اسرائیل کیسے وجود میں آیا؟ - ملک جہانگیر اقبال

آج سے ہزاروں برس قبل بیبلون کا حکمران سلطنت جودہ (موجودہ فلسطین) پر قبضہ کر کے وہاں موجود یہودیوں کو غلام بنا کر عراق لے آیا ۔ تاریخ میں اس واقعہ کو (diaspora) کے نام سے جانا جاتا ہے یعنی ایسا واقعہ جس میں کسی قوم کو ٹکڑے کر کے مختلف حصوں یا ممالک میں بانٹ دیا جائے ۔ اس کے بعد کوروش اعظم جو سائرس اعظم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، قدیم ایران کا ایک عظیم بادشاہ تھا ، نے بیبلون کی سلطنت کا خاتمہ کیا۔ اسی کے دور میں کچھ یہودیوں کی اپنے آبائی وطن واپسی ضرور ہوئی، پر اکثریت اب بھی دربدر تھے ۔ یونانی تہذیب کا عروج ہو یا زوال، یہودی ذلیل و خوار رہے ، پھر رومن تہذیب کا دور آیا تو بھی یہودی ذلیل و خوار رہے ۔ عرب آئے تو بھی یہودیوں کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔ غرض یہ کہ سوویت یونین سے لیکر فرانس اور برطانوی راج آجانے تک یہودی اپنی کوئی الگ پہچان نہ بنا سکے تھے ۔

پھر 1897 میں ایک یہودی تھیوڈور ہرزل "نظریہ صیہونیت (Zionism) " کی بنیاد رکھتا ہے جس کی رو سے یہودی چاہے دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری ہوں، پر ان کی وفاداریاں ایک ہی مرکز کے گرد رہیں گی اور وہ مرکز یہودیوں کی اپنی آبائی ریاست ہوگی ۔ اس نظریہ کی بنیاد پر دنیا کے تمام یہودی یکجا ہونے لگے ۔

اس دوران فلسطین خلافت عثمانیہ کے زیر تسلط تھا۔ لہٰذا سب سے پہلے خلیفہ عبد الحمید ثانی سے فلسطین میں یہودیوں کو بسانے کا کہا گیا۔ جب یہ درخواست رد کردی گئی تو اس وقت یہودیوں کے اہم مرکز جرمنی کے بادشاہ ولہلم کو مداخلت کرنے کا کہا گیا۔ پر جرمن بادشاہ بھی یہودیوں کی یہ خواہش پوری نہ کرسکا ۔ 20 ویں صدی کے شروعات میں ہی یہودیوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ جرمنی ان کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مخلص نہیں ہے۔ لہٰذا اپنی وفاداری کا کیمپ بدلتے ہوئے اگلے دس سے پندرہ سالوں میں 2 لاکھ یہودی برطانیہ اور لگ بھگ اتنے ہی امریکہ میں سیٹل ہوگئے، جس میں ان کی مدد وہاں موجود صیہونی تحریک والوں نے کی ۔ یہ دور برطانوی راج کا تھا، لہٰذا تخت برطانیہ کے مشیر یہودیوں نے ملکہ برطانیہ کو قائل کیا کہ اس کے زیر تسلط فلسطین میں یہودیوں کو بسایا جائے جس پر فوری عمل شروع ہوا ۔

لوگ آپ کو یہ تو بتاتے ہیں کہ ہٹلر نے یہودیوں کا قتل عام کیا، پر اکثر مورخین کے پر یہ بتاتے ہوئے جلنے لگتے ہیں کہ جرمنی جو یہودیوں کا مرکز رہ چکا تھا، آخر اچانک جرمنوں کے دل میں یہودیوں کے لیے نفرت کیوں در آئی ؟ ہٹلر کی یہودیوں سے نفرت کی سب سے بڑی وجہ یہودیوں کی دغا بازی تھی ۔ جرمنی میں معیشت کا نظام یہودی چلا رہے تھے ، بینک ہوں یا دیگر معاشی ادارے ان سب پر یہودی تسلط غالب تھا ۔ لہٰذا ہٹلر کو لگتا تھا کہ یہودیوں نے باقاعدہ سازش کر کے جرمنی کو معاشی طور پر کمزور رکھا، جس کی وجہ سے جرمنی کو جنگ میں شکست ہوئی ۔ ہٹلر کے دعوے کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ جب جرمن اتحاد برطانوی راج کو نیست و نابود کرنے لگا تھا تب جرمنی کا ایک یہودی سائنسدان آئن سٹائن جرمن فوج کے راز چوری کر کے برطانیہ آگیا، جہاں اس نے جرمن فوج کی جنگی حکمت عملی سمیت ان کے ہتھیاروں تک کی تمام معلومات برطانوی اور اتحادی افواج کو دے دیں، جس کی وجہ سے جرمن طاقتور فوج کو دھول چاٹنا پڑی ۔

