ثنا خوان تقدیس مغرب کہاں ہیں؟ - آصف محمود

دنیا نے اگلے روز یروشلم کی راکھ پر بیٹھ کرحقوق انسانی کا عالمی دن منایااور امریکہ اور اس کے فکری طفیلیوں نے ہمیں اقوال زریں سنا سنا کر سمجھایا کہ انسانی حقوق کیا ہوتے ہیں۔اس طوفان بدتمیزی کے ہنگام مجھے میڈیلن البرائٹ کی بہت یاد آئی۔یہ غالبا 1996ء کی بات ہے۔محترمہ امریکی کے ٹی وی پروگرام 60منٹ میں مدعو تھیں۔میزبان نے سوال کیا:’’ عراق پر امریکی پابندیوں سے پانچ لاکھ سے زیادہ بچے مر چکے ہیں،کیا اتنی بھاری قیمت دی جانی چاہیے؟‘‘اعلیٰ مغربی تہذیب کی علمبردار عورت کا جواب تھا:’’ جی ہاں یہ ایک مناسب قیمت ہے،دی جانی چاہیے‘‘۔

ویسے کیا آپ کو علم ہے کہ حقوق انسانی کے بقلم خود چیمپیئن امریکہ نے ابھی تک’’کنونشن آن دی رائٹس آف چائلڈ‘‘یعنی بچوں کے حقوق کے کنونشن کی توثیق نہیں کی۔دل چسپ بات یہ کہ اس کنونشن کے سات آرٹیکلز خود امریکہ نے لکھے تھے جن میں سے تین براہِ راست امریکی آئین میں سے لیے گئے اور خود صدر ریگن نے تجویز کیے تھے۔( بحوالہ،نینسی۔ ای۔واکر، کیتھرین بروکس، لارنس ایس رائٹسمین، Children Rights in the United States: In Search of National Policy، (ایس اے جی ای) 199، صفحہ 40 1-)

افغانستان کو اس نے امن کے نام پر برباد کردیا۔ یہی نہیں بلکہ آدمی حیرت اور صدمے سے دوچار ہوجاتا ہے جب وہ یہ خبر سنتا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجی مرنے والے معصوم شہریوں کے اعضاء کاٹ کر’’یادگار‘‘کے طور پر محفوظ کر لیتے ہیں اور فخر سے دوستوں کو دکھاتے ہیں۔ جرمن روزنامے ’’درسپیگل(Der Speigel)اور امریکی میگزین’’رولنگ سٹون‘‘ (Rolling Stone)نے ایسی تصاویر بھی شائع کیں جن میں امریکی فوجی مقتول افغانوں کی لاشوں کے پاس فاتح کے طور پر کھڑے ہیں جن کے سر کاٹے جاچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان سروں کی یہ فوجی ٹرافیاں بناتے ہیں۔ جیسے شکاری کبھی ہرن شکار کرکے ٹرافیاں بناتے تھے۔ (بحواالہ، ایشین ٹریبون، یشین ٹریبون، US War Crimes In Afghanistan: Severed Human Heads Brandished25 اپریل 2011ء )

ایشین ٹریبیون(Asian Tribune)کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں تعینات’’ففتھ سٹرائکربرگیڈ‘‘کے ’’تھرڈ پلاٹون‘‘کی’’براوو کمپنی‘‘کے ایک فوجی کارپورل جرمی مارلوک (Jeremy Marlock)نے ایک پندرہ سالہ نہتے افغان لڑکے گل مدین کو قتل کرنے کے بعد اس کی انگلی یاد گار کے طور پر اپنے پاس محفوظ کرلی( بحوالہ، ایشین ٹریبیون،25 اپریل2011)

جنگی جنون جتنا بھی بڑھ جائے، یہ وہ جرم ہے جس کا کوئی انسان تصور تک نہیں کر سکتا لیکن امریکہ کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے یہ امریکی فوجی پہلی بار اس گھناونے جرم کے مرتکب نہیں ہو رہے بلکہ وہ اس سے قبل جاپانیوں کو بھی اسی ’’حسنِ سلوک ‘‘کا نشانہ بنا چکے ہیں۔وحشت و بربریت کے ان مظاہر کا تعلق اگر محض امریکی فوج کے نچلی سطح کے اہلکار وں تک محدود ہوتا تب بھی ایک ناقابل برداشت اور شرمناک اقدام تھالیکن ہمیں یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ امریکی کا نگریس کے اراکین تک مرنے والوں کے اعضاء ایک دوسرے کو تحفے میں پیش کرتیرہے۔ امریکہ کی’’سدرن الینوائے یونیورسٹی(Southern Illinois)‘‘کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر جیمز۔ جے۔ وینگارٹنر کا کہنا ہے کہ ایک رکن کانگریس نے امریکی صدر فرینکلن روز ویلٹ کو ایک Letter opener تحفے میں دیا جو ایک مقتول جاپانی فوجی کے بازو کی ہڈی سے بنایا گیا تھا(بحوالہ،جیمز، جے۔ویگارٹنر، Trophies of War: US Troops and the Mutilation of Japanese war Dead ’’یونیورسٹی کیلیفورنیا پریس جرنل 1992 ‘‘صفحہ 65)

ایک اور رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی جاپانی فوجیوں کے سر کاٹ کر پکاتے اور کھاتے بھی رہے۔ اور یہ رپورٹ بھی کسی دوسرے حریف ملک کی نہیں بلکہ امریکہ کی اپنی یونیورسٹی آف السٹر (University of ULSTER) کے پرفیسر سائمن ہیریسن (Simon Harrison) کی ہے۔ (بحوالہ ہیریسن سائمن،Skull Trophies of the Pacific War جرنل آف دی رائل انتھروپولوجیکل انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف السٹر۔ 2008، صفحہ 827)

یہ برائی اتنی عام ہو گئی تھی کہ امریکی شاعر ونفیلڈ ٹاونلے سکاٹ جس اخبار میں ملازمت کرتا تھا اس اخبار کے دفتر میں بھی ایک جاپانی فوجی کے سر کی بنی ہوئی ٹرافی آویزاں کردی گئی۔ سکاٹ نے اس پر ایک نظم بھی لکھی:

The US Soldier with the Japanese Skull( دی یو ایس سولجر ود دی جاپانیز سکل)۔( بحوالہ،ہاری سن سمن،Skull Trophies of the Pacific War جرنل آف دی رائل انتھروپولوجیکل انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف السٹر۔ 2008، صفحہ 822 )

ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینئر ریسرچ فیلو معروف برطانوی مورخ نیال فرگوسن (Neil Ferguson)جن کا ٹائم میگزین نے 2004میں دنیا کے 100 موثرترین آدمیوں میں شمار کیا تھا اور جو امریکی صدارتی امیدوار جان میک کین کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، اس بربریت کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’دشمن کی کھو پڑیوں سے ابال کر کھال اتار کر یادگار کے طور پر رکھنے کا عمل ایک عام چیز تھی۔ کان، ہڈیاں اور دانت تک اکٹھے کیے گئے)بحوالہ،نیال فرگوسن، The War of the World: History's Age of Hatred پینگوئن بکس، لندن صفحہ 546۔ ISBN 978-0-14-101382-4)

یہ بربریت اس قدر عام تھی کہ سائمن ہیریسن کے مطابق 1984 میں جب جاپانی فوجیوں کی باقیات واپس کی گئیں تو60فیصد لاشوں کے سرتن سے جد ا ہوچکے تھے( بحوالہ،ہیریسن سائمن، Skull Trophies of the Pacific War جرنل آف دی رائل انتھروپولوجیکل انسٹی ٹیوٹ، یونیورسٹی آف السٹر۔ 2008، صفحہ 828 )

