[نظم کہانی] صہیونی کا قہقہہ - محمد عثمان جامعی

”ہے القدس ہم مسلموں کی امانت

سرائیل کا ہو وہ دارالحکومت

نہیں ہم کو منظور یہ تاقیامت“

بیاں جب مسلماں حکم راں کا آیا

تو شمعون نے قہقہہ اک لگایا

اسے اس کے بیٹے نے حیرت سے دیکھا

سبب ہنسنے کا باپ سے اپنے پوچھا

تو صہیونی بوڑھے نے اس کو بتایا

”سمجھتے ہو تم کیا بیاں کا ہے مطلب؟

بس اتنی سی ہے ان کو ہم سے عداوت

کہ وہ شہر جس پر فدا ہے یہ امت

ہمارا نہ بن پائے دارالحکومت

مگر یہ ریاست ہمیں مانتے ہیں

یہ ملک اور حکومت ہمیں مانتے ہیں

وگرنہ یہ کہتے نہیں جو ریاست

تو کیسی حکومت یا دارالحکومت“