قرآن کریم میں 'مسیحی' کوئی ایک گروہ نہیں - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پہلے تو ایک بات نوٹ کریں کہ 'مسیحی' کا لفظ قرآن کریم میں کہیں وارد نہیں ہوا، نہ ہی سیدنا مسیح علیہ السلام کے 'حواری' خود کو مسیحی کہتے تھے۔ عہدنامۂ جدید کے بموجب یہ لفظ سیدنا مسیح علیہ السلام کے پیروکاروں کےلیے پہلی دفعہ ان کے مخالفین کی جانب سے طنز اور تمسخر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ بعد میں پولس کے پیروکاروں نے اپنے لیے یہی لفظ استعمال کرنا شروع کیا۔ بہرحال قرآن کریم کی اصطلاح 'نصاری' کی ہے اور سردست مجھے 'نصاری' کی وجہ تسمیہ یا لغوی تحقیق کی بحث میں بھی نہیں جانا۔ میرا مقصود اس وقت یہ بتانا ہے کہ قرآن کریم میں 'نصاری' کا لفظ کسی ایک مخصوص گروہ کےلیے استعمال نہیں ہوا بلکہ مختلف آیات کا اطلاق 'مسیحیوں' کے مختلف گروہوں کےلیے ہوا ہے اور آیات کی صحیح تفہیم کےلیے ان مختلف گروہوں کی پہچان اشد ضروری ہے۔

سورۃ المآئدۃ کی مثال لے لیجیے۔
1۔ دو جگہ اس سورت میں ایک گروہ کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے: 'الذین قالوا انا نصاری' (آیت 14 اور آیت 82) ۔ ان میں پہلی آیت میں کہا گیا ہے کہ اس گروہ سے اللہ نے میثاق لیا تھا جس کا کچھ حصہ وہ فراموش کرچکے۔ دوسری آیت میں اس گروہ کے متعلق تصریح کی گئی ہے کہ یہ مومنوں سے محبت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا 'مسیحیوں' میں ایسا کون سا گروہ تھا جو خود کو 'نصاری' کہتا تھا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کوئی گروہ 'مسیحیوں' میں اب پایا جاتا ہے؟

2۔ پھر ایک گروہ کا ذکر آیت 16 میں ہے جس کا عقیدہ تھا کہ مسیح ہی اللہ ہیں اور اسی وجہ سے قرآن نے انھیں کافر کہا ہے (لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم)۔ کیا یہ وہی گروہ تھا جس کا ذکر آیت 14 اور آیت 82 میں ہے یا یہ ان سے الگ گروہ تھا؟ اس گروہ کا ذکر آیت 72 میں بھی آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان کی عقل سے دوری کا علاج کیا ہے - محی الدین غازی

3۔ پھر آیت 18 میں 'الیھود' اور 'النصاری' کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ خود کو اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دعوی قریب ترین آیت 16 میں مذکور نصاری کے ایک مخصوص گروہ کا تھا یا آیت 14 میں مذکور نصاری بھی یہی کہتے تھے؟ یا یہ کوئی الگ مستقل گروہ تھا؟

4۔ پھر آیت 46 میں 'اھل الانجیل' کا ذکر کرکے انھیں کہا گیا ہے کہ وہ انجیل میں اللہ کے نازل کردہ حکم پر فیصلہ کرلیں۔ یہاں مراد کیا سارے 'مسیحی' ہیں یا یہاں بھی کوئی مخصوص گروہ مراد ہے؟

5۔ پھر آیت 51 میں مومنوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ 'الیھود' اور 'انصاری' کو دوست نہ بنائیں اور یہ کہ جنھوں نے انھیں دوست بنایا وہ انھی میں شمار ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ 'الیھود' اور 'انصاری' آپس میں ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ 'مسیحیوں' میں کوئی خاص گروہ تھا یا اس وقت کے سارے 'مسیحی' یہاں مراد تھے، یہاں تک کہ وہ بھی جن کے متعلق آگے آیت 82 میں ذکر آتا ہے کہ وہ مومنوں سے محبت کرتے ہیں (اور جن کا ذکر پیچھے آیت 14 میں بھی گزر چکا ہے)؟

6۔ پھر آیت 68 میں 'اہل کتاب' کو کہا گیا ہے کہ وہ تورات اور انجیل کو قائم کریں۔ کیا یہاں تمام یہود کی طرح تمام 'مسیحیوں' کو یہ بات کہی گئی ہے؟ کیا تمام 'مسیحی' اس خطاب، یعنی 'اہل کتاب' کے اہل تھے؟

7۔ پھر آیت 69 میں دیگر گروہوں کے ساتھ 'النصاری' کے بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ اگر وہ ایمان اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے تو ہی انھیں نجات ملے گی، محض کسی گروہ کے ساتھ وابستگی کسی کام کی نہیں ہے۔ سوال پھر یہ ہے کہ کیا یہاں خطاب عام ہے یا 'مسیحیوں' کا کوئی خاص گروہ مراد ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   ریسرچ کا میکینزم، الحاد کا فکری سُقم اور قرآن - مجیب الحق حقی

8۔ اس کے بعد آیت 72 میں ایک دفعہ پھر اس گروہ کا ذکر آیا ہے جس کا ذکر آیت 16 میں گزرا ہے کہ وہ مسیح علیہ السلام کو ہی اللہ کہتے تھے۔

9۔ اس کے معاً بعد آیت 73 میں ایک اور گروہ کو کافر کہا گیا ہے جس کا عقیدہ تھا کہ 'اللہ تین کا تیسرا' (لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثۃ) ہے۔ کیا یہ وہی گروہ ہے جس کا ذکر پچھلی آیت میں ہے یا ایک الگ مستقل گروہ ہے؟ یا تمام 'النصاری' کا یہی عقیدہ تھا یا ہے؟

10۔ آیات 82 تا 85 میں اس گروہ کا ذکر ہے جس کا کہنا تھا کہ 'ہم نصاری ہیں' (قالوا انا نصاری) اور اس گروہ کو مومنوں سے قریب ترین قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ قرآن کی آیات سن کر اس پر ایمان لے آئے۔ انھی الفاظ میں 'انا نصاری' ایک گروہ کا ذکر، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، آیت 14 میں گزرا ہے۔

11۔ پھر آیت 116 میں روزِ قیامت سیدنا مسیح علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے سوال کا ذکر ہے کہ کیا آپ نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لو؟ (ا انت قلت للناس اتخذونی و امی الٰھین من دون اللہ)۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہاں 'الناس' سے مراد 'النصاری' کے تمام گروہ ہیں یا یہاں بھی کوئی خاص گروہ مراد ہے جس نے سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ کو معبود بنالیا تھا؟

سورۃ آل عمران کی آیات کے متعلق سوالات پھر کسی موقع پر اٹھائیں گے۔ آج کےلیے اتنا ہی کافی ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.