امریکہ کیا چاہتا ہے؟ - زبیر احمد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کے بارے میں حالیہ بیان نے مسلم دنیا کے مستقبل کے حوالے سے بے شمار خدشات کو جنم دیا ہے اور مسلم دنیا کے داخلی و خارجی تعلقات اور اسرائیل کے ساتھ "فریضہ ہمسائیگی" پر ان گنت سوالات سے سابقہ پیش آیا ہے۔

عرب-اسرائیل کشمکش اور امریکہ کی اسرائیل کے بارے میں واضح جانبداری کا نتیجہ یہی ہونا تھا کہ اس خطےکو جنگ کے شعلوں کے حوالے کر دیا جائے، تمام مسلم امت کی سیکورٹی کو داؤ پر لگا دیا جائے اور اس طرح نئے ورلڈ آرڈر کے لیے راه ہموار کی جائے۔

طرفہ مصیبت یہ ہے کہ ایک طرف جدید عالمی استعمار اور صہیونی ریاست کا رومانس ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے تو دوسری طرف ملت اسلامیہ کے حکمران ان تازہ لگنے والے زخموں کے گھاؤ کا اندازہ نہیں کر پا رہے۔ نشہ اقتدار میں مخمور حکمران اپنے عوام کو "داخلی مسائل" پر ہی توجہ دینے کی پالیسی کے خواہاں ہیں۔ ان کے خیال میں "سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے" کی روایت نے ہمارے مسائل میں اضافہ ہی کیا ہے، اب اس کو گلے سے اتارنے کا وقت آگیا ہے۔ یہ حکمران اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ہمسائے کے گھر میں لگی آگ ہمارے گھر کا بھی رخ کر سکتی ہے۔ تمثیل کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ امت مسلمہ کے تمام حکمران "سب سے پہلے پاکستان" کی رٹ پر قائم ہیں۔ ان کے خیال میں یہی وقت کی پکار اور تقاضا ہے۔ اس عاقبت نااندیش طبقے کو کوئی سمجھائے کہ نیا سامراج امت کی بنیادوں تک کو ہلا رہا ہے، اسے اصل خطرہ اس امت سے ہے جو "اشک سحر گاہی "سے ابھی وضو کرنے کی سنت پر عمل پیرا ہے ۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ کمزور پوزیشن پاکستانی حکومت کی ہے۔ ٹرمپ نے برسراقتدار آتے ہی پاکستان کی مشکلات میں اضافہ کا عندیہ دیا تھا اور کچھ بعید نہیں کہ مشرق وسطیٰ کی اس نئی پالیسی کے بعد جلد ہی کشمیر پالیسی پر بھی عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کوشش ہو ۔

امریکہ کی ہندوستان کے ساتھ قربت کی خبریں اور عملاً اس کا اظہار پاکستان کے لیے نیک شگون نہیں۔ ٹرمپ نے بڑی "ایمان داری" سے اسرائیل اور بھارت جیسے قابض اور مسلم عوام کی خودارادیت کو کچلنے والے ممالک کا ساتھ دے کر دنیا کوواضح پیغام دیا کہ امریکہ اب "منصفی" کے عالمی منصب سے دست کش ہو رہا ہے اور اعلانیہ اپنے اور اپنے "بغل بچوں " کے مفادات کے لیے میدان میں اتر رہا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار ہے۔

پاکستانی گورنمنٹ کو فلسطین کے مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، اس کو اپنے سر سےاب یہ خوف اتار دینا چاہیے کہ انکل سام کی کیا مرضی ہے؟ دنیا مختلف بلاکوں میں تقسیم ہونے والی ہے ایک مشکل وقت کی شروعات ہے، اب متذبذب پالیسیوں سے نئے امکانات کی تلاش کارِ لاحاصل ہے۔

مشہور امریکی مفکر نوم چومسکی کے بقول امریکہ عرصۂ دراز تک ایک ناقابل موازنہ طاقت رہے گا اور چین سمیت کسی بھی ابھرتی ہوئی طاقت میں اسے ایک لمبے عرصے تک چیلنج کرنے کرنے کی سکت نہیں ہوگی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ کے مفادات سکڑ رہے ہیں اور موجودہ دنیا اس کے لیے بہتر اور سازگار نہیں اور تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔

دنیا کی باشعور قومیں ان نئے حالات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا ہنر جانتی ہیں اور وہ امریکہ کے ساتھ برابری کے اصول پر بات کرنا چاہتی ہیں۔

فلسطین کی موجودہ صورت حال ایک لمحہ فکریہ ہے اس نازک نکتے پر اب بھی اگر مسلم ممالک نے کوئی اسٹینڈ نہیں لیا تو خاکم بدهن یہ سب کے لیے تباہی و بربادی کی نوید ہوگی ۔

او آئی سی کی فعالیت اس وقت نہایت ضروری ہے یہ وقت مسلم اتحاد کے حرکت میں آنے کا وقت ہے فلسطین اور کشمیر سمیت تمام دیرینہ مسائل کے حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنے کا وقت ہے، اب غفلت اور چشم پوشی کا نتیجہ سوائے بربادی کے اور کچھ نہیں ہوگا۔