کیا ایبنارمل بچے کا حمل گرانا جائز ہے؟ حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ کیا ایبنارمل بچے کا حمل گرانا جائز ہے؟

ایبنارمل بچہ دو طرح کا ہو سکتا ہے؛ ایک وہ کہ جس کی عمر چار ماہ سے کم ہو۔ اس کو دراصل ہم "حمل گرانا" کہیں گے کیونکہ یہ بچہ ابھی مکمل جان نہیں ہے۔ دوسرا وہ بچہ کہ جس کی عمر چار ماہ سے زائد ہو۔ اس کے لیے "قتل کرنا" کی اصطلاح استعمال ہوگی کہ وہ ایک مکمل جان ہے کہ جس میں روح ڈالی جا چکی ہے۔

اگر ماں کے پیٹ میں موجود جنین (embryo) کی عمر چار ماہ سے کم ہے اور دو مستند ترین ڈاکٹر بچے کے والدین کو یہ رائے دیتے ہیں کہ بچے کی ایبنارمیلٹی یقینی ہے، لہٰذا آپ اس کا حمل گروا دیں تو رابطہ عالم اسلامی کے تحت مجلس فقہی اسلامی کے بارھویں اجلاس منعقدہ مکہ المکرمہ بتاریخ 2 دسمبر 1990ء میں عالم اسلام کے فقہاء کی اس کمیٹی نے یہ فیصلہ جاری کیا کہ ایسی صورت میں حمل گروا دینا جائز ہے، اگر تو والدین میں سے دونوں راضی ہوں تو پھر۔ یعنی اگر ان میں سے ایک بھی حمل کو باقی رکھنا چاہے گا تو اس کا گرانا جائز نہ ہوگا۔

فقہاء کی اسی کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی جاری کیا کہ اگر ماں کے پیٹ میں موجود جنین (embryo) کی عمر چار ماہ سے زائد ہو تو اس کا قتل کرنا جائز نہیں ہے کہ یہ ایک مکمل جان ہے کہ جس میں روح ڈالی جا چکی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اس پر صبر کریں کہ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے آزمائش ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ عزوجل نے ہمیں بیماری اور آزمائش کی صورت میں علاج کا حکم دیا ہے نہ کہ قتل کرنے کا۔ پس ہم ایبنارمل کا علاج کریں گے، اسے قتل نہیں کریں گے۔

اب کچھ لوگ یہ لاجک پیش کرتے ہیں کہ اس کی بیماری اگر ایسی ہو کہ اس کا علاج ہی ممکن نہ ہو تو کیا ساری زندگی کے لیے والدین ایک معذور بچے کا بوجھ برداشت کریں گے؟ اس لاجک کا جواب یہ ہے کہ اگر اس بچے کی معذوری یا ایبنارمیلٹی اس کی پیدائش کے بعد ظاہر ہو تو والدین کیا کریں گے؟ یعنی یہ کوئی لاجک نہیں ہے کہ ماں کے پیٹ میں ہے، چاہے نو ماہ کا ہے لہٰذا قتل کر دو، جائز ہے اور ماں کے پیٹ سے باہر آ جائے تو قتل کرنا ناجائز ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حاملہ خواتین کے لیے رہنما ہدایات - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

وہ بچہ ایک مکمل جان ہے، ماں کے پیٹ میں ہونا یا اس سے باہر ہونا اس کے قتل کرنے یا نہ کرنے کی کوئی لاجک نہیں بن سکتی۔ لاجک یہی ہو سکتی ہے کہ چار ماہ سے پہلے اس کا گرانا جائز ہے کہ وہ ایک مکمل جان نہیں ہے۔ یہ لاجک سمجھ میں بھی آتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ ایک بچہ اپنی عمر کے آٹھ دس سال گزارنے کے بعد معذور ہو جاتا ہے تو والدین کیا کریں؟ اسے زہر کا ٹیکہ لگا کر سلا دیں کیا؟ کہ زندگی بھر کی آزمائش سے جان چھوٹ جائے۔

دنیا میں آنے کے بعد ایبنارمیلٹی کے اتنے ہی کیسز ہیں جتنے کہ ماں کے پیٹ میں، لہٰذا دنیا میں موجود ایبنارمل بچوں کو بھی قتل کر دو پھر۔ اور ہٹلر نے یہ کام کیا اور بڑی لاجک دے کر کیا ہے۔ پس ایسے نہیں کہ انسانی جان کے معاملے میں اتنی چھوٹی چھوٹی "لاجکیں" پیش کر کے ہم اس کے قتل کے فیصلے جاری کرتے رہیں۔ ماں کے پیٹ میں چار ماہ کے بعد اگر بچے کا قتل جائز ہے تو پیدائش کے بعد بھی جائز ہے کہ قتل کی وجہ تو ایبنارمیلٹی ہے اور وہ تو پیدائش کے بعد بھی موجود ہے لہٰذا قتل کر دو۔

پس خلاصہ یہی ہے کہ چار ماہ کے بعد بچے کا قتل جائز نہیں ہے، صرف ایک صورت میں جائز ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ آپ کو بچے یا ماں کی جان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو آپ ماں کا انتخاب کریں گے کہ وہ اصل ہے۔ جہاں تک مادی پرسپیکٹو میں اس مسئلے کو دیکھنے کی بات ہے تو یہ انسان کا قتل نہیں بلکہ کچھ سیلز کو ضائع کر دینے کا ایک معمولی سا فعل ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.