جتھوں کی حکومت - اختر عباس

ناول تو یہ 1994 ء میں شائع ہوا، ڈیوڈ برن نے اسے لکھا تھا،’’دی پوسٹ مین‘‘ اس کا نام تھا اور تین سال بعد ہالی وڈ کے معروف اداکار اور ڈائریکٹر کیون کوسٹنر نے اسے اسی نام سے فلمایا۔ کہانی میں ایک ندرت اور گہرائی تھی، کہانی ایک مرے ہوئے پوسٹ مین کی وردی کے گرد گھومتی ہے، جو فلم کا ہیرو شدید سردی سے اپنے جسم کو بچانے کے لیے پہن لیتا ہے، وہ ایک طاقتور جتھے کی قید سے بھاگ رہا ہوتا ہے، اور مسلسل برف باری میں اسے اپنے جسم و جان کا رشتہ باقی رکھنے میں بہت مشکل کا سامنا تھا۔ یہ تاریخ کا وہ سال ہے جو مصنف کی نظر میں 2013ء بنتا تھا یعنی کہانی لکھنے کے ٹھیک انیس برس بعد کا زمانہ۔ جب مصنف اور ہدایتکار کی نظر میں شدید برف باری اور خانہ جنگیوں کے سبب یونائیٹڈ اسٹیس ٓاف امریکہ ٹوٹ چکا تھا اور مسلسل برف باری کے باعث ملک کے تمام شہر اور ریاستیں ایک دوسرے سے کٹ چکی تھیں، جگہ جگہ زندگی اور موت سے لڑتے لوگوں پر جتھوں کی حکومت تھی، جو جتھا سب سے زیادہ ظالم تھا وہی ڈرے ہوئے لوگوں سے طاقت کشید کرتا، جبریہ طاقت جمع کرتا، لوگوں کوڈراتا، سزائیں دیتا اور ان میں پھیلے خوف اور بےیقینی کی وجہ سے سب سے طاقتور ہوجاتا ہے۔ اس جتھے کی سربراہی ایک خود ساختہ جرنیل کرتا ہے۔ یہ رول ول پیٹن نے کیا خوب نبھایا تھا، کردار کا نام جنرل بیتھلیم تھا اور وہ اجتماعیت اور سماج کی نشوو نما کا دشمن تھا جبکہ ہیملٹ شوق سے پڑھتا تھا اور خوف اور بےیقینی کے ہتھیار کا استعمال خوب کرتا تھا۔ جبکہ ہیرو ایک امید اور یقین کا سمبل اور علامت ٹھہرتا ہے اور جگہ جگہ اس سے متاثر ہو کر بچے ڈاکخانے کھول لیتے ہیں اور جتھوں کے خلاف مزاحمت کا نشان بنتے اور علامتی طور پر ریاست متحدہ ہائے امریکہ کا دوبارہ اجراء کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے جگہ جگہ ڈرے ہوئے لوگ ہمت پکڑتے ہیں اور جتھوں کے آگے سر جھکانے سے انکار کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، مگر اس بیچ ان کا اور ان کے پیاروں کا بہت نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔

پہلی بار یہ فلم دیکھ کر میں ششدر رہ گیا، امریکہ جیسے ملک میں اپنے ہی مستقبل بارے ایسی خوفناک پیشین گوئی کوئی اتنی آسانی سے کیسے کر سکتا ہے؟ مگر اصل میں یہ لاقانونیت اور جتھوں کے غلبے کے خلاف ایک علم بغاوت تھا اور سماج کے استحکام اور تجدید کا سبق بھی۔ قانون اور تسلیم شدہ سیاسی اور انتظامی نظام کی عدم موجودگی میں زندگی کس قدر تکلیف دہ ہو سکتی ہے اسی کا اظہار تھا۔ 1999ء کے وسط میں ہم لاہور میں پہلا مووی کلب بنا کر اہل علم اور اہل دانش کو یہ فلم دکھا رہے تھے جس میں جناب اشفاق احمد، امجد اسلام امجد، اصغر ندیم سید، حفیظ طاہر، افتخار مجاز، یونس جاوید کو بھی شامل ہونے کا موقع ملا اور ہم سب کو ان کا نقطہ نگاہ جان کر اپنی آراء کو بہتر اور میچور بنانے کی سہولت ایک نعمت کی طرح لگی۔

وطن عزیز میں اس بےیقینی اور لاقانونیت کا تو ہم بار بار شکار ہوتے رہے ہیں مگر افسوس نہ اس کا ادراک ہوا اور نہ ہی کوئی ہمارے اندر ڈیوڈ برن پیدا ہوا جو بتاتا کہ جتھا چھوٹا ہو یا بڑا، وردی پوش ہو یا ڈنڈا بردار، اس کے نتائج ہمیشہ ایک سے ہی رہتے ہیں۔ بھٹو صاحب کے دور میں اور اس کے اختتام پر بھی ان جتھوں کا کردار خوب سامنے آتا رہا۔ اس زمانے میں ہڑتالوں کے نام پر جتھے بندیاں بہت بڑھ گئی تھیں، یہ اپنی فیکٹریوں سے نکل کر شہر کی مرکزی شاہراہوں تک بار بار پہنچتے تھے اور ملکی قانون کا مذاق اڑاتے تھے، من مانی کرتے تھے،جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے زمانے میں نسبتاً سکون رہا۔ زرداری صاحب کے دور صدارت میں جتھوں نے دارالحکومت پر چڑھ دوڑنے کا مزہ بار بار لیا۔ برستی بارش میں، سردی گرمی یہ سلسلہ جاری رہا، پارلیمانی اور غیر منتخب لوگ ان جتھوں کے سرداروں کو منانے اور سمجھانے کی کوشش کرتے رہے تاکہ ملکی قانون کی بالا دستی رہے اور سماجی زندگی چلتی رہے۔ کراچی کے لاکھوں لوگوں نے جتھوں کی حکمرانی کو چشم سر سے دیکھا اور او ر اس عذاب کا بار بار مزہ چکھا۔ یہ جتھے کسی ایک فون کال پر بھی نکل آتے اور پورے شہر کو یرغمال بنا لیتے۔ اہل پنجاب البتہ اس وبا سے مجموعی طور پر محفوظ رہے، جو دوچار بار ہوا تو اسے سیاسی اختلاف رائے اور اس کے خلاف مزاحمت اور احتجاج ہی گنا گیا۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان احتجاجی ریلیوں اور جلوسوں کو پولیس نے ڈنڈے سوٹوں اور تشدد کے اظہار اور بطور ٹول استعمال سے ان سب کو جتھا بننے سے روک دیا، مشرف صاحب کے جبری اقتدار کے آخری دنوں میں البتہ حکومتی کمزوریوں کے باعث یہ خوف اسلام آباد پر منڈلاتا رہا کہ طالبان کے جتھے، مارگلہ کے پار موجود ہیں اور کسی بھی روز پہنچ جائیں گے۔

اہم شہروں پرجتھوں کے حملوں کی ایک پوری تاریخ ہمارے ہاں موجود ہے اور عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ سیاسی قوت سے محروم رہ جانے والے گروہ یا جماعتیں اپنا پریشر بنائے رکھنے کے لیے ایسا کرتی ہیں۔ وہ پارلیمان میں ووٹ لے کر تو پہنچ نہیں پاتے، پھر اپنا آپ منوانے اور اپنا نام زندہ رکھنے کے لیے جتھا بناتے ہیں، حال کے چند برسوں میں اوکاڑہ کے ملٹری فارمز کے خلاف احتجاج سے شروع ہونے والے معمول نے اب کراچی سے لاہور سفر کرنے والوں کو ایک مستقل عذاب میں مبتلا کر دیا ہے۔ کسان اتحاد کے نام پر چار چھ سو کسانوں کو ٹرالیوں میں بھر کر لایا جاتا ہے اور گھنٹوں ٹریفک بلاک کر کے ہزاروں نہیں لاکھوں مسافروں کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے، نہ کوئی آگے جا سکتا ہے اور نہ پلٹ کر واپس جا سکتا ہے۔ جب تک حکومت کی مشینری حرکت میں آتی ہے تب تک سڑک پر اس جتھے کا راج رہتا ہے، پٹرول لانے، لے جانے والے ٹرکوں کے مالکان اور ڈرائیور حضرات بھی اس جتھا بندی کا مستقل حصہ بن چکے ہیں، جناب طاہر القادری نے اس طریقے کو مفید پا کر بار بار استعمال کیا اور اپنی جتھے بازی کی صلاحیت اورقوت کو مختلف مقاصد اور نعروں کے لیے ہفتوں اور مہینوں استعمال کیا۔ حالیہ برسوں میں جتھے بازی کی صلاحیت اور قوت میں پی ٹی آئی کا پلڑا خوب جھکا رہا۔

