اسلامی تاریخ کے چند المناک ورق (2) - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

پچھلی قسط

سلطان سلیم کی معزولی کے بعد سلطان محمود دوم کو 28 جولائی 1808ء کو تخت نشین کر دیا گیا۔ اب نپولین اور جوزفین کی رشتہ دار مارتھا یعنی نقش دل، والدہ سلطان کے مرتبہ پر فائز اور اس کا دور کا بھانجا اسلامی دنیا کا طاقتور ترین حکمران تھا۔ نمک حرام مارتھا کی کوشش تھی کہ خود اپنی جنم دی ہوئی نسل کو طاقت اور سلطنت سے محروم کر کے دنیا سے"خلافت" نامی مثالی طرز حکومت کا خاتمہ کر دے۔ بڑا کھیل اپنے پہلے نصف کی طرف بڑھ رہا تھا۔ مارتھا اگلے 19 برس تک زندہ رہی۔ وہ مسلمانوں کی انتہائی بااثر فرانسیسی ماں تھی۔ اس نے کھیل کے لیے تیزی سے میدان سجانا شروع کیا۔ عثمانی تہذیب مفقود اور فرانسیسی تہذیب غالب آتی گئی۔ محمود دوم نے پگڑی اور جبہ وغیرہ پہننا چھوڑ دیا اور یورپی لباس اپنالیا۔ آخری دو خلفاء، 36 واں اور 37 واں حکمران، جن کی تصاویر ملتی ہیں اسی یورپی لباس میں ملبوس دکھائی دیتے ہیں۔

دور تنظیمات کے اولین لبرل وزیروں میں سے ایک، محمد پاشا

تاریخ سے ناواقف قاری تعجب کرتا ہے کہ ان کی سلطنت تو کمزور ہوئی تھی، ان کے حلیوں کو کیا ہوا؟ 30 ویں نمبر کے حکمران جو نقش دل کا فرزند ہونے کی بنا پر یورپی نقوش کو عثمانی آثار پر مسلط کر رہا تھا، تمام عمائدین سلطنت اور سرکاری اہلکاروں کو اپنی تقلید کا حکم دیا تاکہ ترقی کو جلد از جلد آزادی کے ذریعے حاصل کرسکے۔ آزادی کس سے؟ کیا وہ غلام تھے؟ نام نہاد جمہوری آزادی جس نے ترکی کو سیکولر یورپ کی حکمرانی میں دھکیل دیا۔ سلطنت کے عاملین کا ڈھانچہ یورپی نظام کے مطابق سول سروسز کے طور پر قائم کیا گیا۔ بہادر عثمانی افواج کی تربیت کے لیے غیر ملکی فوجی ماہرین کی خدمات حاصل کر کے ان کا مزاج تبدیل کرنے کی اور بعد ازاں قابو میں کرنے کی کوشش کی گئی۔ ترکی پر مغربی تہذیب کے دروازے کھول دیے گئے۔ ذہین طلبہ کو خصوصی تعلیم کے لیے یورپ بھیجا جانے لگا۔ یورپ پلٹ طلبہ کو بڑے بڑے عہدے دیے جانے لگے۔ یہی طلبہ آگے چل کر"نوجوان ترک" نامی اس جماعت کی بنیاد بنے جس نے قدیم خلافت کے خاتمے اور جدت پسند جمہوریت کے نفاذ کی تحریک چلائی۔ برادری کا سفر اپنے ہدف کی طرف درست سمت میں جاری تھا۔ یورپ پلٹ خصوصی تربیت یافتہ طلبہ دلکش نعروں کی آڑ میں سلطنت پر اثرانداز ہو رہے تھے۔ بساط کا ہر مہرہ اپنا کردار ادا کر رہا تھا۔ شیطانی جمہوریت کے پیالے میں اسلامی سلطنت کے سقوط کا عکس نظر آنا شروع ہوگیا تھا۔

