دو روز قبل دفنایا گیا ملک نعیم -نصرت جاوید

بڑے شہروں میں ایک مخصوص حلقے تک محدود رہتے ہوئے صحافی اکثر کنویں کے مینڈک کی طرح ہو جاتے ہیں۔ انگریزی زبان والے Bubble میں گرفتار۔ مذکورہ ”بلبلے“ میں بند سوچ ہی کی وجہ سے امریکی صحافیوں کی بے پناہ اکثریت ٹرمپ کے عروج کے اسباب کوبروقت جان نہ پائی۔ وہ ان کی توقعات کے برعکس بالآخر وائٹ ہاﺅس پہنچ گیا تو یہ صحافی اپنی تحریروں میں اب حیران ہی نہیں ذہنی اعتبار سے مکمل طورپر شکست خوردہ بھی نظر آتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کو 14 اپریل 1979میں پھانسی دینے کے بعد جنرل ضیاءالحق نے بے پناہ اعتماد کے ساتھ ہمارے ملک کو ایک نیا بیانیہ دیا۔ اسلام کی نشاة ثانیہ کا ڈھونگ رچاتا اور افغانستان کو ”جہاد“ کے ذریعے کمیونزم سے آزاد کروانے کی جدوجہد میں مبتلا یہ بیانیہ انتہائی بے رحمی کے ساتھ ذرائع ابلاغ کو غلام بناکر قوم کے ذہنوں میں ٹھونسا گیا۔ تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم آج تک اس بیانیے سے آزاد نہیں ہوپائے ہیں۔

فی الوقت ذکر البتہ مجھے فقط 1985میں ہوئے انتخابات کا کرنا ہے۔ ان انتخابات کے انعقاد سے 4برس قبل 1981میں تمام سیاسی جماعتیں ”کالعدم“ ٹھہرائی جاچکی تھیں۔جمہوریت کی بحالی کے نام پر MRDنام کا اتحاد قائم ہوا۔اس کی سرگرمیاں لیکن صرف بڑے شہروں تک محدود رہیں۔ 1983میں غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم نے اس کے بینر تلے عوامی تحریک چلانے کی کوشش کی تو اس کی حدت وشدت سندھ کے دیہات وقصبات تک محدود رہی۔ سینکڑوں لوگ تاریک راہوں میں مارے گئے۔ ہزاروں گرفتار ہوئے۔ کئی ایک جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ شکست خوردگی ہمارا قومی رویہ بن گئی۔

شہروں تک محدود ہوئے مجھ ایسے صحافی ان دنوں سنسر سے بچ بچاکر ایک دو جملے شائع کروانے میں کامیاب ہوجاتے تو خود کو بڑا تیس مارخان شمار کرتے۔حق وصداقت کے علمبردار وغیرہ وغیرہ۔ ایسے ماحول میں جنرل ضیاءاور اس کے رفقاءنے ”غیر جماعتی بنیادوں“ پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے انتخابات کا اعلان کیا تو ہماری اکثریت کو یقین تھا کہ فوجی ا ٓمر کے کروائے صدارتی ریفرنڈم کی طرح ان انتخابات میں حصہ لینے کے لئے خلق خدا گرم جوشی نہیں دکھائے گی۔ گھروں میں بیٹھی رہے گی۔

ان انتخابات کے انعقاد سے چند ماہ قبل لیکن میں بھارت میں موجود تھا۔ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد جو انتخاب ہوئے تھے اس کے لئے چلائی مہم کو مختلف شہروں میں ریل کی تھرڈ کلاس کے ذریعے پہنچ کر انتہائی سستے ہوٹلوں میں قیام پذیرہوتے ہوئے دیکھا اور رپورٹ کیا۔ دلّی میں محدود ہوئے ”سینئر صحافیوں“ کی اکثریت کو یقین تھا کہ اندراگاندھی کی ہلاکت کے بعد اس کی جماعت میں جان نہیں رہی۔ نام نہاد قیادت کے بحران کے سبب بالآخر مخلوط حکومت کا قیام ضروری ہوجائے گا۔ دلّی میں مقیم ہمارے سفارت کاروں نے ایسے ہی تجزیے اپنی حکومت کو بھی بھیجے تھے۔

