کسی بھی دور میں قابل معافی جرم نہیں سمجھا گیا ہے، نہ ملکی و عالمی عدالتوں میں،نہ ذاتی و نجی محفلوں میں اورنہ ہی شاہی دربارو محلات کی عدالتوں میں۔ یہ الفاظ اس وقت ادا کیے گئے تھے جب انہیں اداکرنے والا اپنے وقت کی سب سے بڑی اور ترقی یافتہ شہنشاہیت کے سب سے عظیم عہدے پر فائز تھا۔

زمانہ توبہت پہلے سے اپنی سی رفتار پر چل رہاتھا، دنیا اسی طرح محو گردش تھی مگر کوئی بھی بڑے سے بڑا شخص یابادشاہ ان الفاظ کو دہرانے کا جگر پیدا نہیں کرسکا تھا یہاں تک کہ زمانہ ظہورِرسالت مآب حضرت محمدﷺ کے وقت تک آپہنچا اور یہی الفاظ بالکل اُسی طرح کی سچویشن میں ایک بار پھرسے دہرائے گئے اور نہ صرف دہرائے گئے بلکہ ماقبل کی تاریخ کے حوالے کے ساتھ دہرا ئے گئے۔ یاد کیجیے فتح مکہ کا وہ دن جب زندگی بھر ستانے اور دکھ دینے والے مجرم جان بچانے کی خاطر گلیوں اور گھروں میں چھپتے پھر رہے تھے، ایسے مجرموں کے لیےکعبے کی چھت سے یہی الفاظ دہرائےگئے تھے۔،جب رسالت مآب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرمایاتھا أقُوْلُ كَمَا قَالَ يُوْسُفُ: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ .. ’’آج میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا۔ جاؤ تم سب کو معاف کیا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   سرورکائنات ﷺ عصر حاضر میں - الطاف جمیل ندوی

یہ معافی والا مزاج گویا پیغمبروں کا ابدی اور لازمی مزاج رہاہے۔اب ذرا بادشاہوں کے مزاج کوبھی قرآن کی زبانی سن لیں۔ ارشاد ہے إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوا أَعِزَّةَ أَهْلِهَا أَذِلَّةً ۖ وَكَذَ‌ٰلِكَ يَفْعَلُونَ ﴿٣٤﴾ ’’جب بادشاہ کسی بستی میں (فاتحانہ)داخل ہوتے ہیں تو اسے برباد کردیتے ہیں۔ باعزت لوگوں کو بے عزت کرتے ہیں، اور وہ ہمیشہ ہی ایسا کیا کرتے ہیں‘‘۔آخری الفاظ سے معلوم ہوا کہ یہ بادشاہوں کا لازمی مزاج رہا ہے۔ کہاں پیغمبرانہ مزاج،جو عفو ودرگزر کا مزاج ہے اور کہاں شاہانہ مزاج، جو رعونت وگرفت کا مزاج ہے؟ قرآن نے دونوں مزاج بیان کردیے ہیں، دونوں کی مثالیں بھی فراہم کردی ہیں اور دونوں کے کے فوائد ونقصانات بھی بتا دیے ہیں۔

حضرت یوسفؑ نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو معاف کیا اور حضور ﷺنے اپنی پوری جماعت پر ہونے والے مسلسل ظلم کو معاف کیا اور یہ اس لیے بھی ہوا تاکہ مسلمان انفرادی اور اجتماعی طورپر اس مزاج کو اپنا لیں اور ہمیشہ کے لیے اپنا لیں۔ بلاشبہ یہ مسلمانوں کا سب سے بڑامزاج ہے بلکہ کردار ہے،اگر وہ سمجھیں۔