سلطان محمود دوم یکم جولائی 1839ء کو تپ دق اور ضعف جگر کے عوارض میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گیا۔ ہر وقت کی شراب نوشی نے اس کی موت کو تیزی سے قریب کر دیا تھا۔ اس سے فراغت کے بعد آگے کی نئی نسل پر ویسے ہی محنت ہورہی تھی، جیسے آج کل عرب شہزادوں پر ہوتی ہے۔ اس کا جانشین اور بیٹا سلطان عبدالمجید اول، 1839ء تا1861ء، زیادہ وقت باسفورس والے پرتعیش محل میں گزارتا، جو قرض لے کر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی ترجیح مغربی موسیقی سننا تھی۔ مغربی تعلیم اثر دکھا رہی تھی۔ شراب جسم کو اور موسیقی روح کو گھائل کر رہی تھی۔ یہی وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے مغرب یا برادری مسلمان حکمرانوں کو ڈھپ پر لاتی ہے۔ ہمارے ہاں فحاشی پھیلانے اور مانع حمل گولیاں تقسیم کرنے کی منطق بھی یہی ہے۔ نوجوان ترک طلبہ کی یورپ میں تعلیم وتربیت کے بعد اب وقت آگیا تھا کہ عثمانی سلاطین کے لیے بھی غیر ملکی دوروں کا اور ان میں دیے جانے والے خصوصی پروٹوکول کا جال بچھایا جائےتاکہ وہ وہاں سے رنگ اور روشنی لے کر اپنے تاریک اور پسماندہ ملک کو لوٹیں۔ 600 سالہ قدیم سلطنت کے ایوانوں میں بالآخر عورت، شراب اور موسیقی نے دراڑیں ڈالنا شروع کر دی تھیں۔ نقش دل کے جادو کا نقش سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ اب وقت آگیا تھا مسلم حکمرانوں کو یورپی زندگی کے نظاروں سے لبھا کر کھیل کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   مغربی یا اسلامی طرز جمہوریت - ابن امان

سلطان عبدالعزیز، 1861ءتا 1876ء، سلطان محمود دوم کا بیٹا اور 32 واں سلطان پہلا مسلمان خلیفہ تھا جس نے 1867ء میں یورپ کا دورہ کیا۔ اس دورے میں اس کے ساتھ اس کا بیٹا یوسف عزالدین اور دو بھتیجے مراد، 33 واں سلطان اور عبدالحمید، 34 واں سلطان، بھی ساتھ تھے۔ اس دورے کی دعوت اسے لویئس نپولین نے دی۔ اس کا مقصد عظیم عالمی نمائش دیکھنا تھا۔ سلطان کا بھتیجا مراد اپنی سنجیدگی کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔ اسے ممکنہ طور پر اگلا جانشین باور کیا جاتا تھا۔ وہ اتنا سنجیدہ اور متین شخص تھا کہ زندگی بھر کبھی نہ مسکرایا۔ یورپ کے دورے کے دوران اسے شراب اور چاکلیٹ پیش کی گئی۔ اس نے خلافِ عادت مسکرا کر ملکہ فرانس کا شکریہ ادا کیا۔ وار چل چکا تھا۔ یہ پہلی مسکراہٹ تھی جو اس کے چہرے پر دیکھنے میں آئی۔ یورپ والوں کے لیے یہ ایک مثبت اشارہ تھا۔ ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ نوجوان شہزادہ یورپی شراب و چاکلیٹ کا ذائقہ بھی وطن واپس لے جارہا تھا۔ یہ انتہائی خطرناک حالت تھی۔ مستقبل کا حکمران یورپی مشروبات اور حرام آمیز ماکولات کا عادی ہونے جارہا تھا۔ اسلام دشمن اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے جارہے تھے۔ انہوں نے بالآخر "ام المفاسد" (غیر مسلم بیوی) کے بعد"ام الخبائث" کو بھی سلاطین کی خلوت گاہوں میں پہنچا دیا تھا۔

سلطان عبدالعزیز کے بعد حسب توقع اس کا بھتیجا مراد پنجم اگلا سلطان بنا۔ یورپی برانڈی اور شراب کا جو ذوق وہ یورپ کے دورے سے اپنے ساتھ لایا تھا، بہت جلد ایک ضرورت بن گیا۔ اب وہ ایک عادی شرابی بن گیا۔ کثرت شراب نوشی سے وہ، ذہنی مریض بھی بن گیا۔ اس کے ساتھ دو طرفہ حربے کھیلے جارہے تھے۔ ایک طرف تو فتنہ انگیز حسن کی مالک دوشیزائیں، جنہیں حرم تک پہنچانے کا سلسلہ نقش دل قائم کر گئی تھی، کے ذریعے کاروبار سلطنت اور حریف ممالک کے مقابلے میں ترقی وجدوجہد سے غافل کیا جارہا تھا۔ دوسری طرف اس کے خلاف ملک بھر میں پروپیگنڈہ جاری تھا کہ وہ ہر وقت نشہ میں ڈوبا اور دوشیزاؤں کے جھرمٹ میں گھرا رہتا ہے۔ اس کے کاندھے ریاست کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں۔ ملک کو نئے حکمران، بلکہ حکمرانی کے نئے نظام کی ضرورت ہے۔ کون سے نظام کی؟ سلطنت وخلافت کے سقوط کے بعد جمہوریت کے علاوہ اور کون سا نظام مغرب کی نظر میں اسلامی ممالک کے لیے بہترین ہوسکتا تھا؟

یہ بھی پڑھیں:   مغربی یا اسلامی طرز جمہوریت - ابن امان
استنبول میں نقش دل سلطان کا مزار

اس طرح برادری نئے سیکولر ترک جمہوریہ کے لیے پس منظر تیار کر رہی تھی۔ ان کے پروپیگنڈا اور پمفلٹوں نے نوجوانوں کی ذہنی تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا۔ نئے پمفلٹ قدیم اسلامی طریقوں کا استہزا اڑانے کے لیے تحریر کیے گئے۔ ان پمفلٹوں میں خاکہ دیا جاتا کہ خلیفہ وحشیانہ ڈاڑھی اور مونچھوں کے ساتھ قدیم اسلامی لباس میں ایک زنگ آلود تلوار پکڑے ہوئے ہے، جبکہ پس منظر میں ایک صاف ستھرے لباس میں ڈاڑھی منڈا، خوش وضع فرانسیسی کھڑا ہے جس کے ہاتھ میں جدید رائفل ہے۔ یہ سب کچھ نوجوان نسل کا ذہن مسموم کرنے اور رائے عامہ متحرک کرنے کے لیے تھا، تاکہ عوام اپنے ہی بھائیوں کے خلاف لڑنے مرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں جنہیں گنوار ملا کہا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ فری میسنری کے نام پر اور شیطان ازم کے کہنے پر کیا جارہا تھا۔ یہی کام ہمارے ہاں برصغیر میں انگریزی تہذیب کے غلبے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہی کام آج افغانستان میں"اسلامی امارت" کے احیاء کے خطرے کے پیش نظر پہلے پڑوس ملک میں"میرا سلطان" نامی ڈراموں کے ذریعے کیا جارہا ہے۔ طالبان کی ساکھ خراب کرنے اور ان کے بے مثل بہادری کے کاموں پر گرد اڑانے کا کوئی موقع ہمارا"فنڈ خور" آزاد" اور" غیر جانبدار" تابع فرمان میڈیا ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔

سلطان مراد کے بعد خوش قسمتی سے سلطان عبدالحمید دوم 34 واں سلطان بنا۔ یہ وہ آخری شخص تھا جو برادری کے زیر اثر نہ تھا، بلکہ ان کی چالوں کو سمجھتا اور ان کے توڑ کی فکر میں رہتا تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ دشمن کا جال کھونٹے گاڑچکا تھا۔ برادری نے جب اس کو ڈھپ پر لانے کی کوشش کو ناکام ہوتے دیکھا تو ترکیب نمبر دو شروع کی۔ اس کے خلاف پروپیگنڈے اور قاتلانہ حملے شروع ہوگئے تاکہ اگلے فری میسن حکمران کا راستہ صاف کیا جائے۔ اس کے خلاف پروپیگنڈے کے طوفان کا یہ عالم تھا کہ یورپی وظیفہ خور قلم کار اسے"مردود عبدل" کہتے تھے۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ برادری اس رکاوٹ کو اپنے راستے میں حائل دیکھ کر کس حد تک برافروختہ ہوچکی تھی؟

سلطان عبدالحمید دوم نے قاتلانہ حملوں اور گمراہ کن پروپیگنڈوں کے باوجود حکمرانی جاری رکھی۔ اس کے مخالفین کی قیادت برادری کا تیار کردہ جرنیل محمود شفقت پاشا کر رہا تھا۔ وہ سالونیکا میں تیسری فوج کا کمانڈر تھا۔ اس نے اپنے مقدونی سپاہیوں کے ساتھ اپریل 1909ء میں استنبول کا محاصرہ کرلیا۔ 22 اپریل 1909ء کو بہت سے منتشر ارکان، ایوان وزرا خفیہ طور پر سان سٹیفانو میں جمع ہوئے۔ انہوں نے فری میسن ایجنٹ سعید پاشا کی چیئرمین شپ میں فیصلہ کیا کہ سلطان عبدالحمید کو معزول کر دیا جائے، چناچہ اس کا اقتدار27 اپریل 1909ء کو ختم ہوگیا۔ دو دن بعد اسے سالونیکا میں جلاوطن کر دیا گیا۔ اس نے اپنی بقیہ زندگی وہیں گزاری۔ اس کا جرم کیا تھا؟ جرم ضعیفی کے بعد اس کا اصل جرم تھا اس نے برادری کے کہنے پر اسے فلسطین منہ مانگی رشوت کے عوض دینے سے انکار کر دیا تھا۔ آئیے! اس کی روئیداد بھی سن لیجیے

(جاری ہے)