جمہوری اقدار کے بغیر جمہوریت؟ حسن نثار

جمہوری اقدار کے بغیر جمہوریت؟چند روز پہلے غالباً 7 دسمبر کوئٹہ میں سیمینار سے خطاب کے دوران آرمی چیف نے بہت سی باتیں کیں۔ میرے نزدیک حاصل کلام یہ کہ ........’’جمہوریت اور اس سے بھی زیادہ جمہوری اقدار پر یقین رکھتا ہوں‘‘۔’

’جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کی خدمت کی بجائے اپنے مفاد کو ترجیح دی جائے‘‘۔’’پسماندگی کی ا ہم وجہ معیاری تعلیم کا فقدان ہے، جدید تعلیم کی ضرورت ہے‘‘۔باتیں بہت سادہ اور بے حد بنیادی قسم کی ہیں، جیسے کوئی یاد دلائے کہ انسان آکسیجن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا لیکن کیا المیہ ہے کہ جمہوریت کے ٹھیکیدار مسلسل لترول چھترول، دھلائی اور دھنائی، ذلت و رسوائی کے باوجود اک ایسی’’جمہوریت‘‘ پر اڑے ہوئے ہیں جو جمہوری اقدار سے یکسر محروم ہے اور جو اس لفظ کے لئے کسی گالی سے کم نہیں۔ حیرت ہے کہ جمہوریت کے تسلسل اور استحکام کے بارے میں ہمہ وقت فکرمند جمہور دشمنوں کا یہ گروہ نہ کبھی اپنی غلیظ چارپائیوں کے نیچے ڈانگ پھیرتا ہے نہ اپنے بدبوار گریبانوں میں جھانکنے کی زحمت اٹھاتا ہے۔ کمال یہ کہ اس میں پیشہ ور سیاستدانوں کے علاوہ وہ سادہ لوح خوش نیت بھی شامل ہیں جو براہ راست اس بدکار جمہوریت کے بینی فشریز بھی نہیں۔

یہ فیشنی جمہوریت پسند ہیں جو صرف ایک لفظ کی کشش میں مبتلا، اس کے سحر میں غرق ان مافیاز کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں جن کا جمہوریت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ ابھی تین چار دن پہلے پنجاب فوڈ اتھارٹی نے چھاپہ مار کر اک ایسی’’فیکٹری‘‘ پکڑی ہے جہاں ڈیٹرجنٹ اور مختلف کیمیکلز کی مدد سے منوں کے حساب’’نقل مطابق اصل‘‘ ایسا مکھن تیار کیا جارہا تھا جو دیکھنے چکھنے میں بالکل اصل مکھن جیسا تھا سو منوں کے حساب سے بک بھی رہا تھا تو کیا بچوں کو یہ’’خالص‘‘اور ’’تازہ‘‘ مکھن کھلانا شروع کردیں؟رب العزت کی قسم پاکستانی جمہوریت اسی مکھن جیسی ہے ورنہ مجھے پاگل کتے نے کاٹا ہے جو پچیس سال سے اس پر لعنتیں بھیج رہا ہوں۔

سردیوں میں شہد کی کھپت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دو روز پہلے شہد کی ’’فیکٹریاں‘‘ بھی پکڑی گئی ہیں جہاں گلوکوز اور شیرے وغیرہ سے شہد تیار ہورہا تھا تو بھائی! جہاں دودھ، مکھن، شہد اور بیسن، مرچیں، ہلدی خالص نہیں، بے تحاشا منافع بخش پروٹوکول میں لتھڑی ہوئی جمہوریت کیسے خالص ہوسکتی ہے؟ اسی لئے اس پر بھی کبھی کبھی’’چھاپہ‘‘ پڑجاتا ہے تو رونا کیسا؟ ہم کیونکہ چشم بددور ’’اک زندہ قوم ہیں‘‘ اس لئے اپنی اپنی پسندیدہ جعل سازیوں اور مرغوب ملاوٹوں سے باز نہیں آتے۔

ذلتوں، خواریوں، جیلوں، جرمانوں، مقدموں سے فارغ ہو کر پھر وہی مخصوص دھندے شروع کردیتے ہیں۔ جمہوری اقدار سے تہی دامن ہماری’’جمہوریت‘‘ بھی ان شرمناک دھندوں میں سے ایک بلکہ سرفہرست ہے۔ چھتر کھانا ہے باز نہیں آنا۔خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہئے کہ کیا ہماری سیاسی جماعتیں واقعی سیاسی جماعتیں اور ہماری جمہوریت واقعی جمہوریت ہے؟ کبھی تو سوچئے کہ جہاں سے یہ’’امپورٹ‘‘ ہوئی ہے کیا وہاں بھی اسی طرح پریکٹس ہوتی ہے جیسے ہمارے پیارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں؟تو پھر جیسے جعلی خوراکیں اور جعلی دوائیں بند نہیں ہورہیں ، تو کیا اس جعلی جمہوریت کے ساتھ بھی اسی طرح جینا ہوگا؟ تو یہ مکمل بربادی ہوگی لیکن ایک علاج ہے جس کی جس جعلسازی کی فیکٹری تیسری بار پکڑی جائے اول تو اسے فائرنگ سکواڈ کے سپرد کرو کہ وہ’’قتل عامہ‘‘ کا مرتکب ہے لیکن اگر یہ کچھ زیادہ لگے تو اس کی پوری جائیداد بحق سرکار ضبط کرلو ورنہ لگے رہو، مزید 70سال بھی جہنم رسید سمجھو۔اپنی اپنی دنیا، اپنا اپنا کلچر، اپنی اپنی روایات، سلاطین دہلی میں سے کچھ نے کم تولنے پر یہ سزا متعارف کرائی کہ جس دکاندار نے جتنا کم تولا، اتنا گوشت اس کے جسم سے اتارلیا جاتا۔ چینی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کے وارث ہیں۔

کرپشن وائرس کو کینڈے میں لانے کے لئے انہیں آخری حد تک جانا پڑا تو ہمیں کیا تکلیف ہے؟ بدنصیبی دیکھو جو چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا، زیادہ آبادی، ز یادہ مسائل، بھیانک غلطیاں بھی کیں لیکن آج’’اقبال کے شاہین‘‘ اسی چین کے ہاتھوں کی طرف دیکھ دیکھ خوش ہورہے ہیں تو وجہ، نہ سزا نہ جزا....... جمہوریت سے لے کر خوراک اور مشروبات سے لے کر ادویات تک سب جعلی، مصنوعی اور دو نمبر۔ آرمی چیف نے کہا’’جمہوریت سے زیادہ جمہوری اقدار پر یقین رکھتا ہوں‘‘ تو حضور! جمہوری اقدار کے بغیر جمہوریت تو اک ایسے بے جان جسم کی مانند ہے جسے دفنایا نہ جائے تو ڈی کمپوزیشن کے ساتھ ہی گلنے سڑنے بدبو دینے لگتا ہے اور معیاری تعلیم کا مکمل قحط بھی جمہوری اقدار کے نہ ہونے کا تحفہ ہے۔

کوالٹی ایجوکیشن، جدید تعلیم تو چھوڑیں، عام تام معمولی تعلیم میں بھی انحطاط اپنے عروج پر ہے۔ دور کیا جانا، ٹی وی چینلز کے ٹکرز کی املا دیکھ کر ہی ٹکریں مارنے کو جی چاہتا ہے۔ دو نمبر اخلاقیات، دو نمبر اقتصادیات کے پیچھے یہی جمہوریت ہے جو جمہوری اقدار سے سو فیصد عاری ہے اور اس کمیشن ، کک بیک، اقربا پروری، جن جپھا جمہوریت کے بینی فشری کہتے ہیں’’چلتی رہنے دو پانچ سات سو سال میں خود ہی ٹھیک ہوجائے گی‘‘۔کتنی نسلیں تو زندہ نگلی گئیں...... مزید کتنی نسلیں نگلنے کے بعد جمہوری اقدار سے خالی ا س جعلی جمہوریت کا کبھی نہ بھرنے والا پیٹ بھرے گا؟