اسلامی سیکولرازم - محمد عامر خاکوانی

ہمار ے ہاں مختلف حوالوں سے سیکولرازم کی لہریں آتی جاتی رہتی ہیں۔ کبھی”باقاعدہ“ قسم کے سیکولر حلقے پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی بات کرتے ہیں تو کبھی سیکولرازم کی طرف جھکاؤ رکھنے والے اہل علم اس سوچ کی وکالت کرتے پائے جاتے ہیں، کبھی کبھار معتدل دینی فکر رکھنے کے علمبردار بھی اپنا وزن سیکولرازم کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں، تاہم ایسا کرتے ہوئے یہ احتیاط ضرور کی جاتی ہے کہ خود پر سیکولر ہونے کا الزام نہ آنے پائے۔ لگتا ہے یہی مؤخرالذکر حلقہ پاکستان میں اسلامی سیکولرازم یا اسلامی سیکولر کی اصطلاحات روشناس کرانا چاہ رہا ہے۔ اس حوالے سے مثال انڈونیشیا کی دی جاتی ہے، جہاں کے ایک سکالر نور خالص مجید ”اسلامی سیکولرازم “کے مؤید ہیں۔ نور خالص امریکہ میں تعلیم کے دوران معروف پاکستانی نژاد سکالر ڈاکٹر فضل الرحمن کے شاگرد رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ایوب خان دور میں ڈاکٹر فضل الرحمن اپنے بعض نظریات کی بنا پر متنازع ہوگئے تھے، اور انہیں پاکستان چھوڑ کر جانا پڑا۔ آج تو خیر ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے ویسی جارحانہ رائے نہیں پائی جاتی، ان کی بعض کتابیں بھی اردو میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ پچھلے کچھ عرصے کے دوران مذہبی شدت پسندی کے چندافسوسناک واقعات اور بعض سخت گیر دینی فکررکھنے والے گروپوں کے غیر حکیمانہ طرز عمل کی وجہ سے ایک حلقے میں مذہب اور مذہبی سوچ کے حوالے سے بیزاری سامنے آئی ہے۔ نوجوان نسل کا وہ حصہ جن کا مبلغ علم فیس بک کی بعض پوسٹیں پڑھنے تک محدود ہے، ان کے لیے خاص طور پر سیکولرازم میں کشش پیدا ہوئی ہے۔ انھیں اندازہ ہی نہیں کہ سیکولرازم اصل میں ہے کیا اور اس کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟ عام طور سے ایک بات کہہ دی جاتی ہے، ” سیکولرازم کا مطلب ہے، کسی سے اس کے مذہب کی بنا پر نفرت نہ کی جائے، مذہب کی وجہ سے امتیاز کا نشانہ نہ بنایا جائے کیونکہ مذہب ہر ایک کا ذاتی مسئلہ ہے۔“ یہ بات بظاہر سادہ اور دل کو لگنے والی ہے۔ ظاہر ہے کون شریف آدمی کسی کو اس کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنانا چاہے گا یا کسی غیر مسلم کو اس کے مذہب کی وجہ سے ٹارگٹ کرنے کے حق میں ہوگا؟ سیکولرازم کے بارے میں ایک اور جملہ بھی کہہ دیا جاتا ہے ،”کسی کے مذہب سے نفرت نہ کی جائے اور اپنے مذہب پر عمل پیرا رہا جائے۔“ یہ بھی ایک دھوکہ دینے والا جملہ ہے۔ بھائی کسی کے مذہب سے نفرت کا پہلو کہاں سے آ گیا؟ دنیا کا کوئی بھی مذہب، کوئی بھی ضابطہ اخلاق کب کسی سے اس کے مذہب کی وجہ سے نفرت کی تعلیم دیتا ہے یا کسی کو اس کے مذہب یا عقیدے کی وجہ سے ٹارگٹ کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ مذہبی شخص یا ہمارے تناظر میں اسلامسٹ کہہ لیں، رائٹسٹ کہہ لیں، ان میں سے عقل ہوش رکھنے والا کوئی بھی شخص ایسی غلط اور نفرت انگیز بات کیسے کہہ سکتا ہے؟ یہ دراصل سیکولراز م کی طرف لوگوں کو مائل کرنے کے حیلے اور حربے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلم سیکولرز کے ساتھ ایک گفتگو - محمد زاہد صدیق مغل