عالمی صیہونیت تنظیم کی طاقت اور یکجہتی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ جنگ شروع ہونے سے قبل یہی سائنسدان آئن سٹائن کہتا تھا کہ کچھ بھی ہوجائے، میں جنگ کا حصّہ نہیں بنوں گا۔ چاہے اس کے کتنے ہی سنگین نتائج بھگتنے پڑیں ۔ لیکن جب بات یہودی مفادات پر آئی تو اپنے تمام اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے نا صرف اپنے ملک سے غداری کی بلکہ وہ ہتھیار " ایٹم بم " بنانے میں بھی اس کا نام سب سے اوپر ہے، جس مہلک ہتھیار نے آنے والے دنوں میں جاپان میں 3 لاکھ سے زائد انسانوں کو لقمۂ اجل بنایا اور اب رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے ۔

یعنی ایک نظریے نے ہزاروں سال دربدر رہنے والے یہودیوں کو اپنا آبائی وطن لوٹا دیا ۔ پر کیا یہ دنیا کا پہلا یکجہتی کا نظریہ تھا جو کامیاب ہوا ؟ ہرگز نہیں !

سب سے پہلے یہ نظریہ ہمارے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ریاست مدینہ کی بنیاد رکھتے ہوئے پیش کیا کہ "تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں " اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس نظریے نے کس طرح 313 کو ایک ہزار پر برتری دلوائی ۔

اس کے بعد اپنے آخری خطبہ حج کے دوران وہ وقت تھا جب اسلام عرب کی حدود سے باہر تک پھیل چکا تھا لہٰذا کوئی شک نہ رہے تو اپنے ہی نظریہ کی تجدید کرتے ہوئے فرمایا کہ " کسی عربی کو عجمی پر ، کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں" اور پھر دنیا نے اس نظریے اور آپسی اتحاد کی طاقت کا نتیجہ دنیا کے ہر کونے تک اسلام پہنچنے کی صورت میں دیکھا ۔

نظریہ اتحاد امہ دنیا کا کامیاب ترین نظریہ ہے ، لہٰذا مغرب سے مغلوب احساس کمتری کے شکار دماغ ہمیشہ مسلمانوں کو یہ کہہ کر توڑتے نظر آتے ہیں کہ " اپنا ملک دیکھو " ، حتیٰ کہ انہیں مسلمانوں کی کٹی ہوئی لاشوں پر رونے والوں پر بھی ہنسی آتی ہے کہ " اپنا گھر سنبھلتا نہیں اور دوسروں کی فکر کھائے جارہی ہے " ۔

جناب یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا

اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

اس شعر میں انڈے اور گندے سے مراد یہی مخصوص طبقہ ہے ۔ ہمارا دشمن جانتا ہے کہ جب تک ہم بکھرے رہیں گے اور " اپنا ملک " ہی دیکھتے رہیں گے تب تک ہم ویسے ہی ذلیل و خوار رہیں گے، جس طرح ہزاروں سالوں تک یہودی رہے تھے ۔

میرے نبی صلی الله علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہم ایک جسم ایک جان ہیں ، جب تک بحیثیت امت ہم ایک دوسرے کا دکھ درد سمجھتے ہوئے اپنا مفاد ایک نہ رکھیں گے ، جب تک اپنا نظریہ " اسلام " کو نہ بنائیں گے، تب تک ذلت ہمارا مقدر رہے گی ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */