ٹماٹو جوس - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

چھٹیاں شروع ہوتے ہی بچوں کی بوریت کی شکایات سامنے آنے لگی۔ پردیس میں رہنے کے اپنے ہی مسائل ہیں۔ پنکی، ریان اور زیدون کے شکوے عروج پر تھے۔ پروفیسر صاحب نے گھر میں داخل ہوتے ہی ’’قطر ایئر لائن‘‘ کے چارٹکٹ آگے بڑھائے۔ چلو بھئی سامان باندھ لو، اگلے ہفتے پرواز ہے آپ کی!

’’حیرت ہے؟ اچانک فیصلہ کر لیا آپ نے؟‘‘

بچوں کا شور سن کر رومانہ باورچی خانے سے نکل آئیں۔

’’یونیورسٹی نے ٹکٹ جاری کیے ہیں، سالانا سمر ویکیشن کے، مجھے کچھ کام تھا اسی لیے آپ سب کی بکنگ کروا دی ہے‘‘۔ پروفیسر صاحب تفصیل بتا کر کمرے کی جانب بڑھ گئے۔

ریان نے منہ بنایا: ’’میں نے گلف ایئر ویزسے جانا تھا، اتنا اچھا کھانا ہوتا ہے ان کا، اور ہر سیٹ کے ساتھ اپنی ٹی وی سکرین۔ ‘‘۔

زیدون نے نعرہ لگایا: ’’میں تو آزاد کشمیرجاؤں گا، تایا جان کے پاس۔ ‘‘۔

پنکی بھی خوش تھی، اتنی ساری سہیلیاں تھیں اس کی پاکستان میں، اور ماموں جان سے بھی گاڑھی چھنتی تھی۔ رومانہ بیگم سامان پیک کرتے ہوئے پیچھے کے انتظامات میں بھی مصروف تھیں، چند سوٹ استری کر دیے، کچھ کھانے ریفریجریٹر میں رکھ دیے تاکہ پروفیسر صاحب کے لیے کچھ دنوں کا آرام تو فراہم کر جائیں، حالانکہ وہ انہیں صبح کہہ کر بھی گئے تھے، میں اپنا سب کام سنبھال لوں گا، یوں بھی یہ انتظامات کتنے دن ساتھ دے سکیں گے، آپ تسلی سے جائیں۔

گھر سے نکلتے وقت تک وہ چھوٹے چھوٹے کام کرتی رہیں، ایئرپورٹ سے بھی کئی مرتبہ صاحب کو فون کیا، فلاں شے فلاں جگہ رکھی ہے، جہاز کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے انہیں اندازہ ہوا کہ بدن تھکاوٹ سے چور ہے۔ سیٹ بیلٹ لگا کر ریان نے آگے پیچھے کا جائزہ لیا، نیا لگ رہا ہے جہاز، واہ! ٹی وی سکرین ہے یہاں پر بھی، ہر سیٹ کے ساتھ! اس نے کھانے کی میز کھول کر دیکھی، سیٹ کی جیب میں پڑے معلوماتی کتابچے اور ایئر لائن کے مجلّے کو کھول کر دیکھا، پنکی نے اخبار کھول لیا، زیدون مسلسل اپنی سکرین کو دیکھ رہا تھا، ایئر ہوسٹس نے ہیڈ فون دیے تو بچے اپنے پسند کی ویڈیوز اور گیمز میں مشغول ہو گئے، کویت سے دوحہ کا سفر پلک جھپکتے گزر گیا، یہاں تین گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا،رومانہ بیگم پنکی کے ساتھ ایئر پورٹ مسجد میں نماز کے لیے چلی گئیں اور ریان اور زیدون ایئر پورٹ لاؤنج گھومنے نکل گئے۔ ویٹنگ لاؤنج میں پاکستانیوں کی اکثریت عمرہ زائرین کی تھی، مردوں کی تعداد زیادہ تھی، سفید کڑکتے لباس، اور پر سکون چہرے۔ خواتین وقت گزاری میں بھی تسبیحیں پرول رہی تھیں۔ جہاز پر جانے کا اعلان ہوا تو بے ترتیب قطاریں بننے لگیں۔ ریان کے چہرے پر کدورت کے احساسات نمایاں ہوئے: ’’ یہ انکلز کویت ایئر پورٹ پر تو بڑی سیدھی لائن بنا رہے تھے‘‘، پنکی نے لقمہ دیا: ’’ابھی اسلام آباد ایئر پورٹ پر دیکھنا، ادھر تویہ دھکے بھی ماریں گے، یہ باہر والے اصول باہر ہی چھوڑ کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں‘‘۔

