لاپتہ رضا خان - حماد احمد

سوشل ایکٹویسٹ رضا محمود خان کو لاپتہ ہوئے دس دن سے اوپر ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر ان کی بازیابی کے لیے مسلسل آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں اور ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا پر بھی ان کا وقفے وقفے سے ذکر ہو رہا ہے۔ ابھی اس بات کا کسی کو علم نہیں کہ رضا خان کو کس نے اغوا کیا ہے؟ یہاں تک کہ خود ان کے لیے آواز اٹھانے والوں کو بھی نہیں علم نہیں اور نہ ہی انہوں نے ابھی تک کسی پر الزام لگایا ہے۔

ہاں! کچھ لوگ ، جو خود ملک سے بھاگے ہوئے ہیں، اسے خفیہ اداروں کی حرکت کہتے ہیں لیکن رضا خان کے قریبی ساتھیوں اور رشتہ داروں نے ان کی بازیابی کے لیے جو جدوجہد شروع کی ہے، اس میں ان کا جو سب سے پہلا اور بڑا مطالبہ ہے وہ ہے Find Raza Khan۔ یعنی پہلی بار ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ Free کی بجائے Find کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے۔

بہرحال یہ تو بجلی کی صورت حال بتانے والے وزیرداخلہ ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ رضا خان کو اغواء انہوں نے ہی کیا ہے یا پھر کسی دہشت گرد تنظیم کی حرکت ہے۔ آخر کو تمام ریاستی ادارے حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔

اب سول سوسائٹی کچھ کارکنان نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس میں بمشکل دو درجن افراد تھے۔ اس مظاہرے کے لیے کمپین چلائی گئی اور یہ کہا گیا کہ زباں بندی کا یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا اور اس کے خلاف کھڑے نہ ہوئے تو آج رضا خان لاپتہ ہے، کل ہم میں سے بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک لاپتہ فرد کی بازیابی کے لیے بیس کروڑ کی آبادی میں سے صرف دو درجن افراد ہی کیوں اکٹھے ہوئے؟ کیونکہ لاپتہ افراد کی بازیابی کی جدوجہد کرنے والوں کو مسئلہ اس لاپتہ ہونے سے نہیں، بلکہ فکر اس بات کی ہے کہ جو لاپتہ ہوا ہے، وہ ان کی سوچ کا حامل اور ان کا نظریاتی دوست و رفیق ہے۔ کتنے ہی ایسے لاپتہ افراد بھی تو ہیں جنہیں اسلام پسندی کی وجہ سے غائب کیا گیا۔ ان کے لیے کوئی سیکولر، کوئی لبرل کیوں نہیں بولتا؟ بلکہ سچ کہیں تو ان کے لاپتہ ہونے اور جعلی مقابلوں میں مارے جانے پر ان کی صفوں میں خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ ان سب کو تو یہی سول سوسائٹی کی اکثریت دہشت گرد گردانتی ہے، حالانکہ مذہبی جماعتیں پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے سیکولر حلقے کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک فرشتے سے ملاقات کی کہانی - احسان کوہاٹی

کچھ عرصہ قبل اس طبقے سے تعلق رکھنے والے جو تین افراد بازیاب ہوئے تھے، ان میں سے ایک نے تو بی بی سی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کو جہاں رکھا گیا تھا، وہاں ایک اور شخص موجود تھا جو دہشت گردی کے جرم میں اندر تھا۔ اب آپ انصاف کیجیے کہ ایک بندہ اپنی صفائی پیش کر رہا ہے کہ اس کو بلاوجہ اغواء کیا گیا، وہ کسی ایسے کام میں ملوث نہیں جسے جرم قرار دیا جا سکے اور وہ انٹرویو میں ہی اپنے جیسے ہی ایک اور لاپتہ کو دہشت گرد قرار دے؟ جبکہ وہ اسے جانتا نہیں، پہلے دیکھا نہیں، لیکن چونکہ وہ بندہ شکل و صورت سے مذہبی ہوگا، اس لیے نام دہشت گرد رکھ دیا گیا۔

ذرا اس بات پر غور کیجیے کہ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں آپ اس بات کا نعرہ لگا رہے ہیں کہ ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہونا چاہیے، آئین اسلامی نہیں ہونا چاہیے، معاشرہ لبرل ہونا چاہیے اور پوری کی پوری ریاست سیکولر یعنی غیر اسلامی ہو تو اس نعرے کو، اس خواب کو، اس جدوجہد کو کامیاب کروانے کے عمل میں کوئی آپ کو اغواء کرلے تو اس کو ظلم و زیادتی کہا جائے گا، کیونکہ اپنے مقصد کے لیے پرامن جدوجہد کوئی بری بات نہیں۔ لیکن اسلام ہی کے نام پر بننے والے ملک میں اسلامی قانون کا مطالبہ کرنے والا، اس کے لیے پرامن جدوجہد کرنے والا اگر لاپتہ ہو جائے تو اسے تخریب کار اور دہشت گرد کا نام دیں گے تو لازمی نتیجہ یہی ہوگا کہ بیس کروڑ کی آبادی میں آپ کوتین درجن افراد ملیں گے، جو کسی زیادتی کے خلاف آپ کے حق میں کھڑے ہوں۔ کیونکہ لوگ جان چکے ہیں کہ آپ کو اس مسئلے سے سروکار نہیں کہ شہری کیوں لاپتہ ہو رہے ہیں؟ بلکہ آپ کو مسئلہ اس بات سے ہے کہ سیکولر شہری کیوں لاپتہ ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سید منور حسن، منظور پشتین اور مستقبل کا سورج - راؤ اسامہ منور

اس کا پورا پورا فائدہ اٹھانے والی والی وہ قوتیں ہیں جو انھی حرکتوں کی وجہ سے مزید طاقتور ہوتی ہیں۔ یہ کبھی آپ کو گلے لگا کر مذہب پسندوں پر زمین تنگ کرتی ہیں تو کبھی آپ کے اس حسد بھرے رویے سےنالاں لوگوں کو آپ ہی کے خلاف استعمال کرنے سے بھی نہیں ڈرتیں۔ رضا خان کو کس نے اغوا کیا؟ کیوں کیا؟ یہ بہت بعد کی باتیں ہیں، کم از کم یہ وقت تو اس بحث کا بالکل نہیں، بلکہ اس وقت سارا زور اس مطالبے پر ہونا چاہیے کہ کسی طرح رضا خان کو بازیاب کروایا جائے۔ ریاستی اداروں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اس کام میں حکومت کی مدد کریں۔

ہمارے ادارے ہمارا فخر ہونے چاہییں۔ وطن دشمن قوتوں کے خلاف اداروں کا ساتھ دینا چاہیے اور بے جا الزامات الٹا ہمارے ہی ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔اس لیے ریاست کے تمام اداروں سے اپیل ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو رضا خان کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں.