سعادتِ حج اور شکوہ تنگدستی - سعید الرحمٰن سعیدی

جب مشکٰوۃ شریف کی فضائلِ حج والی حدیث گزری تو استادِ محترم حضرت مولانا مفتی عالمگیر صاحب دامت فیوضہم نے طلباء سے مخاطب کر کے پوچھا

ہاں بھئی! کون کون حج کرنا چاہتا ہے؟

سب طلباء نے ہاتھ کھڑے کیے تو استاد جی فرمانے لگے کہ اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟

عرض کیا کہ دعا کرتے ہیں۔

فرمانے لگے کہ آپ لوگوں میں طلبِ صادق نہیں ہے اور یہ بات دو تین بار ارشاد فرمائی۔

پھر ارشاد فرمایا کہ مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ جب حج سے واپس آئے تو حضرت کی بڑی صاحبزادی نے دعا کا کہا کہ ابا جان! میرے لیے بھی دعا کیجیے کہ اللہ پاک حج کرنے کی سعادت سے بہرہ ور فرمائیں۔

اس پر حضرت شیخ نے فرمایا کہ بیٹی تم نے کیا تیاری اس کے لیے؟ کچھ پیسے جمع کیے یا نہیں؟

تو صاحبزادی نے عرض کی کہ ابا جان آپ جانتے ہیں گھر کے حالات کو، پیسے جوڑنے کی نوبت نہیں آتی۔

حضرت شیخ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مہینہ بعد ایک پیسہ بھی نہیں جوڑ سکتیں؟

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے حصے کا کام کرنا شروع کریں اور پیسے جمع کریں، اگلا مرحلہ اللہ پاک آسان فرمائیں گے۔

یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد مفتی عالمگیر صاحب دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا کہ آپ لوگ بھی پہلی فرصت میں پاسپورٹ بنوائیں اور اس کے بعد روزانہ، ہفتہ وار یا ماہانہ کی بنیاد پر پیسے جمع کرنا شروع کر دیں۔

پھر استادِ محترم نے اپنا قصہ بیان کیا کہ 2011ء میں پاسپورٹ بنوایا اور اس کے بعد پیسے جمع کرنے شروع کر دیے۔ دو سال بعد 2013 میں جب حج کا پختہ ارادہ بن گیا تو اُن جمع کیے ہوئے پیسوں کو نکالا اور گننے لگا۔ آپ کو حیرت کا جھٹکا لگے گا یہ سن کر کہ اس وقت تک دو سال میں بس آٹھ ہزار روپے سکہ رائج الوقت جمع ہوئے تھے ۔ جی ہاں ! صرف آٹھ ہزار۔ لیکن اخلاص اور تڑپ کی برکت تھی کہ اللہ پاک نے باقی کا انتظام اپنے خزانۂ غیب سے کر دیا۔

اس کے لیے ضروری نہیں کہ پانچ لاکھ آئیں گے تو حج کریں گے۔ اگر آپ کی نیت خالص اور سچی تڑپ موجود ہے تو اللہ پاک کو دکھا دیجیے کہ اے اللہ! ہم نے تو تیرے گھر کی زیارت کرنی ہے، فریضہ حج ادا کرنا ہے، اس کے لیے پیسے جمع کرنے شروع کر دیے ہیں باقی کا بندوبست آپ کیجیے اور حرفِ آخر کہ دل، تڑپ، محبت سچی ہو تو دعا خود عطا کروا دی جاتی ہے۔

پُر اَثر دعا سچے قلب سے سچی تڑپ لیے ویسے ہی نکلتی ہے جیسے ننھے اسمٰعیل کی پیاس پر آمنا و صدقنا کہتے ہوئے بنجر اور لق و دق ریگستان کے سینے سے آبِ زم زم کا نہ رکنے والا چشمہ پھوٹا تھا! یہ اسی ننھے اسمٰعیل کی سچی پیاس اور ان کی والدہ کی خالص تڑپ کے ہی طفیل ممکن ہوا۔

اس لیے آج ہی سے خالص نیت کے ساتھ پیسے جمع کرنا شروع کر دیں کہ شاید اسی سال بیت اللہ کے سائے میں نماز ادا کرنا اور حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہو جائے۔