ایئر لائن کے عملے کے توجہ دلانے پر قطار کچھ سیدھی ہو گئی، جہاز میں داخل ہوتے ہی ریان نے منہ بنایا: ’’اوہ، کوئی ونڈو سیٹ نہیں۔ سب درمیان والی سیٹیں ملی ہیں‘‘۔

’’ٹی وی سکرین بھی نہیں ہے‘‘۔ زیدون نے نعرہ لگایا۔

پنکی نے آنکھیں دکھائیں تو وہ دونوں خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔

’’یہ بیلٹ کتنی چھوٹی ہے اس کی‘‘۔ وہ پھر ماں کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا۔

’’پہلا جہاز عرب اکثریت کے لیے تھا، اس لیے ان کے جثے کے مطابق تھا‘‘۔ رومانہ نے وضاحت کی۔

’’مجھے تو کافی پرانا لگ رہا ہے، دیکھیں نا ڈسٹ ہے اس پر، کیبن بھی بند نہیں ہو رہا تھا‘‘۔

پنکی کے گھورنے پر وہ خاموش ہو گیا، جہاز نے ٹیکسی شروع کی تو سب نے سکون کا سانس لیا، مگر چند لمحوں بعد گڑگڑاہٹ کے ساتھ ہی رک گیا، ریان نے سرگوشی کی: ’’لگتا ہے اس کا دروازہ بند نہیں ہوا تھا‘‘۔ رومانہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے دعا کرنے کو کہا۔

جہاز کا ایئر کنڈیشنر بند ہو چکا تھا اور مسافر پسینے میں شرابور تھے۔ کچھ کاغذ کے پنکھے سے ہوا لے رہے تھے، فضائی میزبان پانی لیکر مسافروں کی خدمت کرنے اور استفسار کرنے والوں کو فنّی خرابی کی اطلاع بھی دینے لگیں، وہ انہیں پانی دے کر آگے بڑھی تو عقب سے ایک مسافر کی آواز آئی:۔ ’’مے آئی ہیو ٹماٹو جوس پلیز‘‘۔

’’وائے ناٹ سر‘‘۔

کچھ ہی دیر میں وہ اس کے لیے جوس لے کر جا رہی تھی، زیدون اور ریان حیران تھے، ٹماٹر کوئی پھل ہے جو اس کا جوس پیتے ہیں؟،امی جان آپ نے پیا کبھی ٹماٹو جوس؟ پیا تو نہیں، مگر ہے مفید چیز، رومانہ نے بات مکمل کی۔

جہاز کا دروازہ مرمت کرنے تکنیکی عملہ آ چکا تھا، اسی دوران عقب سے دو مرتبہ مرتبہ ٹماٹو جوس کی فرمائش آئی، جسے تازہ دم فضائی میزبان نے پھرتی سے پورا کر دیا تھا۔ خدا خدا کر کے دروازے کا نقص دور ہوا، عملہ واپس ہوا اور جہاز نے ٹیکسی شروع کی۔ ریان کان کھڑے کر کے اس کی آوازیں سن رہا تھا، کہیں دروازہ دوبارہ ہی نہ کھل جائے۔ جہاز فضا میں بلند ہوا تو سب نے شکر ادا کیا، اور حفاظت اور عافیت کی دعائیں لبوں پر جاری تھیں، چہروں کی بیزاری معدوم ہونے لگی۔ کھانے کی ٹرالی کی آمد نے سب کو چہکا دیا، کتنی دیر ہو گئی تھی جہاز میں بیٹھے بیٹھے؟ زیدون اور ریان پلان بنا رہے تھے، ہم بھی کھانے کے ساتھ ٹماٹو جوس ہی آرڈر کریں گے لیکن اس کا ذائقہ کیا ہو گا؟ اس سوال کے ساتھ ہی انہوں نے ہتھیار ڈال دیے، اور جب ٹرالی ان کے قریب آئی تو دونوں نے اورنج جوس مانگ لیا۔ عقب سے ایک مرتبہ پھر ٹماٹو جوس کی آواز آئی، بلکہ شاید مسافر نے سیلف سروس کی اجازت بھی مانگی تھی جو فضائی میزبان نے خوشی سے دے دی۔

