کیا اسمارٹ فون قاتل ہے؟ - رابعہ خرم درانی

کیا اسمارٹ فون قاتل ہے؟
کیا اسمارٹ فون وجہ قتل ہے؟

دراصل ان میں سے کچھ بھی نہیں۔ وجہ قتل بلیک میلنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا شدید رنج ہے۔ قاتل سگی بہن ہے۔ مقتول بھی سگی بہن ہے۔ کوئی اجنبی، انجان بلیک میل کرے تو تکلیف تو ہوتی ہے، غصہ بھی آتا ہے، لیکن اگر خون کا رشتہ ہی بلیک میل کرے تو غصے کے ساتھ رنج بھی شامل ہوجاتا ہے۔ رنج جو ریوینج (انتقام) پر اکساتا ہے۔ بہن، ماں جائی، جو بڑی ہو تو ماں جیسی شفیق اور چھوٹی ہو تو بیٹی جیسی عزیز۔ ایک جیسی ہم نفس، ہم درد!

لیکن اس غیر فطری آسائشات کی دوڑ میں شامل غیر فطری خواہشات کے حصول کے خواہشمند، فطرت اور اس کے تقاضوں کو فراموش کردیتے ہیں۔ ہر کسی کو جلدی ہے سب کچھ پلک جھپکتے میں حاصل کرنے کی، سب کچھ فوراً سے۔ زندگی محدود ہے، ایک دفعہ ملتی ہے اور جوانی کے سال گنے چنے ہیں۔ اگر اور کوئی ہنر ہاتھ میں نہیں تو جوانی اور جسم کے ہتھیار تو ہر دور میں کارگر رہے ہیں۔ خواہشات کی بارٹر ٹریڈ میں ایک فریق ”جسم“ لاتا ہے اور دوسرا ”خواہش کی تکمیل“۔ جسے جو درکار ہے اس سے ادل بدل کیا اور اپنی راہ لی۔ ان خواہشات کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جتنی بھی پوری ہوجائیں اس سے زیادہ باقی رہ جاتی ہیں۔ فرمایا: ابن آدم کو سونے کی وادی مل جائے تو دوسرے کی تمنا لازم ہوجاتی ہے۔ پیٹ مگر قبر کی مٹی سے ہی بھرتا ہے۔

ننانوے کا پھیر سمجھ لیں۔ جس کا سودا جسم ہے، وہ خطرے میں ہے کیونکہ مارکیٹ کا اصول ہے نئی نویلی چیز کی مارکیٹ ویلیو، شو روم سے نکلتے ہی گرنا شروع ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ایک ہی سودا بار بار بیچا نہیں جاسکتا۔ نئے سامان، نئے آئٹم کی فرمائش آجاتی ہے، جبکہ مال و زر کی مارکیٹ ویلیو بڑھتی ہی ہے۔ جسم و جوانی کے سودے میں ملوث بہن کی دوڑ اپنے بعد اپنے ہی گھر میں موجود بڑی بہن تک رہی۔ یہ مقام حیرت ہے کہ بڑی بہن کی ایسی تصاویر یا ویڈیو بنانے میں چھوٹی بہن کامیاب کیسے ہوگئی کہ جس کی بنیاد پر چھوٹی بہن، بڑی کو بلیک میل کرکے مجبور کرتی رہی؟ یا شاید ابتدائی طور پر دونوں بہنیں ایک ہی جیسی لیکن مختلف راہوں کی ہمراز مسافر رہیں، جس میں بےتکلفی کی حد یہاں تک تھی کہ وہ ایک دوسرے سے ایک دوسرے کا ناگفتہ بہ ریکارڈ بھی شیئر کرتی رہیں۔ جسے بعد میں موقع پرست چھوٹی بہن نے اپنی مطلب برآری کے لیے ارادتاً یا مجبوراً استعمال کیا۔

بڑی بہن کا کردار بھی سوالیہ نشان ہے کہ اس کی اخلاق باختہ ویڈیو/تصاویر کا موجود ہونا، بہن کے قتل کے لیے پہلے ایک مرد دوست سے مدد مانگنا اور پھر انکار کے بعد اپنے منگیتر کی مدد سے بہن کے گلے پر چھری چلانا… آخر اس نے منگیتر کو اس بھیانک جرم کے لیے کیا کہہ کر آمادہ کیا ہوگا؟ اگر وہ منگیتر کو سب کچھ بتا سکتی تھی تب تو اسے بلیک میلنگ کے خوف سے بھی آزاد ہوجانا چاہیے تھا۔ اگر وہ نیکی کے ارادے سے برائی سے تائب ہوچکی تھی، تب بھی اس کا رویہ قتل تک جانا تبھی ممکن ہے جب رنج شدید ہو۔ کیا عجب کہ بڑی بہن کو مفت میں استعمال کیے جانے پر اعتراض ہو؟

