قاتل کون اور مقتول کون؟ - ڈاکٹر شفق حرا

کچھ دن قبل کراچی کے علاقے ملیر میں ایک گھر میں مبینہ ڈکیتی کے دوران میں سولہ سالہ لڑکی علینہ کے قتل کا لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا۔ ابتدائی رپورٹ سے ظاہر ہوا کہ کچھ ڈاکو موقع دیکھ کر ایک گھر میں گھس گئے جہاں انہوں نے نقدی اور زیور لوٹنے کی کوشش کی، لیکن گھر میں موجود دو بہنوں میں سے چھوٹی بہن علینہ نے مزاحمت کی جس کی وجہ سے سیخ پا ڈاکوئوں نے اس کو اسی چھری سے قتل کر ڈالا جس سے علینہ نے ان پر حملہ کیا تھا۔

یہ وہ کہانی تھی جوکہ مقتولہ کی بڑی بہن علوینہ نے پولیس اور دیگر افراد کو سناکر مطمئن کرنے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے اس کے بیانات میں تضاد کی بناء پر شک کیا اور پھر بعد ازاں قاتل کوئی اور نہیں بلکہ سگی بہن ہی نکلی۔

اس واقعہ کے دوسرے ہی روز میرے کچھ دوستوں نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو ناگفتہ بہ قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کا ذکر کیا لیکن میں نے ناکافی معلومات کے باوجود اس وقت بھی اس شک کا اظہار کیا کہ واقعہ کے پس پردہ حقائق مختلف ہیں اور اصل کہانی کا پردہ اٹھنا باقی ہے۔ میرے شک کی وجہ میرے اندر کسی شرلاک ہومز کا موجود ہونا نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ ہمارے معاشرتی حالات ہیں۔

ہماری نئی نسل جس طرح سے جدید دور کے تقاضوں کا منفی استعمال کررہی ہے، اس سے معاشرے میں ایسی برائیاں جنم لینا معمول بن چکا ہے۔ کچھ روز میں سوشل میڈیا پر دوست بننا اور پھر دوستیوں کے مراحل طے کرکے دنوں میں لیلیٰ مجنوں کے روپ میں ڈھل جانا ایک حقیقت بن چکا ہے۔ دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ اکثر عشق میں ڈوبی لیلیٰ کو مجنوں جبکہ مجنوں کو لیلیٰ کی حقیقت کا علم ہوتا ہے لیکن دونوں محض وقت گزاری کے لیے کچھ عرصہ ایک دوسرے کی سر دردی کے بعد بریک اپ کا گانا گا کر پھر کسی اور لیلیٰ اور مجنوں کی تلاش میں مگن ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ جدید دور نے ہمیں یہ تاثر دے دیا ہے کہ پیسہ سب سے بڑی نعمت ہے اور تمام رشتے اسی نعمت کے گرد گھومتے ہیں۔ زمانہ یہ آگیا ہے کہ برسوں پرانے ٹوٹے ہوئے تعلق بھی کام پڑنے پر سیکنڈوں میں بحال ہوجاتے ہیں اور کام نہ ہونے پر برسوں پرانے تعلق ثانیوں میں ختم بھی ہوجاتے ہیں۔

یہی معاشرتی پہلو علوینہ کو اپنی ہی بہن علینہ کا قاتل بنا گیا۔ میں اپنے اردگرد موجود رشتوں کو سامنے رکھ کر یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کوئی بہن کبھی اپنی ہی بہن کی قاتلہ ہوسکتی ہے۔ اختلافات کے باوجود بہنوں میں عزت و احترام اس قدر زیادہ ہوتا ہے، قتل تو درکنار کوئی بہن کسی دوسرے کے سامنے اپنی بہن کی مخالفت بھی نہیں کرتی۔ ایسے کتنے ہی واقعات ہمارے اردگرد بکھرے پڑے ہیں کہ بڑی بہن چھوٹی بہنوں کی خاطر اپنا سب کچھ تج دیتی ہے۔ صبح سے شام تک اور مزید اضافی وقت ملازمت کرتی ہے، بسوں میں دھکیے دھکے کھاتی ہیں، عمر گزر جاتی ہے، اپنی بہنوں کو مگر کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دیتیں۔ انہیں اچھی تعلیم دلواتی ہے اور پھر سج دھج کے ساتھ عروسی لباسی پہناکر انہیں ایک خوبصورت اور نئی زندگی پر روانہ کردیتی ہیں۔ لیکن شاید میں ابھی تک گذشتہ صدی میں زندہ ہوں۔ گرچہ بھائی کے ہاتھوں بہن کے قتل اور غیرت کے نام پر عورتوں کی بلی دینا ہمارے معاشرے کا پرانا وطیرہ رہا ہے لیکن بہن ہی کا قاتلہ بن جانا ایسا المیہ ہے کہ جسے سوچتے ہوئے بھی روح تڑپ اُٹھتی ہے۔