رومانہ نے سیٹ کو قدرے پیچھے کیا اور نیند کی وادی میں کھو گئیں، گھر کی بھاگم دوڑ کی تکان یہاں ہی اتر جائے تو اچھا ہے، پاکستان پہنچ کر مصروفیت کا نیا سلسلہ ان کا منتظر تھا۔ جہاز بلندی سے پستی کی جانب اترا تو ان کی آنکھ کھل گئی۔ جہاز کی پچھلی نشستوں سے آوازیں آرہی تھیں، شاید لوگ آپس میں محو گفتگو تھے۔ ریان نے سامنے کی جانب اشارہ کیا:۔ ’’امی جان وہ دیکھیں، ٹماٹو جوس انکل آرہے ہیں‘‘۔

اس نے دیکھا، ایک ادھیڑ عمر شخص ہاتھ میں جوس کا گلاس پکڑے اپنی سیٹ کی جانب آرہا تھا۔ وہ پاکستانی نہیں تھا، شکل و صورت اور حلیے سے انڈونیشی دکھائی دیتا تھا، پیلاہٹ لیے گندمی رنگ، ہلکی مونچھیں اور ڈاڑھی کے چند بال! اس کے سیٹ تک پہنچتے کئی تبصرے سماعت سے ٹکرائے: ’’یہ سولہواں گلاس ہے اسکا، یار یہ بندہ ہے کہ ٹماٹر جوس کی فیکٹری!‘‘، ’’نہیں پانچ گلاس تو اس نے کھڑے جہاز میں ڈکار لیے تھے‘‘۔ ’’لگتا ہے جہاز سپیشل کنٹینر لے کر چلا ہے اس کے لیے‘‘۔ ایک دوسری آواز بلند ہوئی۔ ’’مجھے تو سائیکی لگتا ہے ‘‘، ایک منچلے نے گرہ لگائی: ’’اتنا ٹماٹر جوس پی کر بھی پیلا کا پیلا ہے‘‘۔ مردوں کی آوازوں میں کچھ خواتین کی ہنسی بھی شامل ہو گئی، تسبیح پرولتے ہاتھ رک گئے، چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ جہاز زمین پر اتر گیا۔ سیٹوں پر ہلچل ہوئی، اور مسافر تیزی سے کھڑے ہو کر کیبن سے سامان نکالنے لگے۔ انڈونیشی مسافر نے بھی کیبن سے اپنا دستی بیگ سامان نکالا اور لائن میں کھڑا ہو گیا۔ جہاز کے دروازے کھلنے میں تاخیر پر تاخیر ہو رہی تھی، شاید خراب دروازہ کچھ زیادہ ہی زور سے بند ہو گیا تھا۔ مسافر پھر اکتانے لگے، اور گھوم پھر کر ان کی نگاہیں انڈونیشی مسافر پر آگئیں۔ آنکھوں میں شارے ہوئے، لبوں پر مسکراہٹ کچھ زیادہ ہی تیز تھی۔ ایک مسافر نے دوسرے کو مخاطب کیا اور بولا: ’’بڑی دیر ہو گئی، ٹماٹو جوس نہیں پیا صاحب نے‘‘، دوسرا بولا: ’’لگتا ہے سپلائی ختم ہو گئی ہے‘‘، کسی تیسرے تبصرے سے پہلے انڈونیشی مسافر نے رخ موڑ کر پیچھے دیکھا: ’’آپ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں؟‘‘، اسے اردو میں بات کرتے دیکھ کر مسافروں نے چونک کر اسے دیکھا، ’’اوہ انہیں اردو آتی ہے‘‘، ریان نے ماں کے کان میں سرگوشی کی، ’’اسی لیے کہہ رہی تھی، پیچھے مڑ کر نہ دیکھو‘‘، پنکی نے سرزنش کی۔

’’کیا آپ کو تکلیف پہنچی ہے میرے ٹماٹو جوس پینے سے؟‘‘

یعنی وہ سارا رستہ ان کے تبصرے اور ہنسی مذاق سن رہا تھا، مسافر کچھ جھینپ کر آگے پیچھے دیکھنے لگے،: ’’نہیں ہم تو ویسے ہی۔ ‘‘۔

’’دیکھو، بھائیو، میں کوئی حرام مشروب نہیں پی رہا تھا۔ ‘‘

’’نہیں سر، ہم تو ایسے ہی۔ ‘‘

انڈونیشی مسافر بڑے صاف انداز میں گویا ہوا:

’’ہو سکتا ہے مجھے ٹماٹو جوس پسند ہو۔ یا یہ محض میرا شوق ہو، یامجھے ڈاکٹر نے اس کی ہدایت کی ہو۔ یا۔ کچھ بھی، لیکن آپ سب کی توجہ اور پریشانی سمجھ سے بالا تر ہے؟۔

’’یہ میرا ذاتی عمل ہے، مگر آپ کو میرے گلاس گننے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اتنے تبصرے کرنے کے بجائے آپ مجھ سے اس کا سبب معلوم کر لیتے۔ میں آپ کو بتا دیتا کہ میں بیمار ہوں، اور یہ میرے علاج کا ایک حصّہ۔ میں انڈونیشی مسلمان ہوں، دنیا کی سب سے بڑی مسلمان مملکت کا شہری۔ ‘‘

اس نے اپنی سانس درست کی اور پھر بولا: ’’میں گزشتہ دس برس سے آپ کے ملک کے شمالی علاقہ جات میں ہوں، بین الاقوامی تعلیمی این جی او کے نمائندے کے طور پر۔ ہمارے ملک میں چورانوے فی صد بچے سکول جاتے ہیں، آئندہ برسوں میں سو فیصد شرح خواندگی ہمارا مشن ہے۔ ہم آپ کے ملک میں بھی اسی عزم کے ساتھ آئے ہیں، تاکہ پسماندہ مقامات کے بچوں کو تعلیم کے ہنر سے آراستہ کریں۔ ان کی تربیت کریں۔ ہم ان علاقوں کو گلوبل ولیج کا باخبر اور تعلیم یافتہ حصّہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

’’ ہم اپنے ملک میں چھ اقلیتوں کے ساتھ رہتے ہیں، جہاں سات سو سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، ہم ان کے ساتھ تحمل اور بردباری سے رہتے ہیں۔ بڑے دوستانہ انداز میں۔ ہم غیر ضروری طور پر دوسروں کی زندگی میں نہیں جھانکتے اور امن سے رہتے ہیں۔ یہاں بھی اسی امن کے لیے کوشاں ہیں کیونکہ امن کی بنیاد برداشت ہے۔ اپنی پسند کو اختیار کرتے ہوئے دوسرے کی پسند کا احترام ! ‘‘۔

جہاز کا دروازہ کھل چکا تھا، جہاز کے مسافر سر جھکائے ایک ایک کر کے جہاز سے نیچے اتر رہے تھے۔ بات تو پتے کی بتائی تھی انڈونیشی بھائی نے! ان کے چمکتے سروں اور پر نور چہروں کے ساتھ دل میں ٹھنڈک اتر رہی تھی۔ تحمل اور بردباری کی ٹھنڈک اوردوسروں کی زندگی میں عدم مداخلت سے ملنے والی تازگی!

مکہ اور مدینہ کی پرنور فضاؤں میں ہونے والی تطہیر قلب اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر تعمیر ِ فکر وعمل کے مرحلے میں داخل ہو گئی تھی۔ پاکستان کی سرزمین پر تعلیم، تربیت کے شانہ بشانہ منزلوں کے سفر پر گامزن ہو رہی تھی!!

پستہ قدانڈونیشی استاد کا رتبہ ان کی نگاہوں میں بڑھ گیا تھا۔

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.