تمہارے نام ایک خط- عطا ء الحق قاسمی

پیارے حبیب جالب!
یہاں پرہر طرح خیریت ہے اورخداوند کریم سے تمہاری خیریت نیک مطلوب ہے۔ دیگر احوال یہ ہے کہ جمہوریت کی بھینس نے مرا ہوا کٹا دیا ہے چنانچہ بھینس کے تھنوں میں دودھ اتارنے کے لئے کٹے میں بھس بھر کر اس کے ساتھ کھڑا کردیا گیا ہے مگر آج کل کی بھینس بھی بہت سیانی ہوگئی ہے۔ اسے اصلی اور نقلی کی پہچان ہے۔ چنانچہ اب وہ دودھ بہت کم دے رہی ہے۔ اس دودھ میں بھی بھینس کے ساتھ بندھی بکری مینگنیں ڈال دیتی ہے۔ تمہیں یہ بھینس بہت پیاری تھی۔ تم اس کو پالنے پوسنے میں لگے رہتے تھے مگر اب یہ بہت لاغر ہوگئی ہے چنانچہ گائوں کا قصائی معنی خیز نظروں سے اسے گھورنے لگا ہے۔ قصائی نے دو تین دفعہ اشاروں کنایوںمیں اسے فروخت کرنے کی بات کی ہے لیکن ہم نے سختی سے انکار کردیا۔ ہمارا کہنا تھا کہ کم دودھ کی وجہ سے اسے بوچڑوں کے حوالے نہیںکیاجاسکتا۔ دیکھیں آگے چل کر کیا کیا ہوتا ہے؟

ہمیں یاد ہے کہ تم لاہور کے فٹ پاتھوں پر پیدل چلا کرتے تھے۔ جب تھک جاتے تو ٹی ہائوس آ جاتے۔ وہاں دانشوروں کی جگتیں اور مینے سن کر ٹی ہائوس کے باہر ریلنگ کا سہارا لے کر کھڑے ہو جاتے اور پھر اپنے سیاسی دوستوں سے ملنے کافی ہائوس کی طرف چل پڑتے جہاں یار لوگ خوش وقتی کے لئے سیاسی گفتگو کر رہے ہوتے۔ تم اس بے عمل گفتگو سےاکتا کر ایک بار پھر سڑکیں ماپنا شروع کردیتے۔ تم اس وقت بھی تنہا تھے، تم جیسے لوگ آج بھی تنہا ہیں کہ نہ تمہاری موجودگی میں دلوں پہ بے حسی کی برف پگھلی تھی اور نہ یہ برف آج پگھلتی نظر آتی ہے۔ باقی سب خیریت ہے!

پیارے حبیب جالب! تمہاری ساری عمر عوام کے جمہوری حقوق کی جنگ لڑتے گزری ہے۔ تم جنرل ایوب کے خلاف سینہ سپر رہے، جنرل ضیاء سے برسرپیکار رہے، جمہوری حکمرانوں سے بھی تمہارا پھڈا رہا۔ تم زہر ہلاہل کو کبھی قند نہ کہہ سکے جس کے نتیجے میں اپنے اور بیگانے دونوں تم سے خفا رہے۔ تم اپنے دور کے شاعروں اور دانشوروں کے گناہوںکا کفارہ تھے۔ آج کا کفارہ ادا کرنے کے لئے ہمارے پاس آدھے حبیب جالب تو ہیں پورا حبیب جالب کوئی نہیںہے۔ آج کے بیشتر حبیب جالب ’’ملازم‘‘ ہیں اور ڈالروں میں تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ اصلی حبیب جالب بننے کے لئے اپنے بچوںکو آدھی روٹی کھلانا پڑتی ہے اور مراعات کو ٹھکرانا پڑتاہے۔

آج کا شاعر اور دانشور برگر اور پیزا کھاتا ہے اور جگہ جگہ زانوئے تلمذ تہہ کرتاہے۔ این جی او والا حبیب جالب عورتوں، بچوں اوربے نوائوں کے حقوق کی جنگ بھی لڑتا ہے تو اس کابل اپنی این جی او والے ملک سے ڈالروں میں وصول کرتاہے۔ اگر شاعر ہے تو دار و رسن سے سینکڑوں میل دور کھڑے ہو کر اپنے شعروں میں دارورسن کی بات کرتا ہے اور منصورکہلاتا ہے۔ ان کی خاطر جان دینے کی بات بھی اگرکرتا ہے تو یہ نہیں بتایا کہ حق کیا ہے؟ یزید کو کوستاہے مگر وقت کے ہر یزید کے ہاتھ پرسب سے پہلے بیعت کرتا ہے۔ تم کردار کے غازی تھے، یہ گفتار کا غازی بھی بہت سوچ سمجھ کر بنتاہے۔

باقی سب خیریت ہے!

