آخری لڑائی - جہانزیب راضی

دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں آپ کواسرائیل ایک خنجر کی طرح مشرق وسطیٰ کے وسط میں نظر آئے گا۔ اسرائیل نے اپنا وجود 1967ء کی عرب-اسرائیل جنگ میں منوایا جب تین پڑوسی عرب ممالک شام، مصر و اردن سے اسرائیل کی جنگ شروع ہوئی۔ تماشا دیکھیں کہ تمام عرب ممالک، سب سے بڑی فضائیہ رکھنے والا مصر، اسرائیل سے کہیں زیادہ بڑی فوج اور اسلحہ رکھنے والے اردن اور شام کو صرف 6 دن میں گھٹنے ٹیکنے پڑے۔

اس جنگ کا اختتام جہاں مسلمانوں، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے عربوں کے لیے ذلت آمیز تھا، وہیں اسرائیل جاتے جاتے مسلمانوں کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا بھی لگا گیا۔ مصر کو پورا جزیرہ نما سینا، اردن کو مغربی کنارہ اور شام کو گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے حوالے کرنا پڑیں۔ صرف چند سو اسرائیلی فوجیوں کے مقابلے میں ہزاروں عرب مارے گئے۔ صرف 19 سال میں اسرائیل نے اپنا رقبہ دوگنا کرلیا اور سب کو یہ پیغام بھی دے دیا کہ آئندہ دیکھ بھال کر ہاتھ اٹھانا۔

اسرائیل کی ڈھٹائی دیکھیں کہ اقوام متحدہ جن علاقوں کو فلسطین کا حصہ قرار دیتا ہے، وہ ان کو متنازع علاقے بولتا ہے۔ 85 لاکھ کی معمولی سی آبادی رکھنے والا اسرائیل آج دنیا کی بڑی افواج میں سے ایک ہے۔ اسرائیل میں لازم ہے کہ ہر گھر سے کوئی نہ کوئی مرد یا عورت فوج میں ہو۔ دنیا کا مضبوط ترین میزائل ڈیفنس سسٹم بھی اسرائیل کے پاس ہے۔

بہترین شرح خواندگی اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ معاشی، زرعی، فوجی، تعلیمی اور سائنسی تمام شعبوں میں اسرائیل خود کو ناقابل تسخیر بنا چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسرائیل چاہتا کیا ہے؟ بنیادی طور پر ان کا چار نکاتی ایجنڈا یہ ہے:

1) گریٹر اسرائیل

2) مسجد اقصیٰ اور گنبد صخرہ کی زمیں بوسی

3) ہیکل سلیمانی کی تعمیر

4) آرماگیڈن

1897ء میں ایک یہودی نے "گریٹر اسرائیل" کا نقشہ پیش کیا تھا جس کو 1980ء میں پایہ تکمیل تک پہنچنا تھا۔ اس نقشے کے مطابق مصر، عراق، شام، لبنان بلکہ ترکی اور سعودی عرب کا کچھ حصہ بھی اسرائیل میں شامل ہے۔ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم بن گوریان نے کہا تھا کہ ہمیں عربوں سے کوئی خطرہ نہیں، خطرہ ہے تو پاکستان سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ہمیشہ اسرائیل نواز قوتوں کے نشانے پر رہا ہے۔ افغانستان پر قدم مضبوط کرنے کے بعد اب پاکستان پر جنگ مسلط کر رکھی ہے اور اس کے ایٹم بم پر نگاہیں جمائی ہوئی ہیں۔ یہ امریکا اور بھارت جو پاکستان کے خلاف ہم آواز ہیں، اس کی جڑیں کہیں اور ہیں۔

اسرائیل کا اہم ترین منصوبہ مسجد اقصیٰ اور گنبد صخرہ کی تباہی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں امام الانبیاء ﷺ نے نبیوں گی امامت کی۔ اسلام کے بعد مسلمان سالوں تک اسی مسجد اقصیٰ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ یہیں پر وہ مسجد ہے جہاں فاتح بیت المقدس حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز ادا کی۔ اس پورے حرم قدسی پر یہودی اپنا ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔

پھر آرماگیڈن کے مقام پر ان کی حتمی جنگ ہوگی۔ اس جنگ میں ان کی کمان دن کے پاس ہوگی جس کی آمد کے لیے وہ دیوار گریہ پر روتے ہیں۔ ان کے عقیدے کے مطابق جس دن ہیکل تعمیر ہوگیا، اس دن وہ ہمارے مدد کو آ جائے گا۔ اس کے مقابلے پر مسلمانوں کی کمان حضرت عیسیٰؑ کے پاس ہوگی جو دمشق کی جامع مسجد کے پاس نازل ہوں گے اور یہودیوں کو شکست دیں گے۔

یہودی اس جنگ کے لیے مسلسل تیاری کر رہے ہیں اور انہوں نے ہر اعتبار اور ہر لحاظ سے خود کو مضبوط کیا ہے۔ یہ جنگ ہونے ہے، اس کے بارے میں احادیث بھی موجود ہیں۔ اب آخری صف بندی کا زمانہ ہے، جس کا ایمان مضبوط ہوگا وہ صحیح لشکر چن کر اس کے ساتھ ہوگیاوہ حق والوں کے ساتھ اٹھے گا۔

اس نازک ترین مرحلے پر ہم ہاتھ باندھ کر یا چھوڑ کر نماز پڑھنے کے لیے جھگڑ رہے ہیں، کھیرا کھانے کا صحیح اسلامی طریقہ، روزے کی حالت میں استنجا کرتے ہوئے پانی کی مقدار جیسے مسائل کے حل دریافت کر رہے ہیں۔ مذہب کی باتیں کرنے والوں کی توندیں دیکھیں، یہ ان کے ساتھ صلیبی جنگ لڑیں گے؟ عرب شہزادوں کی عیاشیاں دیکھیں، ان کے اربوں کھربوں ڈالرز امریکی بینکوں میں ہیں۔ یہود حتمی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، ان کا سب کچھ عمل سے وابستہ ہے اور ہم محض نعروں کے ذریعے سب کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ افسوس صد افسوس!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com