سیکولرازم دو چیزوں میں بڑا واضح ہے۔ ایک تو بطور نظریہ اس کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مذہب یا الہامی کتاب یا اللہ کی شریعت اس کا بنیادی ماخذ (سورس) نہیں۔ کوئی سیکولر ریاست یا سیکولر نظام اپنے قوانین، اصولوں اور ضابطوں کے لیے کبھی مذہب یا مذہبی تعلیمات کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ اس کے لیے یہ دلیل ہی قابل قبول نہیں۔ کسی سیکولر ریاست میں آپ یہ مطالبہ نہیں کر سکتے کہ چونکہ قرآن پاک میں فلاں بات آئی ہے، اس لیے ہمیں اپنے دستور میں ترمیم یا تبدیلی لانی چاہیے۔ یہ دلیل سیکولرازم کے بنیادی فریم ورک اور سیکولر ریاست میں قابل قبول نہیں۔ سمجھانے کے لیے سادہ مثال دے رہا ہوں۔ سیکولر ریاست میں کوئی شخص اٹھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چونکہ اللہ نے شراب کو حرام قرار دیا ہے، قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ نے بارہا اس حوالے سے واضح ممانعت کی ہے، تو اس لیے ملک میں شراب پر پابندی لگائی جائے۔ نہیں، یہ دلیل دنیا کے کسی بھی سیکولر معاشرے اور ریاست میں قابل قبول نہیں۔ سیکولر ریاست اور سیکولر آپ کو یہ جواب دیں گے کہ بھائی صاحب آپ اسے حرام سمجھتے ہیں تو نہ پیا کریں، ہم اس بنیاد پر اسے ممنوع نہیں کر سکتے کہ یہ اسلام کا حکم ہے۔ سیکولر ریاست اپنے قوانین اور ضابطوں کا دارومدار انسانی عقل و دانش پر رکھے گی۔ مثال کے طور پر شراب پر مشروط قدغن لگائی جائے گی کہ اٹھارہ سال سے کم عمر والے نہ خرید سکیں، اسے پی کر کوئی سڑکوں پر غل غپاڑا نہ کرتا پھرے، زیادہ پی کر گاڑی نہ چلائے کہ حادثہ ہوجائے، وغیرہ وغیرہ۔ جو شخص ایسا نہیں کرتا، اس کی شراب سے سیکولر معاشرے، ریاست کو کوئی مسئلہ نہیں۔ یہی صورتحال باہمی جنسی تعلق اور دیگر معاملات کی ہے۔ جن ممالک میں ہم جنس پرستی اور ہم جنس شادیوں وغیرہ کی اجازت ہے، وہاں یہی دیکھا گیا کہ اپنی مرضی سے دو بالغ افراد یہ کام کر رہے ہیں توریاست کیوں اسے روکے؟

اسلامی ریاست اور اسلامی معاشرے میں اس کے برعکس انسانی عقل ودانش کو الہامی قوانین اور احکام پر برتری نہیں۔ دنیا بھر کی دانش ایک طرف اور قرآن کا حکم اس پر حاوی سمجھا جائے گا۔ پھر اسلامی ریاست یا اسلامی نظام پر ایک ذمہ داری یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کے بلند ارفع اصولوں کے مطابق معاشرے کی اخلاقی تربیت کرے۔ یہ وہ چیز ہے جو (سیکولرازم کی بہن) لبرل ازم کے برعکس ہے۔ لبرل ازم میں کوئی کسی کے معاملے میں دخل نہیں دیتا، یعنی یہ ایک طرح سے غیر جانبدارانہ رویہ ہے۔ اس غیر جانبداری کی ستائش میں لبرلز قصیدے رقم کرتے ہیں۔ اسلام اس کے برعکس یہ کہتا ہے کہ مؤمن کا ایک دوسرے سے خیرخواہی کا تعلق ہے۔ اسلام ایک مؤمن کو دوسرے کا خیال رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ دنیاوی معاملات ہی میں نہیں بلکہ ان کی اخروی نجات کے لیے بھی اسے متفکر اور متردد ہونا چاہیے۔ حکمت کے ساتھ دعوت کا پیغام دینا چاہیے، اس کے لیے دعا کرے وغیرہ وغیرہ۔ اس کی کوشش ہونی چاہیے کہ دوسرا مؤمن جہنم میں جانے سے بچ جائے۔ جبکہ کسی لبرل کو اس قسم کی فضولیات سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ اپنے کام سے کام رکھے گا اورچونکہ اس نے دوسروں کو مکمل ”سپیس“ دی، ان کے حوالے سے نیوٹرل رہا، اس پر وہ نازاں ملے گا۔ ابھی کچھ عرصہ قبل وفاقی حکومت نے اپنے تعلیمی اداروں میں قرآن پاک ترجمہ کے ساتھ پڑھانے کا فیصلہ کیا۔ خیبر پختونخوا حکومت بھی اسی نوعیت کا قدم پہلے ہی اٹھا چکی ہے۔ یہ بڑا قابل تحسین کام ہے، دوسری صوبائی حکومتوں کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ یہ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اور بہت سے کاموں کی طرح اپنے عوام کو قرآن فہمی کی طرف متوجہ کرے۔ کسی سیکولر ریاست میں مگر اس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ دو ڈھائی سال پہلے امریکہ میں سماجی کام کرنے والی ایک معروف تنظیم کے سربراہ سے ملاقات ہوئی۔ دوران ملاقات انہوں نے بتایا کہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں مسلمان زیادہ منظم ہوئے، بہت سے دیگر کاموں کی طرح انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرف بھی توجہ دی ہے۔ بتانے لگے کہ وہاں مختلف ریاستوں میں بلدیاتی حکومتیں نجی تعلیمی اداروں کی مدد کرتی ہیں، لیکن مذہبی تعلیم جس ادارے میں ہو، اس کی مدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے یہ غلطی کی تو ہنگامہ کھڑا ہوجائے گا۔ مذہب کو وہ مکمل طور پر نجی معاملہ قرار دیتے ہیں، جس میں حکومت کسی بھی مذہب کے ماننے والے کی ذرہ برابر مدد نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلم دنیا میں مذہب و سیاست کی علیحدگی کی تمنا - شاہنواز فاروقی

یہ سب تفصیل اس لیے آ گئی تاکہ سیکولرازم اور اسلامی طرز فکر کے مابین جو غیر معمولی فرق ہے، اسے واضح کیا جا سکے۔ سیکولرازم کا ہمارے ہاں ترجمہ لادینیت کیا جاتا ہے۔ سیکولر احباب اس پر بڑا چیں بہ چیں ہوتے ہیں۔ انھیں شاید خدشہ لاحق ہونے لگتا ہے کہ کہیں سیکولر حضرات کو دین سے خارج نہ قرار دے دیا جائے۔ ظاہر ہے ایسی بات نہیں۔ سیکولر بھی اپنی نجی زندگی میں مذہبی ہوسکتا ہے، اگرچہ پاکستان میں ایسا سیکولر ڈھونڈنے کے لیے چراغ لے کر نکلنا پڑے گا۔ ممکن ہے کہیں کسی گوشے سے ایسا سیکولر برآمد ہوجائے۔ ہم نے تو اپنی گناہ گار آنکھوں سے جتنے سیکولر دیکھے، اگرچہ شخصی اعتبار سے ان میں بہت عمدہ لوگ بھی تھے، مگر بیشتر میں مذہب سے بیزاری کا رویہ دیکھنے کو ملا۔ اسلامی سیکولرازم کی اصطلاح تو مذاق ہی ہے۔ اسلام نے تو کیا سیکولر ہونا ہے، سیکولرازم بھی مذہبی نہیں ہوسکتا۔ اپنی بنت میں وہ مذہب سے دور ہے، اس کا راستہ اہل مذہب کی مخالف سمت ہی میں جاتا ہے۔ ہمارے معتدل اور متجدد اہل علم کو نئی اصطلاح بنانی پڑے گی، اسلامی سیکولرازم انڈونیشیا میں تو شاید چل جائے، مگر یہ سکہ پاکستان میں چلنے والا نہیں۔

ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے جاتے ہیں

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • اپنا اپنا سچ ہے سب کا بھیا اپنی اپنی منطق سب کی۔۔ کیا دین داری کیا لادینی کیا زمزم اور کیا ہے وہسکی۔۔ دھندوں کے انداز ہیں سارے سب ہی مال و زر کےہیں پیارے۔۔ شیخ و رند و رہزن و رہبر خرم اپنی ذات کےعاشق ہیں یہ سارے کے سارے

  • آج کل کی ترکی کے بارے میں کیا کہیں گے جناب....جہاں اسلام سے محبت اتنی ہے کہ علامہ اقبال کے بیٹے کو اس لئے اسٹیج سے اتارنے کا کہا جاتا ہے کہ وہ ترکی اور پاکستان میں اسلامی کے بجائے نسلی رشتہ ڈھونڈنے نکلےتھے. مگر طرز زندگی ایسے کہ ہمارے مولوی فتوی لگانے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کرینگے...اصل میں پاکستانی قوم چوں چوں کا مربہ ہیں...اس لیے ایک اسلام اور ایک طرز تمدن پر اتفاق ناممکن ہے.....اصل میں کبائر سین کی روک تام حکومت کی زمین داری ے . ..اور چھوٹی موٹی غلطیاں ماحول میں خود سدھر جائیگی...لیکن اے کاش ...کوئی طیب اردگان تو ادھر پیدا ہو....عمران خان نہیں جو فلاحی کام کا کریڈٹ تو لیتا ہے لیکن اسلامی کرکے چھپ رہتا ہے ....