"فائلیں" - سمیرہ انجم

ان گنت فائلیں سامنے میز پر دھری تھیں اور وہ اُن کو دیکھے جاتی تھی۔ یہ اس کا معمول ہوگیا تھا سالوں سے کہ وہ روز ایک خاص وقت میں اس میز کی طرف آتی۔ بڑے صاحب کے دیے گئے سب گوشواروں کو پوری طرح بھرنے کی کوشش کرتی اور پھر میز پر بائیں طرف رکھی ان فائلوں کی طرف توجہ دینے کی اپنی سی سعی کرتی۔

یہ مختلف رنگوں کی فائلیں تھیں جن میں سے کچھ تو مستقل ہی اس میز کا حصہ تھیں اور کچھ ادلتی بدلتی رہتیں۔ ان فائلوں میں کیا تھا اور ان کا اس کی زندگی سے کتنا گہرا تعلق تھا؟ یہ اسے خبر ہوتے ہوئے بھی خبر نہیں تھی۔ وہ تو بس اس میز پر روز آنے کے لیے کبھی بے چین ہوتی کبھی بس کارروائی پوری کرتی۔ اس میز کا اب اس کی زندگی میں جسم و سانس والا رشتہ تھا کہ وہ اس کے ذریعے ایک ایسی دنیا میں جانے کی کوشش کرتی جو اسے اس کے اصل سے ملا دیتا۔ اسے بڑے صاحب کی نظروں میں معتبر کر سکتا تھا۔ اگر بڑے صاحب کو اس کا آنا اور اس کا ایسے اس ڈوری کو تھامنا پسند آجاتا۔ وہ ان تک پہنچنا چاہتی تھی اور ان تک ان سب فائلوں کو پہنچانا چاہتی تھی۔

ان میز پر رکھی فائلوں میں کیا تھا؟ اس کا بھید بھی آشکار ہوجائے۔ ان میں کچھ بہت ہی قریبی اور پیاروں کی زندگی سے وابستہ کچھ راز تھے اور کچھ ایسے لوگوں کے جن کو شاید اپنی زندگیوں میں اس کی موجودگی کا احساس بھی نہ ہو کہ وہ ان کے لیے اجنبی تھی۔ لیکن ان کی فائل پر بھی اس کو کبھی کبھی اتنی ہی محنت کرنے کی شدت سے خواہش ہوتی تھی جیسے کسی اپنے پیارے کی فائل کو جب وہ اپنے ہاتھ میں اٹھاتی تو اس پر اپنی آنکھوں سے اشکوں کا خراج ثبت کرتی تھی۔

بڑے صاحب کے دفتر میں ایسی فائلیں جن پر اشکوں کی مہر ثبت ہو جاتی تو ان کو وی آئی پی کی حیثیت ملنے کا امکان بڑھ جاتا تھا ور اسی طرح وہ جلد نبٹا بھی دی جاتی تھیں۔اور وہ اس کا اپنا جب بڑے صاحب کی رضامندی سے کسی ایسے عہدے کسی بڑے انعام کا مستحق ہوتا تو شاید اس کو بھی خبر نہ ہوتی کہ ایک اس کی خیر خواہ نے بھی اس کی فائل کو آگے جانے کے لیے اپنی آنکھیں نم کی تھیں، اپنے ہاتھ، اپنے بدن کا رواں رواں متوجہ کیا تھا۔

وہ روز اس میز پر ایک خاص وقت میں ایک خاص انداز سے بڑے صاحب کا حکم بجا لاتی اور اس کے بعد ان بائیں ہاتھ رکھی فائلوں کی طرف متوجہ ہوتی اور ان کو دائیں طرٖف رکھتی جاتی ۔ یہ سلسلہ ہر بار اس طرح دہرایا جاتا۔ ہاں! کبھی ایک ایک کر کے یہ منتقلی بائیں سے دائیں ہوتی، کبھی ایک ہی بار ہوجاتی اور کبھی تو ایسا بھی ہوتا جب اس کا بدن تو وہ مشق کر رہا ہوتا کہ یہ اب اس کی عادت بن گئی تھی لیکن دل و دماغ ساتھ نہ دیتا اور میز کے پار کہیں اور ہی بھٹکنے لگتا۔ تب فائلیں بھی ایسے ہی پڑی رہ جاتیں۔