ایک پہلو یہ ہے کہ والدین کی آمدنی 30 ہزار روپے ماہانہ ہے تو انہوں نے بیٹیوں سے اسمارٹ فون کی بابت سوال کیوں نہ کیا؟ بھئی جو لڑکیاں والدین کی لاعلمی میں قتل تک کرسکتی ہیں، ان کے لیے ایک اسمارٹ فون کو مخفی رکھنا تو چٹکی بجانے جیسا معمولی کام رہا ہوگا۔ دوسرا پہلو اس تمام بارٹر ٹریڈ میں والدین کی خاموش رضامندی کا شامل ہونا بھی ہوسکتی ہے۔ غربت، جوان بیٹیاں، جہیز کا بوجھ، رشتوں کا کال کچھ والدین کو کچھ حقائق سے چشم پوشی پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ایسی بھی مائیں سنیں جو اپنی جوان بیٹیوں سے کہتی ہیں اپنے لیے خود تلاش کریں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ”تلاش“ کے اس سفر میں وہ کہاں سے کہاں نکل جاتی ہیں؟

تربیت ضروری ہے، سوال اُٹھتے ہیں، لیکن جہاں والدین میں سے ہر دو کو روزی روٹی کے لیے صبح سے شام گھر سے باہر کرنا پڑتی ہو، ان گھروں میں تربیت کا سوال سوائے بےوقوفی کے کیا کہلائے گا۔ ملزمہ اور مقتولہ کے والدین دونوں جہنم کی آگ بجھانے کے لیے کولہو کے بیل بنے تھے۔ ایک کی زندگی کا زیادہ وقت فیکٹری میں جبکہ دوسرا مشقت کے پاپڑ بیل کر مادیت کی اس دوڑ میں شامل ہونے کے آرزومند۔ تعلیم تربیت اور غیرت بھرے پیٹ والوں کے سوال ہیں۔ غربت کی سرحدوں پر زندگی کرنے والوں کا سوال روٹی اور بھوک ہوتے ہیں۔

تاریخ میں خواتین کو سیاسی محاذ پر اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ مخالف بادشاہ کے عقد میں بہن یا بیٹی دے کر اسے دوست اور رشتے دار بنا لیا جاتا تھا۔ پہلے خاتون کی بارٹر ٹریڈ مرد کے ہاتھ میں تھی، اب خاتون اپنی قیمت خود طے کررہی ہے۔ الزام معاشرہ لگاتا ہے اور معاشرے کی اقدار عموماً مرد کی طے کردہ ہیں۔ سیاسی مقصد کے لیے بھیڑ بکری کی طرح بیاہی گئی بیٹی بہرحال آبرومند کہلاتی تھی۔ اب خواتین خود کو خود ہی کیش کروانے کی کوشش میں بےطرح بک رہی ہیں اور لٹ رہی ہیں۔ کاروبار رسوم و رواج میں "بھیڑ بکری" کی عزت محفوظ رہتی تھی۔ اب یہ آج کی صنف نازک کے لیے سوالیہ نشان ہے کہ وہ اپنے لیے کیا معیار طے کرتی ہے۔ قصور وار موبائل کو ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ یہ شیطانی چرخا خاندان کی بنیادی اکائی کا شیرازہ بکھیرنے میں پیش پیش ہے۔ بےشک ٹیکنالوجی نے زندگی میں بہت سی آسانیاں پیدا کردیں، لیکن سمارٹ فون کی مثال اس چھری کی سی ہے جس سے سبزی بھی کاٹی جاسکتی ہے اور اپنے پیٹ میں بھی گھونپا جاسکتا ہے۔

کل ٹیلی وژن پر دیکھا کہ اہل محلہ پورے خاندان کے بہترین چال چلن کی گواہی دے رہے تھے۔ والدین گھر اور محلہ چھوڑ کر روپوش ہو گئے ہیں۔ عزت مند باغیرت غریب اور کر بھی کیا سکتا ہے؟ چینلز ریٹنگ کے نام پر ان کے غم اور دکھ کی گھڑی میں ان کا ساتھ دینے کے بجائے ان کے ہرے زخموں کو چھیڑ چھیل کر ناسور بنانے کا کردار ادا کرتا ہے۔ کچھ رحم!

بحث یہ ہرگز نہیں کہ موبائل فون استعمال ہونا چاہیے یا نہیں؟ بات اس پر ہونی چاہیے کہ معاشرے میں لوگ اس رنج بمعنی ریونج کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں کہ جس میں ایک بہن اپنی سگی بہن کو موت کے گھاٹ اُتارنے میں پس وپیش سے کام نہ لے؟

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.