امریکہ کے معروف پروفیسر جیمز۔جے۔وینگارٹنر کا کہنا ہے کہ چونکہ امریکی معاشرہ جاپانیوں کو جانور سمجھتا تھا اس لیے ان کی ہڈیوں اور کھوپڑیوں کے ساتھ اگر وہی سلوک کیا گیا جو جانوروں کی ہڈیوں اور کھوپڑیوں کے ساتھ ہوتا ہے تو اس میں حیرت کیسی؟

(بحوالہ، جیمز، جے۔ ویگارٹنر، Trophies of War: US Troops and the Mutilation of Japanese war Dead " یونیورسٹی کیلیفورنیا پریس جرنل " 1992 صفحہ 54)

ہمیں یہ جان کر دکھ بھی ہوتا ہے اور حیرت بھی کہ امریکی فوجی تفنّن طبع کے طور پر قتل کرتے ہیں اور اس پر کوئی ندامت محسوس نہیں کرتے بلکہ فخریہ اور اعلانیہ طور پر اس کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ عہد قدیم کی کوئی وحشی قوم نہیں بلکہ دور جدید کی وہ قوم ہے جسے اپنی تہذیب پر فخر ہے اور جو خود کو حقوق انسانی کا علمبردار تصور کرتی ہے۔

امریکی صحافی اینڈریوٹائلگمین (Andrew Tilghman) کا کہنا ہے کہ بغداد کے نوا ح میں ایک فوجی کیمپ میں ایک فوجی نوجوان سے جب انہوں نے سوال کیا کہ یہاں آکر کیا محسوس کر رہے ہو تو اس کا جواب تھا کہ اسے مزہ آرہا ہے، یہ ایک ایڈونچر ہے۔ اور یہ کہ وہ عراق آیا ہی اس لیے ہے کہ اسے بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگوں کو قتل کر سکے (بحوالہ، ینڈ ریوٹا ئلگمین، I Came Over Here Because I Wanted To Kill People دی واشنگٹن پوسٹ، 30 جولائی 2006ء)

گزشتہ سطور میں جس امریکی فوجی جیریمی مار لوک کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے ایک بے گناہ اور نہتے 15 سالہ افغان نوجوان لڑکے گل مدین کو قتل کرکے یادگار کے طور پر اس کی انگلی کاٹ کر اپنے پاس محفوظ کرلی اسی کے بارے میں دی گارجین (The Guardian)کی رپورٹ میں ایک اور خوفناک انکشاف کیا گیا ہے کہ اس نے یہ قتل تفریح کے طور پر کیا تھا تاکہ مزہ لیا جاسکے۔ رپورٹ کے مطابق:

’’بعد ازاں اسی روز مالوک نے ہولمز کو بتایا کہ یہ قتل تفریح کے طور پر کیا گیا۔‘‘ ( بحوالہ،کرس مک گریل، US Soldiers Killed Afghan Civilians for Sport : Collected Fingers as Trophies دی گارجین، 9دسمبر 2010ء)

سری نگر سے قندھار تک اور فلوجہ سے یروشلم تک صرف مسلمان کا لہو بہہ رہا ہے اور کٹہرے میں بھی وہی کھڑا ہے۔وہی گھائل ہے لیکن اسی کو انتہا پسند کہا جاتا ہے۔اسی کی پور پور لہو ہے لیکن وہی دہشت گرد ہے۔اسی کی زمین پر قبضہ کر کے اس کے گھروں کو میدان جنگ بنا دیا گیا لیکن اسی کو امن کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس کے بچے اس عالم میں قتل کیے جا رہے ہیں کہ ماں کے دودھ کی خوشبو ابھی ان کے ہونٹوں سے جدا نہیں ہوئی ہوتی لیکن وہی وحشی کہلاتا ہے۔جن کے نتھنوں سے لہو ٹپکتا ہے اور جن کے فسانوں سے بوئے خون آتی ہے وہ امن کے علمبردارہیں، وہ مہذب ہیں، وہ شائستہ ہیں۔

اب سوال صرف اتنا سا ہے : ثنا خوان تقدیس مغرب کہاں ہیں؟ کہیں مل جائیں تو بس اتنا کہنا ہے: کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.