برسوں کا معمول ہوگیا تھا اب تو یہ۔ کبھی دل جمعی کبھی بس ایک رسمی کارروائی۔

آج بھی اس نے معمول کے گوشوارے بھرنے کے بعد ان فائلوں پر نظر کی۔ سب سے پہلے ایک نیلے رنگ کی فائل ہاتھ میں لی اور اس پر کچھ خزاں رنگ کا احساس اسے شدت سے تڑپانے لگا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کبھی اس فائل والوں پر یہ خزاں ہو، وہ ان کے لیے بہار کے رنگ چاہتی تھی۔ سکون و آسودگی کی چھاؤں کے لیے بڑے صاحب سے درخواست کرنے کے لیے ہاتھ میں اس فائل کو اٹھا رہی تھی اور اپنے اشکوں سے اس پر رنگ بکھیر رہی تھی۔ اس فائل پر دو نام درج تھے اور یہ دونوں اس کے وجود کو اس دنیا میں لانے کا سبب تھے۔ ان کے وجود سے اس کو ایک ٹھنڈک ایک سائے کا احساس ملتا اور ان کی ایک محبت بھری نظر اس کو ساری دنیا سے بےگانہ کر دیتی۔ اس کی تخلیق میں درد سہنے والی اس کی ماں اور اس کے لیے سایہ بنے والا اس کا باپ۔ ان کے لیے رنگ بہار مانگنے کے لیے وہ وہی الفاظ استعمال کرنا کرتی جو بڑے صاحب نے اپنے ضابطے میں ان کے مقام کو واضح کرتے لکھ دیے تھے۔ وہ الفاظ وہ موتی تھے جو بڑے صاحب کی توجہ فوراً حاصل کر لیتے۔ وہ اپنے الفاظ بھی استعمال کر لیتی کہ جب ایک وابستگی کی کیفیت میں ہوتی تو اس کو اپنے بدن کے لرزنے کا بھی احساس نہ ہوتا۔ جتنا وہ دے سکتی اپنا خون جگر فائل کو دے کے اگلی فائل کی طرف ہاتھ بڑھا دیتی کہ باقی اب بڑے صاحب کے ہاتھ میں تھا۔

یہ سفید فائل جس پر تین، چار رنگوں کے نام کندہ تھے، یہ اُن کی تھیں جن کے ساتھ اس کا اب تک کا دن رات وقت گزرا تھا، جو اس کے ماں جائے تھے جن کی اپنی اپنی دنیا تھی، ایک خاص وقت کے بعد اسی کی طرح ۔ وہ ان کے لیے، ان کی دنیاؤں کی رنگینیاں ہمیشہ رہنے کی درخواست کرتی۔ ان کی آنکھوں کو ہمیشہ مسکراتے دیکھنا چاہتی کہ ان سے بھی تو وہ جڑی ہوئی تھی۔

سفید فائل کے بعد اس کی نظر ایک بھورے رنگ کی فائل پر پڑی۔ اس نے اسے ہاتھ میں لیا اس پر ایک نام درج تھا، یہ نام اس کے ایک دور دراز بستے اس بیٹے کا تھا، جس کو اس نے جنا نہیں تھا لیکن ممتا کے لیے جنم دینا ضروری تو نہیں ناں؟ وہ اس کی ہر تکلیف کو محسوس کر لیتی تھی اور اس پر اسی طرح بے چین ہوتی جیسے وہ اس پر بیت رہی ہے۔ وہ اس کا پتر جو اسےآ پی کہتا، زندگی کی چکی کو روز گھسیٹتا تھا۔ یہ چکی بطاہر تو پر کشش لگتی تھی لیکن اس کو چلانے والا ہی جانتا تھا کہ وہ کس کرب سے روز اس مشقت سے گزرتا ہے۔ تو اس بچے کے لیے اسے بڑے صاحب سے روز یہ درخواست اشکوں سے فائل کے کاغذوں پر لکھنا ہوتی تھی کہ اس کی زندگی میں کچھ سہولت اطمینان کی پھوار آجائے۔

