امن وامان کی اہمیت؛ چند تجاویز - اظہر شاہ ستوریانی

قیام امن انتہائی اہم اور ان بنیادی امور میں سے ہے جن سے کوئی بھی معاشرہ کامیابی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ قیام امن ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ قیام امن ہی وہ چیز ہے جس سے انسانی زندگی خوشحال اور پرسکون بن جاتی ہے۔ دین اسلام نے سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا ہے وہ قیام امن ہی ہے، چناچہ قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم کی دعانقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اے میرے رب! اس بستی کو امن کا گہوارا بنا دے، اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں میں سے رزق دے، تاکہ یہ شکرادا کریں۔'' (البقرہ آیت نمبر ٢٦)۔

اس دعا میں سب سے پہلے امن کا ذکر ہے، اس کے بعد معیشت اور رزق کی بات ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے قیام امن کو معیشت پر بھی ترجیح دی ہے۔ اقوام عالم میں ہر سال یوم امن کے حوالے سے سیمینارز اور کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ اقوام متحدہ کے فورم سے امن کا دن مختص ہونے اور ہر سال سیکڑوں تقاریب منعقد ہونے سے بھی عالمی سطح پر امن کے بجائے انتشار بڑھتا جا رہا ہے، تقریباً ہر ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ محض نمائشی اقدامات کو کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ آئیے! ان چیزوں پر غور کریں جن پر عمل کر کے امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔

(١) عدل وانصاف:
قیام امن کے حوالے سے سب سے اہم اور بنیادی چیز عدل و انصاف ہے۔ جب کسی ملک کے عدالتی و معاشرتی نظام میں عدل و انصاف کی حکمرانی ہوتی ہے، ہر فیصلہ انصاف پر مبنی اور میرٹ پر ہوتا ہے، غریب وامیر کے لیے یکساں قانون ہوتا ہے، تو وہ ملک اور معاشرہ امن کے گمشدہ پرندے کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، جسے ڈھونڈنے میں آج کل کی جدید مشینری ناکام ہوچکی ہے۔ امن و امان اخوت اور بھائی چارگی کی ہی مرہون منت ہے، اور معاشرے میں اخوت اور بھائی چارگی عدل وانصاف کے ذریعے ہی ممکن ہے، جب معاشرے میں عدل وانصاف رواج پذیر ہوتا ہے، حقدار کو اس کا حق ملتا ہے، اور مجرم کو سزا ملتی ہے، تو معاشرے میں محبت، امن، اخوت اور بھائی چارگی کی فضا پھیلتی چلی جاتی ہے، اور پھر خود بخود معاشرہ سکون کا سانس لینے لگتا ہے۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کا دورخلافت عدل و انصاف کا ایک ایسا شاہکار ہے کہ جس سے آج بھی امت مسلمہ کا سر فخر سے بلند ہوتا ہے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے عدل و انصاف کی ایسی مثالیں چھوڑی ہیں جن کی آج کل نظیر پیش کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ آپ کا دور خلافت امن و امان کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھا، بڑی وجہ عدل و انصاف کا بہترین نظام تھا، آپ عدل و انصاف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔ جب تک معاشرے میں امیر و غریب، حاکم و محکوم اور آمر مامورکے لیے یکساں قانون نہیں ہوتا تب تک قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

(٢) تعلیم و تربیت:
قیام امن کے حوالے سے دوسری اہم چیز درست تعلیم و تربیت ہے، جو انسان کو جہالت و ظلمت کے گھپ اندھیروں سے نکال کر علم و عرفان اور شعور و آگہی کی زینت سے مزین کرتی ہے، انسانی طبائع سے تضاد و منافرت کو دور کرکے انسانی ذہن کو اصل حقائق سے روشناس کرتی ہے، اور اس کا مقصد ایک ایسا معاشرہ اور ماحول تشکیل دینا ہوتا ہے جہاں مختلف الطبع لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنے اور برداشت کرنے کا سلیقہ سیکھ کر امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ تعلیم و تربیت کو مختلف تہذیبی دائروں میں امن و سکون کی علامت سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اگر انسان کی صحیح تعلیم وتر بیت نہ کی جائے اور اس کو خود رو گھاس کی طرح چھوڑ دیا جائے تو وہ جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، اور ایسی مکروہ حرکات کرنے لگتا ہے جس کی منفی اثرات کی وجہ سے پورا معاشرہ اور سماج متائثر ہوجاتا ہے، ایسے افراد معاشرے اور سماج کے لیے وبال بن جاتے ہیں۔ معاشرہ امن وامان کو ترس جاتا ہے ۔ اس کے برعکس جب انسانی ذہن اوائل عمری میں تعلیم و تہذیب کی اعلیٰ اقدار و روایات کے جانب مائل کردیا جائے، صحیح تربیت کی جائے، تو معاشرے میں امن واستحکام کی راہ میں کوئی روکاوٹ حائل نہیں ہوتی۔

