یروشلم، ٹرمپ کا متنازع فیصلہ اور مسلم دنیا - طاہر یاسین طاہر

طاقت کے اپنے اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ یہی زمینی حقیقت ہے، اگر کوئی نہیں مانتا تو اس کا علاج نہیں، نقصان اٹھائے گا اور پچھتائے گا۔ فرد سے لے کر معاشروں اور ممالک تک یہ بات سچ ہے۔ ہم اپنے اردگرد اس کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہمارا المیہ مگر یہی ہے کہ ہم حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ جدید دنیا اس وقت تیسری عالمی جنگ کی لپیٹ میں ہے، اور یہ جنگ بہ نام مذہب لڑی جا رہی ہے۔ داعش، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں بھی مذہب کے نام پر خوں ریزی کر رہی ہیں۔ امریکہ ایک تسلیم شدہ عالمی طاقت ہے، طاقت ور اپنی طاقت کے اظہار اور مزید طاقت کے حصول کے لیے وحشت پہ اترا چکا ہے۔ دانشورانِ ملت یروشلم کی صرف مذہبی حیثیت پہ بحث کر کے خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ دو چار سطریں لکھ دینے سے وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں ان کے حصے کا ثواب مل چکا ہے اور جنت ان کے لیےواجب ہو چکی ہے۔ جذباتیت ایک شے ہے، حقائق ایک دوسری شے، لیکن نتائج کا انحصار ہمیشہ حقائق پہ ہی ہوتاہے۔ مسلم دنیا کا المیہ یہ رہا کہ گروہی اور فرقہ وارانہ مفادات کے لیے دفتر لکھے گئے، مگر تحقیق و جستجو کے سائنسی و معاشی میدان میں کوئی قابل ذکر کام نہ ہو سکا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ایک مختصر سی مگر مسلط کردہ ریاست اسرائیل نے بڑے بڑے رعب و داب والے عربوں کو آگے لگایا ہوا ہے۔ دنیا تیل و گیس عربوں سے لے رہی ہے اور تحفظ اسرائیل کا کیا جا رہا ہے۔

میری نظر میں یروشلم کا حالیہ مسئلہ مذہبی سے زیادہ سیاسی ہے۔ ٹرمپ کے اس سیاسی فیصلے کے پیچھے مشرقِ وسطیٰ کی عسکری و سماجی تبدیلیاں ہیں۔ عراق، لیبیا، تیونس، مصر، شام، افغانستان، لبنان خانہ جنگی و فرقہ وارانہ خون ریزی میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ سماج ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور معاشرے کی قوت برداشت جواب دے چکی ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف نیا انتقاضہ شروع ہو چکا ہے، مزید فلسطینی بچے اسرائیلی وحشتوںشکار ہو رہے ہیں۔ حکمت کا مقابلہ حکمت سے ہی زیبا ہے نہ کہ نعروں سے۔ اسرائیل کو طاقت ور کرنے میں جہاں امریکہ، برطانیہ و فرانس کا کردار منفی ہے وہیں عربوں کا اپنا کردار بھی تشویش ناک اور قابل گرفت ہے۔ "خادمین "تو کسی دوسرے بھائی کو برداشت ہی نہیں کرتے، چہ جائیکہ ان سے مظلوم فلسطینیوں کی مدد کی توقع کی جائے۔ شام جسے کبھی فلسطین کی تحریک آزادی کا دوسرا گھر کہا جاتا تھا، اسے زخم زخم کرنے میں بھی عربوں نے "اربوں" لگا کر اپنا منفی کردار نبھایا ہے۔ اپنی غلطیوں پہ نادم ہونے کے بجائے سارے کا سارا ملبہ استعمار پہ ڈال دینا پرلے درجے کی بد دیانتی اور حقائق سے چشم پوشی ہے۔

یروشلم یعنی بیت المقدس، بے شک مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کے لیے قابل احترام اور مقدس گھر ہے۔ تینوں آسمانی مذاہب کے ماننے والے یروشلم کے حوالے سے اپنے ہاں دلائل و تاریخی روایات رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب مگر یہ کہاں سے آگیا کہ اس، فی الوقت سیاسی اعتبار سے متنازع علاقے کو ایک انتہائی متنازع ریاست، اسرائیل، جسے دنیا کے کئی ممالک نے ابھی تک تسلیم نہیں کیا، اس کا دارالحکومت قرار دے دیا جائے؟کیا ٹرمپ واقعی یہودی لابی کے ہاتھوں یرغمال ہو چکے ہیں یا یہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا طریقہ واردات تھا کہ پہلے ٹرمپ کو ساری دنیا میں ایک غیر متوازن، جذباتی اور نفسیاتی مسائل سے دوچار شخصیت مشہور کرانے کے بعد متنازع اور خطرناک فیصلہ اس کے ذریعے سے کرا لیا گیاہے۔ مسلم امہ کا ردعمل قابلِ فہم ہے، لیکن جس یکسوئی اور اتحاد و یگانگت کی ضرورت ہے وہ ناپید ہے، اور یہی کمزوری بھی ہے۔ مشرق وسطیٰ سمیت دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور سفارت خانے کو تل ابیب سے منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف پر تشددمظاہروں کی نئی لہر کا آغاز ہوچکا ہے۔ جبکہ امریکی صدر کے فیصلے پر ترقی یافتہ ممالک نے بھی سخت تنقید کی۔ ایران، ترکی و پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک نے ٹرمپ فیصلے کے خلاف اپنے ردعمل کا اظہار کیا جبکہ عرب لیگ نے بھی اپنے اجلاس میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

بے شک اسرائیل، امریکی صدر کےا س فیصلے پہ بہت شاداں ہے، جبکہ دنیا کے عدل پسند انسان، تنظیمیں اور سیاسی تجزیہ کار ٹرمپ کے اس فیصلے کو خطے اور دنیا کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ مسلم دنیا کے پاس اس حوالے سے کیا آپشنز ہیں؟کیا اسرائیل سے براہ راست ٹکر لی جائے؟ کیا امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے دیا جائے؟یا کیا امریکہ سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے جائیں؟کیا امریکی و اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا جائے؟میرا نہیں خیال کہ مذکور کسی بھی آپشن پہ عمل کیا جا سکتا ہے، نہ مسلم ممالک اس حوالے سے یکسو اور یکساں طاقتور ہیں۔ اگر اسرائیل سے ٹکر لی جاتی ہے تو امریکہ و یورپ اسرائیل کی پشت پہ ہوں گے۔ مظاہرین اگر امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بناتے ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ امریکہ و اسرائیل کو ہو گا اور سفارتی ہمدردیاں امریکہ کے حق میں چلی جائیں گی۔ امریکی و اسرائیلی مصنوعات و ٹیکنالوجی کا بائیکاٹ بھی قابلِ عمل نظر نہیں آتا۔ اس کے لیے دنیا بھر کی حمایت درکار ہے۔ پھر آپشنز کیا ہیں؟ کچھ زیادہ نہیں، اور جیسا کہ امت مسلمہ کے جارحیت پسند گروہ چاہتے ہیں ویسا تو ممکن ہی نہیں۔ اگر ممکن ہوتا تو کشمیر و فلسطین کب کے آزاد ہو چکے ہوتے۔

میرا خیال ہے کہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئےیہ جان لینا چاہیے کہ خود عرب دنیا کے امیر کبیر ممالک کا جھکاؤ بھی ا س وقت اسرائیل کی طرف ہے، ہاں عرب و ترکی سمیت جن مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے وہ فوری اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کریں۔ امریکہ کے بیدار مغز سیاستدانوں کو امریکی غلطی اور اس کے مضمرات کا احساس دلایا جائے۔ سفارتی محاذ کے علاوہ کسی بھی دوسرے محاذ پہ مسلم ممالک کے لیے کامرانی کی فی الواقع امید نہیں ہے۔ جدید تعلیم، معیشت اور اتحاد ہی مسلم دنیا کو عالم انسانیت میں باوقار بنا سکتا ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ نعروں سے یروشلم کو آزاد کرا لے گا تو وہ دیوانہ ہے۔ مجھے معلوم ہے میں نے غیر مقبول بات کی، مگر حقائق ہمیشہ غیر مقبول اور تلخ ہوتے ہیں، انھیں تسلیم کیے بنا مگر چارہ بھی نہیں۔

سفارت کاری کے ہر محاذ پر فلسطین پر اسرائیلی مظالم، اوراسرائیل کو امریکی حمایت کا ذکر کیا جائے، مدلل انداز میں بالخصوص یروشلم کے حوالے سے، ٹرمپ کے حالیہ خطرناک فیصلے سے عالم ِانسانیت کے درد مندوں کو آگاہ کیا جائے۔ اسرائیل کے حوالے سے ایران اور پاکستان کا موقف بڑا واضح اور جاندار ہے۔ اس موقف کی بنا پر سفارتی محاذ پہ جارحانہ مقدمہ لڑا جائے، روس، فرانس، برطانیہ، یورپی یونین، چین اور دنیا کے دیگر با اثر و فیصلہ ساز ممالک کو ہمنوا بنایا جائے، اقوام متحدہ پہ دباؤ ڈالا جائے، قراردادیں لائی جائیں، اور سیمینارز کروائے جائیں۔ حتیٰ کہ امریکی دانشوروں اور سیاستدانوں کی حمایت بھی حاصل کی جائے اور وائٹ ہاؤس کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیا جائے۔ بصورت دیگر خطے میں غلیل پہ گولی غالب آ جائے گی، اور دنیا بڑی جنگ کی طرف ایک قدم مزید آگے بڑھ جائے گی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ عالم انسانیت کے لیے بہت خطرناک ہو گا۔ تدبر اور سیاسی و سفارتی حکمت کی ضرورت ہے۔