ایک فائل ان سب کی تھی جو اس کی زندگی میں کہیں نہ کہیں کسی آسانی کا سبب بنے جن کی وجہ سے وہ مسکرائی یا اس نے خوشی کی چادر اوڑھی اور یہ نام ایسے تھے جن سے وہ کبھی غافل نہیں ہونا چاہتی تھی اور نہ کبھی ان کو اپنی زندگی سے باہر سمجھتی تھی۔ یہ وہ تھے جنہوں نے اسے وہ احساس دیا جو وہ سمجھتی تھی اس میں نہیں ہے۔ تو ان کے کسی کام آجائے اس کا یہ عمل تو وہ بھی کچھ مطمئن ہو۔

ایسی فائل بھی تھی جس پر 14 نومبر درج تھا اور یہ اس انسان کی فائل تھی جس سے اس کو تکلیف کا ایسا احساس ہوا تھا کہ جو اس کی زندگی کو تہہ و بالا کر گیا تھا ، ایک آتش فشاں کی طرح سب کچھ بھسم کر گیا تھا۔ یہ فائل کبھی وہ بہت تکلیف کے احساس سے اٹھاتی، کبھی بہت بے چارگی بے بسی کے ساتھ کہ اس انسان سے وہ چاہتی بھی تو تعلق ختم نہ کر سکتی، خون کا تعلق کون توڑ سکتا ہے؟ اس کی زندگی سے جڑے کچھ اور لوگ بھی اس درد آشنائی میں اس کے ساتھ برابر کے شریک تھے اور اُن فائلوں سے کبھی کبھی یا اکثر جو وہ کنارہ کش ہو جاتی تو اس میں اس فائل والے کا تعلق گہرا تھا کہ جب اس کو لگا بڑا صاحب اب اس کی طرف نہیں دیکھتا کہ اس نے تو اس کو ہی اپنا سب کچھ مان لیا ہے۔ تو وہ باقی کوئی کام نہ کرتی بس معمول کی کارروائی کرتی اور اٹھ جاتی۔

اس کے نام کی فائل بھی تو ان سب میں کہیں پڑی تھی جس کے طرف اس کو رہ رہ کر خیال بھی آتا لیکن پھر اس کی ازلی خود فراموشی یا یہ احساس کہ کسی اور کے ساتھ بد دیانتی نہ ہوجائے۔ وہ اس طرف کبھی کبھی دیکھتی، وہ جو اس میں لکھا وہ سب پڑھتی اور بڑے صاحب کے ایما و رضا پر چھوڑ دیتی کہ وہ تو اس کو جانتا ہے تو اس پر خود ہی دیکھے گا کہ جس نے اس کو اس طرح ڈھال دیا تھا کہ اس کو بس بڑے صاحب کی خوشنودی چاہیے تھی۔ اس کے خواب، اس کی تمنائیں، خواہشات "اس کے" رحم و کرم پر تھیں اور وہ چاہتی بھی یہی تھی کہ وہ تو اس ڈوری سے بندھے رہنے کو ہی سب سمجھتی تھی، باقی سب تو عبث تھا۔

فائلوں پہ ان اشکوں کی جلترنگ بجتی اور بہت سوں کی زندگی میں خوشی کی چادرکا تانا بانا بنتا جاتا کہ یہی تو بڑے صاحب کا حکم تھا اور وہ اس کی ماتحت

اور زندگی یوں ہی مسکراتی جاتی اشکوں کے دھیمے سروں کے ساتھ!

ٹیگز

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • بیحد خوبصورت تحریر۔۔۔دل سے نکلی باتیں سیدھا دل پر ہی اثر انداز ہوتی ہیں! سادہ الفاظ،سادہ خیالات ایک بہت ہی حساس دل کی ترجمانی کرتے ہیں! دعا گو ہوں کہ ان بیش قیمت آنسوؤں سے تر ہر فائل بڑے صاحب کے حضور سرخ رو ہو جائے!!! آمین