”ہواڑہ ایکسپریس“کے ذریعے دلّی سے کلکتہ سفر کرتے ہوئے ریل کے تھرڈ کلاس ڈبے میں جو دیہاتی بھی مختلف شہروں سے سوار ہوتے مجھے ملے ان سب کا اکثر جملہ مگر ایک ہوتا: ”لمڈے (راجیو) کو ایک چانس ضرور دینا ہے“۔ اس فقرے نے مجھے یہ دعویٰ کرنے پر مجبور کر دیا کہ 1984کے انتخابا ت میں کانگریس اتنی اکثریت حاصل کرے گی جو شاید نہرو اپنے خوابوں میں سوچتا ہو گا۔ انتخابی نتائج آئے تو میری لاج رہ گئی۔

بھارتی انتخابات کی وجہ سے ملے تجربے کی بنیاد پر میں نے 1985میں عام لاریوںکے ذریعے راولپنڈی سے چکوال اور وہاں سے مظفر گڑھ تک کا ایک طویل سفر کیا۔ اس سفر کی بدولت دریافت یہ ہوا کہ قصبات میں موجود لوگوں کی بے پناہ اکثریت 1985کے انتخابات میں حصہ ڈالنے کو بے چین ہے۔ اس انتخاب میں دھڑے اور برادری نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ امیدوار کی شخصیت مگر فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ شہروں میں محدود ہوئے صحافیوں نے ان انتخابات کی بدولت ابھرے ”نئے چہروں“ کو ان دنوں اہمیت ہی نہ دی۔یہ الگ بات ہے کہ نواز شریف بھی ان چہروں میں شامل تھے اور چودھری نثار علی خان بھی۔

بڑے شہروں تک محدود ”دانشور“ ان چہروں کی اہمیت کو بروقت سمجھ نہ پائے۔ اگرچہ قومی اسمبلی کے رکن کے طورپر حلف لینے کے فوری بعد انہوں نے قومی اسمبلی کے لئے جنرل ضیاءالحق کے نامزد کردہ خواجہ صفدر مرحوم کے مقابلے میں سید فخر امام کو سپیکرمنتخب کرکے اپنی ”خودمختاری“ کا اعلان کردیا تھا۔ ان ہی چہروں کی توانائی سندھڑی سے آئے محمدخان جونیجو مرحوم جیسے نسبتاَگمنام اور کم گو شخص کو جنرل ضیاءکے مقابل لانے کا باعث ہوئی۔

جونیجو حکومت کا پہلا بجٹ ڈاکٹر محبوب الحق نے پیش کیا تھا۔ اس بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے خوشاب سے منتخب ہوا ایک رکن کھڑا ہوا اور پریس گیلری میں موجود مجھ ایسے صحافیوں کو حیران کرگیا۔نام اس رکن کا ملک نعیم تھا۔ قومی سیاست پر عسکری قیادت کے اجارہ کا طنزیہ انداز میں ذکر کرتے ہوئے 30سال کے قریب دکھتے اس نوجوان نے حیران کن جرا¿ت کے ساتھ یہ تجویز پیش کی کہ پاک فوج کو ان کے سیکٹرز کے حوالے سے مختلف کمانڈز میں تقسیم کر دیا جائے۔

مختلف کمانڈز میں تقسیم فوج کا سربراہ مارشل لاءلگانے سے قبل اپنے رفقاءکو On Board لانے میں اتنا کامیاب نہیں رہے گا جیسے ایوب خان، یحییٰ خان اور جنرل ضیاءبآسانی ہو گئے تھے۔

1985میں قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر آرمی چیف کی طاقت کو کمزور کرنے کی یہ تجویز دیوانگی دکھتی جرا¿ت مندی تھی۔ ملک نعیم نے مگر دکھا ڈالی۔ بغیر آواز بلند کئے اور ایسے دلائل کے ساتھ جو عموماًَ سیمیناروں میں سنے جاتے ہیں۔

قومی اسمبلی کی کارروائی میں وقفہ ہوا تو میں بہت اشتیاق سے اس رکن کو ملنے گیا۔ موصوف سے تعارف ہوا تو بہت خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ گرم جوشی مگر نہ دکھائی۔ اپنی ذات کا تعارف کروانے میں بھی زیادہ دلچسپی نہ دکھائی۔ چہرے پر مسکراہٹ دوستانہ البتہ برقرار رکھی۔ متاثر کن حد تک لمبے تڑنگے ملک نعیم مردانہ وجاہت کا ایک باکمال نمونہ تھے۔ کسی محفل میں موجود ہو تو آپ اسے نظرانداز کر ہی نہیں سکتے تھے۔ اپنی ذات کے بارے میں برتی اس کی بے اعتنائی نے مجھے مجبور کیا کہ چند سینئر سیاست دانوں سے اس کا بیک گراﺅنڈ جانا جائے۔

چودھری انور عزیز ایسے موقع پر مجھ ایسے Bubbleمیں بند صحافیوں کے بہت کام آتے ہیں۔ ربّ کریم انہیں طویل عمر عطا فرمائے۔ ان کی بدولت پتہ چلا کہ آرمی چیف کی طاقت کو کمزورو کرنے کی ”تخریبی“ تجویز دینے والا ملک نعیم پاک فوج کے ایک بہت ہی مشہور بریگیڈئر سجاول کا فرزند ہے۔ خوشاب کے اعوان ہیں۔ ان کے ننھیال وہاں کی مقامی سیاست کے بے تاج بادشاہ مانے جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔ ملک نعیم نے مگر ان کی سرپرستی کے بغیر ہی قومی اسمبلی کی سیٹ جیت لی ہے۔

1985سے 1993تک ملک نعیم صرف اپنی شخصیت کے بل پر قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوتا رہا۔ نواز شریف کے پہلے دور میں اس کا شمار ”پنچ پیاروں“ میں ہوتا تھا یعنی وہ پانچ وفاقی وزراءجو نواز شریف کی کیچن کیبنٹ کہلاتے تھے۔اپنی اس قربت کے باوجود وہ میرا بے پناہ دوست بن گیا۔ وفاقی وزیر کے لئے مخصوص گھر میں رہنے کی بجائے F-7/2کی ایک کوٹھی کے دوکمروں تک محدود رہا جسے ان دنوں ”پنجاب ہاﺅس“ کہا جاتا تھا۔

نواز شریف کے حواری ان دنوں مجھے ”جیالا“ شمار کرتے تھے۔ میری ”وفاداری“ ان کی نظر میں مشکوک تھی۔ مہینے میں کم از کم تین یا چار بار رات گئے تک میرے ساتھ اکیلے بیٹھ کر طویل مباحثے کئے بغیر مگر اسے چین نہیں آتا تھا۔عالمی امور پر تازہ ترین کتاب شائع ہوتے ہی اس نے پڑھ لی ہوتی تھی۔ ان کتابوں سے اخذ کردہ خیالات کو وہ میرے ساتھ زیربحث لاتا۔

پھر ایک خوفناک بیماری نے اسے خاموش کردیا۔ کئی برس تک بستر تک محدود ہوگیا۔ گفتگو اس کی اصل کشش اور وصف تھے۔ اسی سے محروم ہوگیا اور میں اسے بے کسی وبے بسی کی اس حالت میں دیکھنے کی خود میں کبھی ہمت ہی پیدا نہ کرپایا۔دو روز قبل اسے دفنادیا گیا ہے اور میں ابھی تک 1985کے بجٹ اجلاس میں ہوئی اس کی تقریر کے سحر سے باہر ہی نہیں آ پایا ہوں۔ مزید کیا لکھوں؟