جب جب کوئی گروہ اپنی شرائط سٹیٹ کو ڈکٹیٹ کرائے گا، پردہ چاہے سیاسی ہو، مذہبی یا ٹریڈ یونین کے نام کا، مقاصد اور طریقہ کار قریباً ایک سا رہتا ہے۔ عام عوام کی بےبسی عروج پر ہوتی ہے اور قانون منہ چھپا کر کھڑا ہو جاتا ہے، لوگ اپنی گاڑی اور بائیک تک نہیں گزار سکتے۔ ریاست اور قانونی کی گرفت کمزور ہوتی دیکھ کر اب وہ کام بھی کیا جانے لگا ہے جس کا گزشتہ تین دہائیوں میں کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا، موٹر وے کو اس بار چند دنوں میں تین بار بند کیا گیا اور یہ کام مولانا رضوی سے ناراض اور شہرت اور طاقت پانے کے خوگر مولانا آصف جلالی نے فرمایا جو کئی برسوں سے اپنے پوسٹر اور فلیکس لاہور کے رکشاؤں اور کھمبوں پر لگوا رہے تھے، مگر ان کا نوٹس نہیں لیا جا رہا تھا۔ جتھے بازی سے دھرنا دے کر چند دنوں میں دونوں حضرات نے علماء کے نام اور کردار کو عام لوگوں سے خوب خوب بےنقظ سنوائیں اور دھرنے اٹھانے سے قبل معاہدے کر کے حکومت کو سر نگوں اور ریاست کو شرمسار کر کے رکھ دیا۔

اس روایت کے بڑھنے کے نتیجے میں قانونی اداروں کو بے وقعت اور قانون کوموم کی ناک بنتے دیر نہیں لگے گی، عملاً حالت یہ ہو چکی ہے کہ قانون نافذ کر نے والے دونوں ادارے بےاثر ہو چکے، وہ کسی کو روکنے اور اٹھانے کی پوزیشن ہی کھو چکے ہیں، جس کا ایک نتیجہ بے شمار پولیس کے سپاہیوں کے پھٹے سر، ٹوٹی ٹانگیں اور ایک بے چارے کی نکلی ہوئی آنکھ ہے۔ یہ کسی کے بھائی، باپ اور بیٹے نہیں ہیں کیا؟ بےعزتی کی زندگی ان پر کیوں واجب کی جا چکی ہے؟ جتھوں کی باغیانہ حرکت پر نہ کوئی ایف آئی آر کٹی، نہ کسی سوموٹو کی آنکھ کھلی اور نہ ہی ان بیچاروں کی داد رسی ہوئی، انہیں قانون کی پاسداری کے لیے ہفتوں کھڑا رہنے کا عذاب الگ جھیلنا پڑا، اس کے برعکس اس بار جتھے کی کارکردگی بہت معیاری اور آزادانہ رہی۔ ایک مسلح ادارے کی طرف سے آنے والوں کی حوصلہ افزائی نقد انعام دے کر کی گئی، ان کی حفاظتی انتظامات کرنے اور ان سے مار کھانے کا پانچ کروڑ کا بل ان سے لینے کے بجائے سرکار کو ڈالا گیا۔ بھٹو صاحب کے زمانے میں اس عذاب کو ہم دیکھ چکے ہیں، جب کالج کے لڑکوں کے چھوٹے چھوٹے جتھے پولیس والوں کو چھلڑ کہہ کر ان کی بےعزتی کرتے، بھری سڑکوں پر ویگنوں کو روک کر لوٹتے، اپنے لوگ مفت میں بٹھاتے اور قانون کا مذاق اڑاتے، جو بیچارہ منہ چھپا کر بدمزہ ہوتا رہتا،، دفتروں اور افسروں کے دروازے جتھوں کے راہنماؤں کے ٹھڈوں سے کھلتے۔ ہمارے ہاں نہ تو کیون کاسٹنر ہے اور نہ ہی ڈیوڈ برن جو اس المیے پر ناول لکھتے، فلم بناتے اور امید بھرا کوئی حل نکالتے۔ اب ہمارے اپنے ہی پارلیمانی اور سیاسی بڑوں نے مل کر خود کو تماشا بنانے اور آنے والے دنوں مزید جتھوں کے ہاتھوں تماشا بنتے رہنے کا سوچ لیا ہے کہ حکومت توکسی اور کی ہے تو ایسے میں انہیں کون سمجھائے کہ ان جتھوں کو اب نہ روکا گیا تو پھر انارکی اور لاقانونیت کے کانٹے چنتے کئی دہائیاں گزر جائیں گی، مگر کسک پھر بھی نہیں جائے گی۔

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.