(٣) مذہبی آزادی:
تیسری اہم چیز مذہبی آزادی ہے، کیوں کہ انسان فطرتی طور پر آزاد پیدا کیا گیا ہے، اسے اپنے ہر قول و فعل اور عمل میں آزادی حاصل ہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل، سمجھ بوجھ، غلط صحیح کی تمیز اور حق و باطل ظاہر کرنے کے بعد اسے مکمل بااختیار بنایا، کہ وہ جس پر چاہے عمل کرے، جس پر چاہے زندگی گزارے، چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''زبردستی نہیں ہے دین کے معاملے میں، بے شک جدا ہوچکی ہے ہدایت گمراہی سے، اب جب کوئی نہ مانے گمراہ کرنے والو ں کو، اور یقین لائے اللہ تعالیٰ پر، تو اس نے پکڑ لیا حلقہ مضبوط، جو ٹوٹنے والا نہیں اور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔'' (البقرہ آیت نمبر ٢٥٦)۔ ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''کیا تو زبردستی کرے گا کہ وہ ہوجائے ایمان لانے والے۔''(یونس آیت نمبر ٩٩)۔
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ارادے و اختیار کی مکمل آزادی دی ہے، دین و مذہب کے بارے میں وہ بالکل بااختیار ہے، رد و قبول کے فیصلے اس کے ہاتھ میں سونپ دیے ہیں، جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو مذہبی آزادی دی ہے اسی طرح ہمارے ملک کی بنیاد بھی مذہبی آزادی پر ہے، کسی بھی شہری کے لیے کسی بھی مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہے، ہر شہری دوسرے مذاہب کا اور ان کے پیرو کاروں کا احترام کرتے ہوئے اپنے دین و مذہب پر عمل کرسکتا ہے، کیوں کہ مذہبی آزادی امن امان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جب مذہبی آزادی ہوتی ہے تو معاشرے میں مساوات اور برابری برقرا رہتی ہے، جب معاشرے میں مساوات اور برابری برقرارہے گی تو امن وامان کی فضا قائم ہوگی، اسی وجہ سے مذہبی آزادی ضروری ہے، اس کے بغیر قیام امن ایک امشکل امر ہے۔

(٤) تعلیمی ادارے:
چوتھی بنیادی چیز تعلیمی ادارے ہیں۔ کسی بھی ملک اور معاشرے میں تعلیمی اداروں کو اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارے اپنی مخلصانہ کاوشوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک عظیم قومی خدمت سرانجام دے سکتے ہیں، طلبہ وطالبات کی بہترین تعلیمی رہنمائی کے ساتھ ان کی کردار سازی بھی اداروں کا فرض منصبی ہے، کہ وہ نونہالان قوم کو امن و آتشی کی اعلیٰ اقدار سے روشناس کروائیں ۔ تعلیمی ادارے جب تک نسل نو کو جدید علوم سے آرستہ کرتے ہوئے ان کے ذہن و کردار کی پرورش میں حصہ نہیں لیتے تو ایک بہترین قوم کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ تعلیمی ادارے اپنی ان ذمہ داریوں او ر فرائض پر صحیح معنوں میں توجہ دیں گے، اور عملی طور پر طلبہ و طالبات کی صحیح تربیت کریں گے، تو کوئی بعید نہیں کہ معاشرہ اور سماج امن وامان کی بہترین کی طرف گامزن ہوجائے۔

(٥) تربیت معاشرہ:
امن و امان کے قیام کے بنیاد ی محرکات میں سے ایک تربیت معاشرہ بھی ہے۔ جوار بونے سے جوار کی فصل اگتی ہے اور گندم بونے سے گندم کی، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بوئی تو گندم اور فصل چنے کی حاصل ہو۔ اس لیے قیام امن کے لیے جس طرح عدل و انصاف، تعلیم و تربیت، مذہبی آزادی، اور تعلیمی اداروں کی تربیت ضروری ہے، اسی طرح تربیت معاشرہ بھی ازحد ضروری ہے۔ اس کے بغیر امن کی آس لگانا بے سود ہے۔ تربیت معاشرہ کسی خاص فرد یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر والد ہے تو اولاد، ٹیچر ہے تو طلبہ و طالبات اور کسی ادارے کا سربراہ ہے تو ماتحت، ان سب کی صحیح تربیت کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ معاشرے میں امن اور خوشحالی ہوگی تو سب لوگ پرسکون زندگی بسر کرسکیں گے۔ اس لیے ہمیں امن و امان کی مخدوش صورت حال قابو پانے کے لیے ان مذ کورہ امور پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */