صدر صاحب کے ہوٹل کا ناشتہ - قاضی عبدالرحمٰن

کے معمّوں میں میرے لیے صرف روزن سیاہ یعنی بلیک ہول اور برمودا تکون ہی عقدہ لاینحل نہیں رہے، بلکہ ان میں صدر صاحب کے ہوٹل کا ناشتہ بھی شامل ہوچکا ہے۔

پتہ ہی نہیں چلتا اس ناشتہ کی قیمت 'مابعد ریاضی' کے کس ضابطہ کے تحت آتی ہے؟ ناشتہ کی اصل قیمت 25 روپے ہے۔ اس میں جونہی پانچ روپے والے ابلے انڈے کا اضافہ ہوا تو قیمت ہوگئی 35 روپے۔ ایک روٹی منگوائیے جس کا نرخ 7 روپے ہیں اور ناشتہ کل قیمت ہوئی 45 روپے۔ سادے پانی کی بوتل لیجیے (جو دیگر ہوٹلوں میں مفت ملتی ہے)،اب آپ کو ادا کرنے ہوں گے 50 روپے۔ غرض یہ قیمت میں اضافہ کا وہ 'زنجیری نیوکلیائی عمل' ہے جس کا انت نہیں۔

بات یہ ہے کہ صدر صاحب کوئی غریب شخص نہیں بلکہ ان کے پاس، جس طرح وہ جسم سے پونے دو فٹ آگے توند کے بلاشرکت غیرے مالک ہیں، اسی طرح ان کے تصرف میں ضروریات سے دو ہاتھ زیادہ دولت موجود ہے ۔ پھر بھی وہ ہر وقت پیسوں کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں۔

جب بھی راقم ان کے ہوٹل میں پہنچتا ہے تو پورے خلوص سے مقررہ ناشتے میں انڈا اور مزید روٹی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ مگر 'اے بسا آرزو کہ خاک شدہ' خلوص کے اس غبارے کی ہوا راقم کا یہ چبھتا جملہ نکال دیتا ہے

"صدر صاحب! یہ میں آپ کی طرف سے مفت سمجھوں ؟"

اور موصوف اپنے ارادوں سے باز آجاتے ہیں ویسے بھی امیر مینائی میرے متعلق ہی کہہ گئے ہیں

گرہ سے کچھ نہیں جاتا پی بھی لے زاہد
ملے جو مفت تو قاضي کو بھی حرام نہیں

آج صبح کالج کی تعطیل تھی ۔ اس لیے ناشتہ کمرہ پر بنانے کی بجائے صدر صاحب کے ہوٹل میں کرنے کو ترجیح دی۔ وہی ہوا جو معمول تھا۔ بس ایک چیز معمول سے ہٹی ہوئی تھی۔ وہ تھا صدر صاحب کی طرف سے مفت روٹی کا اضافہ۔ حالانکہ چھٹی حس نے خبردار کیا مگر ہم نے اسے تسلی دی اور لگے چپاتی سے انصاف کرنے۔ ساتھ ساتھ صدر صاحب محبت سے لبریز لہجے میں بات بھی کررہے تھے۔ مگر ہم اپنی شامت سے بےخبر ناشتہ میں مگن۔ ناشتہ ہوتے ہی چائے کی پیشکش (حالانکہ صاحب کو بخوبی علم ہے فدوی چائے نہیں پیتا۔ ) اس پیشکش کے بعد تو چھٹی حس خطرے کا سائرن بجانے لگی اور معمول سے ہٹی بات کافی غیرمعمولی لگنے لگی۔ راقم گویا ہوا

"صدر صاحب! سچ سچ بتائیے،اس سخاوت کبریٰ کے پیچھے کونسی محبت کار فرما ہے ؟ "

ایک طویل جذباتی تقریر (جس کا لب لباب میرے ہی مفاد کے گرد گردش کررہا تھا)کے بعد گویا ہوئے،"ایک مہینہ کا کرایہ پیشگی چاہیے۔ "

ساتھ ہی ڈھکے چھپے الفاظ میں اشارہ بھی کرگئے کہ انہیں پتہ ہے آج کل فدوی کے جیب میں رقم موجود ہے۔ ادھر یہ ہیچمداں 'نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن' کی کیفیت کا اسیر، مرتا کیا نہ کرتا کرایہ ادا کرتا ہے اور باہر کی راہ لیتا ہے ۔ 25 کے ناشتے کی قیمت سینکڑوں میں ادا کرکے اپنے آپ کو نرا گاؤدی محسوس کرتا کمرہ پر پہنچتا ہے ۔ تفتیش پر معلوم ہوتا ہے مخبر کوئی اور نہیں بلکہ گھر کا بھیدی پڑوسی ہے۔ اس پرلطف حادثہ پر ایک سنجیدہ سا شعر یاد آگیا۔

گر کسی کو سمجھنا اپنا تم

دھوکا کھانے کا حوصلہ رکھنا

(فرضی، اصل سے مطابقت محض اتفاقی ہوگی)

Comments

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن حیدرآباد دکن کے انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ کتب بینی اور مضمون نگاری مشغلہ ہے۔ دلیل کے اولین لکھاریوں میں سے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.