عقیدہ نزول عیسی و امام مہدی - داؤد ظفر ندیم

جب ہمارے علماء ہمیں ختم نبوت کا درس دے رہے ہوتے ہیں تو عجیب اتفاق ہے کہ اسی دوران وہ عقیدہ امام مہدی اور نزول عیسی کے بارے میں مباحثہ بھی شروع کر دیتے ہیں.
سنی اور شیعہ علماء ایک بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد نہ صرف یہ کہ کوئی نبی نہیں آئے گا بلکہ کوئی بزوری نبی بھی نہیں آئے گا، یعنی غیر شریعتی نبی کی بھی کوئی گنجائش نہیں.

ان سنی علماء کا اس معاملے میں اتفاق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی ایسا امام بھی نہیں آسکتا جس کی شریعت کی تشریح قابل حجت ہو، جیسا کہ شیعہ مسلک کا امامت کا عقیدہ ہے، ان کے مطابق امام مہدی اس سلسلہ امامت میں آخری امام ہیں.

تو پھر سنی علما کے نزدیک امام مہدی اور نزول عیسی کی احادیث، جن کو بعض علماء نے خبر احاد کی احادیث قرار دیا ہے اور قرآن مجید میں نزول عیسی کے ذکر، جن کو بعض علما نے چیلنج بھی کیا ہے، کی تشریح کیا ہو سکتی ہے؟

تقریبا جس سنی عالم سے بھی تشریح چاہی ہے، انھوں نے یہی فرمایا ہے کہ امام مہدی اور حضرت عیسی کا شمار امتیوں میں ہوگا، یہ غیر شریعتی نبی بھی نہیں ہوں گے، اور شیعہ اماموں جیسے الوہی نسبت رکھنے والے امام بھی نہیں ہوں گے۔ مگر اس سے زیادہ کی وضاحت نہیں دے سکے.

امت مسلمہ میں تاریخی طور پر مسلم اکابرین کا جائزہ لیا جائے تو تین قسم کے اکابرین ایسے ہیں جن میں امام مہدی اور حضرت عیسی کا شمار ہو سکتا ہے.

ایک تو امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی وغیرہ جیسے فقہی ائمہ ہیں. حضرت عیسی یا امام مہدی ایک ایسے فقہی امام کے طور پر آسکتے ہیں جو عصر حاضر میں اسلامی شریعت کی نئی تشریح کریں اور ایک نئی فقہ تشکیل دیں جیسا کہ ان آئمہ نے کیا تھا.

دوسرا ماڈل روحانی شخصیت کے طور پر ہے، اس سلسلے میں سنی مسلک میں جناب عبدالقادر جیلانی سے بڑی کوئی شخصیت نہیں. کیا امام مہدی اور حضرت عیسی روحانی شخصیتیں ہوں گی جیسا کہ صوفیا کی ہستییاں ہوئی ہے جو کشف و کرامات کی مالک ہوں گی.

تیسرا ماڈل ان مسلم فاتحین کا ہے جنہوں نے اپنے زمانے میں غیر مسلموں کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی، جبکہ اس وقت مسلمانوں پر مشکل وقت تھا. اس سلسلے میں سب سے بڑی شخصیت سلطان صلاح الدین ایوبی کی ہے، اس کے علاوہ مصر کے بیبرس اور شمالی افریقہ کے یوسف بن تاشفین بہت اہم عسکری رہنما ہیں، جنہوں نے بہت مشکل وقت میں غیر مسلموں کو شکست دی. کیا امام مہدی اور حضرت عیسی بھی اسی نوعیت کے عسکری راہنما ہوں گے؟

اس سارے مضمون کا مقصد یہ ہے کہ حضرت عیسی اور امام مہدی کا آنا برحق ہی سہی، مگر اس سے بےعملی اور سب کچھ چھوڑ کر انتظار کرنے کی کیفیت کا کوئی جواز نہیں۔ یہ شخصیتیں مسلمانوں کی مختلف شعبوں میں رہنمائی کریں گی، جیسا کہ پہلے مسلم اکابرین نے رہنمائی کی تھی، مگر ان کو وحی یا کلام الہی سے اس طرح تقویت نہیں حاصل ہوگی، جیسا کہ رسولوں اور انبیا کو حاصل ہوتی ہے، بلکہ یہ زیادہ سے زیادہ کشف اور کرامات کی مالک ہوں گی یا صلاح الدین ایوبی کی طرح غیر مسلموں کو شکست دیں گی.

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں