حضرت عیسیٰؑ کی آمد ثانی قرآن کے خلاف؟ ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

ہم نے ایک سادہ سا سوال پوچھا تھا کہ اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات (بمعنی رحلت) ہوچکی تب بھی ان کی آمد ثانی کی روایات "قرآن کے خلاف" کس طرح ہیں؟ اس کے جواب میں مدعیین کی طرف سے جو کچھ کہا گیا اس کا خلاصہ ملاحظہ ہو:

1) قرآن میں یہ اصول کہاں بیان ہوا کہ مرنے کے بعد کوئی دنیا میں دوبارہ آسکتا ہے؟

تبصرہ: معلوم ہوا کہ ناقد کو "خلاف" کا معنی معلوم نہیں، کیونکہ خلاف ہونا کسی ثابت شدہ دعوے کے برعکس (متضاد) بیان کا نام ہے، تو اگر آمد ثانی کو "خلاف قرآن" ثابت کرنا ہے تو پھر پہلے یہ ثابت کرنا ناقد کے ذمے ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ آسکنا از روائے قرآن ناممکن ہے۔ اس دعوے (کہ مرنے کے بعد دوبارہ آسکنا از روائے قرآن ناممکن ہے) کو ثابت کیے بغیر روایات کے "خلاف قرآن" ہونے کا دعویٰ کرنا بےمعنی ہے۔ پہلے اس دعوے کو ثابت تو کیجیے، پھر "اس کے خلاف ہونے" کی باری آئے گی۔

2) قرآن (سورہ مؤمنون) میں ایک ایسے شخص کا ذکر ہوا جو خدا کے حضور کہتا ہے کہ اگر تو مجھے دنیا میں پھر سے بھیج دے تو میں نیک کام کروں گا، لیکن اسے جواب دیا جائے گا کہ ایسا نہیں ہوگا، نیز مرنے کے بعد روز قیامت تک ان کے درمیان بزرخ حائل ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد دوبارہ لوٹنا خلاف قرآن ہے۔

تبصرہ: اس آیت کے مطابق اگر کوئی شخص خود سے یہ خواہش کرے کہ مجھے فلاں فلاں مقصد کے لیے دنیا میں بھیج دو تو اللہ اسے نہیں بھیجےگا، اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ ایسا ہونا ہر ہر شخص و مقصد کے لیے محال ہے، یا اللہ کسی کے بھی لیے ایسا نہیں کرے گا؟ دیکھیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام مُردوں کو زندہ کر دیا کرتے تھے اور سورہ بقرہ میں ایک ایسے شخص کا ذکر موجود ہے جسے مرنے کے بعد زندہ کر دیا گیا تھا۔ تو ان نظائر کی روشنی میں اب مفروضہ دعوے کی آفاقیت کی کیا حیثیت رہ گئی؟

3) یہ نظائر بطور معجزہ تھے۔

تبصرہ: تو کیا ہوا؟ یہ واقعہ معجزہ ہو یا عام روٹین کا، اس سے اس مفروضہ دعوے کی آفاقیت تو جاتی رہی۔ تو جب یہ مفروضہ اصول آفاقی نہیں بلکہ خود اس کی تخصیص منصوص ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا امکان اس کے خلاف ہونے کا کیا مطلب؟ نیز آمد ثانی ماننے والوں کا یہ کب کہنا ہے کہ یہ کوئی روٹین کا واقعہ ہوگا؟

تو یہ ہے "قرآن کے خلاف ہے" کا دعویٰ کرنے والوں کے اب تک کے دلائل کی کل کائنات۔ الغرض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی "وفات" (بمعنی رحلت) کو مان بھی لیا جائے تب بھی اس سے آمد ثانی والی روایات کا قرآن کے خلاف ہونا لازم نہیں آتا، الّا یہ کہ اس کے ساتھ چند دیگر مفروضات کو بھی ملایا جائے جو ثابت شدہ نہیں۔ پس یہی دکھانا مقصود ہے کہ ان حضرات کا اکثر باتوں میں "قرآن کے خلاف ہے" کا ورد کرنا کتنا معنی خیز ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے "خلاف ہونے" کے معنی پر صحیح سے غور نہیں کیا۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.