پیارے حبیب جالب ! تم ساری عمر امریکہ اور استحصالی طاقتوں کے خلاف لڑتے رہے لیکن اگر تم آج زندہ ہوتے تمہیں اپنے وقت کا امریکہ ایک بگڑے ہوئے رئیس زادے سے زیادہ کچھ نہ لگتا۔ ان دنوں اس ملک کے حکمران ہوش وحواس سے پوری طرح عاری ہوچکےہیں۔ ماضی میں یہ حکمران افغانستان میں بچوں پہ بم اور کھلونے پھینکنے سے ابھی پوری طرح فارغ بھی نہیں ہوئے کہ عراق پر چڑھ دوڑنے کے منصوبے بنائے گئے۔ یروشلم کو اسرائیلی دارالخلافہ تسلیم کرنے پر دنیا بھر میں ٹرمپ کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں۔ یورپین ممالک، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل بھی بنیاد پرست ٹرمپ کو دنیا کی تباہی سے روکنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اس کے جنون میں کوئی کمی نہیں آ رہی۔

پیارے حبیب جالب ! تم ان دنوں جنت میں عیش کر رہے ہو گے۔ وہاں حوریں اور غلمان تمہاری خدمت پر مامور ہوں گے۔ شراباً طہورا سے لطف اندوز ہو رہے ہوگے۔ شراباً طہورا کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ تم استفادہ کررہے ہوگے البتہ اللہ جانے حوروں و غلمان سے تم کوئی خدمت لیتے ہو یا وہاں بھی تمیز بندہ آقا والا پھڈا ڈالا ہوا ہے؟ تم دودھ اور شہد کی نہروں کےکنارے چہل قدمی کرتے ہوگےاور اپنے رب کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی سوچتے ہوگے کہ ترقی یافتہ ملکوں نے دودھ اورشہد کی نہریں اپنے اپنے ملکوں میںبھی بہائی ہوئی ہیں۔

ہم پسماندہ ملکوں کے لوگوں کو اس کے لئےجنت کا انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے؟ میں تمہاری سوچوں سے بہت اچھی طرح واقف ہوں چنانچہ مجھے یقین ہے کہ وہاں یاقوت کے محل میں مخملیں بستر پر لیٹے ہوئے تمہیں یہ خیال تو تنگ کرتا ہوگا کہ اس جنت کے دوسری طرف ایک دوزخ ہے جہاں انسانوں کی زندگی ان کے لئے عذاب بنی ہوئی ہے۔ وہاں دوزخ کے فرشتے انہیں عذاب دینے پرمعمور ہیں۔ جہاں موت کی خواہش کی جاتی ہے مگر موت نہیں آتی۔ تم ضرور سوچتے ہوگے کہ یہاں تو نیکوں کو ان کی نیکیوں کا اجر اور بدوں کو ان کی بدی کی سزا دی جارہی ہے لیکن ہماری دنیا میں جو جنتیں اور جو دوزخیں آباد ہیں وہ کیا ہیں؟

مراعات یافتہ طبقے کی جنت میں لوگ عالیشان محلات میں رہتے ہیں۔ ان کے پاس اپنے جہاز اور عالیشان کاروں کے فلیٹ ہیں۔ مغربی ممالک میں ان کے عشرت کدے ہیں اور اپنے ملک میں غیرملکی سفیروں کی طرح ان پر کوئی ملکی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ان کےپے رول پر ایسے جن موجود ہیں جو چشم زدن میں ان کی ہر خواہش پوری کردیتے ہیں اور ان کا ہر حکم بجا لاتے ہیں جبکہ اسی زمین پرایک دوزخ بھی ہے جہاں ایک دوسرا طبقہ آباد ہے۔ اس طبقے کے لوگ مراعات یافتہ کلاس کی خدمت پر مامور ہیں۔

وہ ان کے لئے فصل کاشت کرتے ہیں اور ان کے بچے بھوک سے مرتے ہیں۔ وہ ان کے لئے ریشم کے ڈھیر بُنتے ہیں اور ان کی بچیاںتار تار کو ترستی ہیں۔ وہ ان کے لئے محلات تعمیر کرتے ہیں اورخود فٹ پاتھ پر سوتے ہیں۔وہ ان کی گاڑیاں دھوتے ہیں اور خود کسی روز اس گاڑی کے نیچے آ کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ تم کسی روز اللہ سے ضرور پوچھو گے کہ اےغفور الرحیم! اگر تیری رحمتوں کے طفیل ایک دن تیری دوزخ کے مکینوں کی سزائیں بھی معاف ہوں گی اور انہیں جنت میں بھیج دیا جائے گا تو جو دوزخیں دنیا میں آباد ہیں، ان کے مکینوں کو اس جہنم سے کب نجات ملے گی؟ نیز ان لوگوں کی رسی اور کتنے روز دراز رہے گی؟ جوتیرے احکام اور تیرے نبیﷺ کی سیرت کو بھلا کر اپنے لئےجنت اور دوسروں کےلئے دوزخ تعمیر کرتے ہیں۔پیارے حبیب جالب ! اگر جنت میں تمہیں حضور نبی اکرمﷺ کادیدار نصیب ہو تو ان کے پائوں میں گر جانا اور گڑگڑا کر ہمارا حال زار بیان کرنا اور بتانا کہ آپ ﷺ کی امت پہ عجب وقت پڑا ہے اور اس وقت تک ان کے پائوں سے نہ اٹھنا جب تک وہ تمہارے کاندھے پہ اپنا دست ِرحمت نہ رکھ دیں!

ابھی تم سے اوربھی باتیں کرنا تھیں لیکن باقی پھر کبھی سہی۔ تم اپنی صحت کا خیال رکھنا، شراباً طہورا کا استعمال بھی ذرا کم رکھنا، باقی سب خیریت ہے۔
تمہارے دوست
پاکستانی عوام