آخر یہ دِن ہمیں کیوں دیکھنا پڑرہا ہے؟ بظاہر اس واقعے میں اس کا اہم سبب اسمارٹ فون بھی بتایا جارہا ہے۔ اسمارٹ فون کو اچھے مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ نعمت، لیکن اگر اسے بچوں کے ہاتھ تھمادیا جائے، انہیں اچھے اور برے کی تمیز نہ کروائی جائے تو پھر یہ اسی طرح زحمت بن جاتا ہے جیسے علینہ اور علوینہ کے لیے بنا۔ لیکن اس واقعے نے والدین کی اولاد کے لیے تربیت کے نظام پر بھی بہت سے سوال کھڑے کردئیے ہیں۔ مبینہ واقعات کے مطابق علینہ کو بچپن سے اپنی بہن علوینہ سے ذاتی پرخاش تھی۔ دونوں بہنوں کے مابین معمول کی نوک جھونک اکثر تلخ کلامی اور پھر جھگڑے کا روپ دھار لیتی تھی اور شاید بچپن کے اس لڑائی جھگڑے نے دونوں بہنوں کو دوست کی بجائے بدترین دشمن بنادیا۔ دونوں بہنیں ایک دوسرے کی کمزوری کی تلاش میں رہنے لگیں اور پھر اکثر اسی کمزوری کو بنیاد بناکر ایک دوسرے کو گھر میں نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی۔ دونوں بہنوں کے پاس موبائل فون موجود تھے اور دونوں ہی معاشرے کی علتوں کا شکار بھی تھیں۔

ایسے ہی کسی موقع پر علینہ نے چھپ کر بڑی بہن علوینہ کی نازیبا ویڈیو بنا ڈالی۔ علینہ نے اس ویڈیو کے ذریعے اپنی بہن کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کیا اور بعد ازاں یہی ویڈیو عباس اور احسن نامی دوستوں کو دی۔ یہ ویڈیو دیکھ کر احسن اور عباس کی تو چاندی ہوگئی کیونکہ وہ دونوں اکثر ایسے ہی شکاروں کی تلاش میں گامزن رہتے تھے۔ دونوں نے یہ موقع بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا اور پھر اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنے کے عوض علوینہ سے ناجائز تعلقات کا مطالبہ کیا۔ علوینہ کچھ عرصہ تک یہ مطالبہ پورا کرتی رہی اور اس کے نتیجے میں اس کو ہسپتال جاکر ابارشن بھی کرانا پڑا۔ شاید ابارشن کے بعد علوینہ کے پاس احسن اور عباس کو نومور کہنے کی ہمت پیدا ہوئی۔ اس نے پہلے تو احسن اور عباس کو قتل کرنے کا سوچا لیکن جب اس کو اندازہ ہوا کہ ان دونوں کو قتل کرنا مشکل ہوگا تو اس نے اپنی بہن کو ہی ٹھکانے لگانے کا خوفناک منصوبہ بناڈالا۔ اس منصوبے کے لیے اس نے اپنے منگیتر مظہر کو اعتماد میں لیا جس نے اس اقدام میں اس کا پورا ساتھ دیا۔ اس دوران علوینہ نے متعدد بار اپنی بہن کیخلاف والدین کو شکایت لگانے کی کوشش کی لیکن اس کے ماں باپ شاید اس کی باتوں پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے یا ان کے پاس اتنا وقت ہی نہیں تھا کہ وہ گھر میں پنپنے والی ایسی خوفناک دشمنی کا کوئی تدارک کرتے۔

علوینہ کے مطابق وقوعہ کے روز مظہر نے اس کے ساتھ مل کر علینہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوئی جس کے بعد ان دونوں نے اس کو باندھ کر گھر میں پڑی چھری اٹھاکر علینہ کو قتل کردیا۔ قتل کے بعد علوینہ نے خود کو زخم لگائے اور مظہر کو نقدی اور زیورات دے کر فرار کروا دیا تاکہ واقعہ کو ڈکیتی کا رنگ دے دیا جائے تاہم بعد ازاں واقعات میں تضاد کی وجہ سے پولیس کو اس پر شک پیدا ہوا جوکہ درست ثابت ہوا۔

علینہ کے قتل پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ
میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

اگر علوینہ کے بیان کو سو فیصد درست مان لیا جائے تو پھر علینہ کے قتل کے سب سے بڑے ذمہ دار احسن اور عباس ہیں جنہوں نے اپنی حرکتوں کی وجہ سے علوینہ کو بہن کا قاتل بنا دیا۔ اس قتل کے ذمہ دار ان بچوں کے والدین بھی ہیں جنہوں نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت تک نہیں کی کہ ان کے بچوں کے پاس اس طرح کے موبائل فون کیوں ہیں اور وہ ان کا استعمال کس طرح سے کررہے ہیں؟

شہرہ آفاق جرمن فلاسفر ہیگل کے فلسفہ جرم و سزا کے مطابق کسی بھی مجرم کو سزا کا مقصد محض سزا نہیں بلکہ اس کو راہ راست پر لانا اور اس کی رہنمائی کرنا ہے۔ علینہ نے جو کچھ کیا، اس نے ہمارے معاشرے کی ایک خوفناک حقیقت سے پردہ اُٹھادیا ہے۔ علینہ کی قاتل بہن شاید اس واقعہ کی تنہا ذمہ دار نہیں۔ اس واقعہ کے ذمہ دار اس کے والدین اور معاشرے کے دیگر افراد بھی ہیں، اس لیے علوینہ کو سزا دیتے وقت یہ مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ وہ کن حالات میں قاتلہ بنی۔ اس کو سزا ضرور دی جائے لیکن اس سزا کا مقصد اس طرح کے حالات کا شکار علوینہ جیسی دوسری بچیوں کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے تاکہ دیگر لڑکیاں انتہائی قدم اٹھانے کی بجائے قانون کی مدد حاصل کرکے معاشرے کی باعزت شہری ہونے کا حق حاصل کرسکیں۔

Comments

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا

ڈاکٹر شفق حرا دس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ پی ٹی وی نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ویو کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیتی ہیں، اور اپنے منفرد انداز کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */