ماڈل ٹاؤن رپورٹ، تصادم کی سیاست کا نتیجہ - یاسر محمود آرائیں

جس طرح مگر مچھوں سے دشمنی پال کر دریا میں سکون سے زندگی نہیں گزاری جاسکتی ، اسی طرح مملکت خداداد میں کچھ قوتیں ایسی ہیں جن سے بگاڑ کر سکون وعافیت سے اقتدار کے دن گزارنا ہرگز ممکن نہیں ہے۔ اس دیس کے بچے، بچے کو بخوبی علم ہے یہاں طاقت کا اصل سرچشمہ کہاں ہے؟ مگر، اقتدار کے ایوانوں میں تین دہائیاں گزارنے والے جانے کیوں جانتے بوجھتے ہوئے مقتدروں سے مائل بہ تصادم ہیں؟ اسے شوق خودکشی کہیں یا کچھ اور، برضا ورغبت اس راستے پر چل رہے ہیں جس کا انجام نہایت خطرناک ہوگا۔

ہر بات کو ہلکا لینے اور ہنسی کھیل میں اڑانے کی عادت نے پہلے ہی کیا کم نقصان پہنچایا ہے کہ اب بھی روش بدلنے پر آمادہ نہیں ہورہے؟ عقل رکھنے والوں نے پانامہ کا افسانہ سنتے ہی خبردار کیا تھا کہ اسے معمولی نہ سمجھنا، یہ ایسی ٹیڑھی کھیر ثابت ہوگی کہ نہ اگلنے کے قابل رہو گے اور نہ نگلتے بنے گی۔ مگر پھر وہی ہوا عقل جس کا اندیشہ سنا رہی تھی سیدھے سادھے معاملے کو گورکھ دھندے کی صورت الجھا کر رکھ دیا۔ مطالبہ صرف معاملے کی پارلیمنٹ میں وضاحت پیش کرنے کا ہوا تھا۔ سادگی کہہ لیں یا بے وقوفی کی حد تک پہنچی ہوئی خود اعتمادی، اپنے ہاتھوں اپنی موت کا سامان کرتے ہوئے اسے عدالت لے کر پہنچ گئے۔ خیر اندیشوں نے بہتیرا روکا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی نسبت انگوٹھا چھاپ اراکین پارلیمنٹ کو "الّو" بنانا کہیں آسان ہوگا۔ اپنے اعمال نامے پر نظر رکھنے کے باوجود کسی رعایت سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ پارسائی ثابت کرنے چل دیے۔ اپنے نصیب کو دیکھ کر حد سے زیادہ خوش فہم ہوتے وقت، یہ فراموش کردیا تھا کہ قسمت ہمیشہ یاوری نہیں کیا کرتی۔ کچھ کامیابی کی لکیریں اپنی ہمت ودانائی سے بنانی پڑتی ہیں۔ اگر سلیقے سے تمام صورتحال کا سامنا کیا ہوتا تو یہ نوبت ہرگز نہ آتی جس کی وجہ سے بار بار پوچھنا پڑ رہا ہے کہ "مجھے کیوں نکالا؟"۔

خیر، نکلنے کے بعد ہی تحمل سے کام لے کر نچلے ہو بیٹھتے، ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لے کر سوچتے کہ پانامہ دریافت کیونکر ہوا؟ کس گستاخی کی وجہ سے یہ طوق گلے میں ڈالا گیا ہے؟ کیا خطا سرزد ہوئی تھی جس کی وجہ سے یہ سزا سنائی گئی؟ اس کے بعد بھی توبہ اور معافی تلافی کی گنجائش باقی رکھی گئی تھی مگر جی ٹی روڈ پر کف اڑاتے اور منہ سے جھاگ نکالتے اپنے ہاتھوں سے یہ موقع بھی گنوادیا۔ کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، اور اقتدار کی محبت رشتوں کی محبت پر غالب ہوا کرتی ہے۔ لیکن یہاں تو دل اور خونی رشتوں کی محبت میں وہ قرض چکتا ہوتے دیکھے جارہے ہیں جو بالکل واجب نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   تڑیوں سے ترلوں تک - سید طلعت حسین

جذبات پر اگر عقل غالب ہوتی، محبت کے بجائے عملیت پر یقین ہوتا تو کبھی حدیبیہ کا دفتر کھلنے کی نوبت نہ آتی۔ یہ اشارہ تھا کہ پلٹ آؤ، ورنہ پھر شکایت نہ کرنا۔ پہلے بھی بہت بار عرض کرچکا ہوں کہ تمام تر شکایتوں اور بد اعتمادیوں کے باوجود فیصلہ تھا کہ نہ تو جمہوریت ختم کی جائے گی اور نہ ہی کوئی ماورائے آئین اقدام اٹھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہمنواؤں کو بھی کسی عتاب کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ مگر خود جب ہمنوا فریق بننے پر مصر رہے تو اب انہیں بھی لپیٹ میں لینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

بہت سوں کو یاد ہوگا کہ ضیاء الحق ایک بار بھٹو کو چند عالمی رہنماؤں کے اصرار پر آزادی دینے پر آمادہ ہوگئے تھے مگر، اس کے بعد بھی بھٹو یہ کہتے رہے کہ میں جیل سے نکل کر تمام مخالفین کو الٹا لٹکاؤں گا، اپنے بوٹ کے تسموں کے ساتھ جرنیلوں کی مونچھیں باندھ کر انہیں گھسیٹوں گا۔ جس کی وجہ سے اس سوچ کو تقویت مل گئی کہ اگر بھٹو کو آزاد کردیا گیا تو یہ باہر آکر انتقامی کاروائیاں کرے گا۔ یار لوگوں نے بھٹو کو زباں بندی پر آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانے، نتیجتاً انہیں پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا۔

اسی طرح شریف فیملی نااہلی فیصلے کے بعد اگر سیاسی لڑائی کو ذاتیات تک نا لے کر جاتی تو شاید "ماڈل ٹاؤن کمیشن رپورٹ" کسی دراز میں اب تک کھلا آسمان دیکھنے کی چاہ میں پڑی گل سڑ رہی ہوتی۔ "غدار وطن" سے علیحدگی کے بعد فاروق ستار کو اس سے علیحدگی ثابت کرنے کا موقع دیا گیا تھا جس میں ناکامی کے بعد وہ ہر گزرتے پل عتاب کا شکار ہورہے ہیں۔ اسی طرح نااہلی کے فیصلے کے بعد شہباز شریف کو بھی تصادم کی سیاست سے الگ ہونے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ اسے تابعداری کہیں یا وفاداری وہ اپنی سیاست کو بڑے بھائی کے انداز سیاست سے جدا ثابت کرنے میں ناکام رہے اور اس عرصہ میں تمام جارحانہ اقدامات میں عملاً بڑے بھائی کے ساتھ نظر آتے رہے جس کی وجہ سے نظر یہی آرہا ہے کہ اب عنقریب وہ بھی رگڑے میں آنے والے ہیں۔ حدیبیہ کیس ان کے لیے تنبیہ تھی مگر وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہے، لہٰذا اب ماڈل ٹاؤن رپورٹ کی صورت انہیں شکنجے میں لانے کا بندوبست کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیرون ملک علاج: ایئر ایمبولینس اتنی مہنگی کیوں؟

ماڈل ٹاؤن کمیشن رپورٹ پر مسلم لیگ کے ردعمل سے نظر یہی آرہا ہے کہ ان کی سوچ میں ذرّہ برابر تبدیلی نہیں آئی۔ اب بھی وہ اسی طرح خوش فہمی کا شکار ہیں جیسے پانامہ کیس میں تھے۔ اپنے دفاع اور بچاؤ میں دلیل ڈھونڈنے سے کہیں زیادہ وقت اس رپورٹ کی بھد اڑانے میں صرف کررہے ہیں۔ اِدھر اُدھر کی کہانیاں سنا کر، دھول اڑا کر سمجھا جارہا ہے کہ مصیبت ٹل جائے گی۔ سمجھ نہیں آرہی کہ انہیں مزید کس چیز کی وضاحت درکار ہے؟ کسی سے کہ سن کر ترجمہ کروا کر دیکھ لیں۔ صاف بتایا گیا ہے کہ تجاوزات ہٹانے کا حکم کس نے دیا تھا؟ وزیر اعلیٰ کے دعویٰ لاعلمی کو بھی جھٹلایا گیا ہے۔ یہ آگاہی بھی دی گئی ہے کہ پولیس اپنے طور یہ تمام خونچکاں داستان لکھنے کی اہلیت ہرگز نہیں رکھتی تھی۔

جس کمیشن کے نتائج پر مضحکہ اڑایا جارہا ہے کیا وہ اپنے دیے گئے اختیار میں اس سے زیادہ کھل کر کچھ بتا سکتا تھا۔ حالانکہ مجھ ایسا جاہل شخص بھی ایک سرسری نظر دیکھنے کے بعد اس کے نتائج ومضمرات کا بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے۔ کیا یہ سوچنے کی بات نہیں کہ ایک قتل کی ایف آئی آر بھٹو کو ماضی بنا سکتی ہے تو 14لاشیں کس قدر مہلک تاثیر رکھتی ہوں گی۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ "ماڈل ٹاؤن کمیشن رپورٹ" ایسا ڈائنامائیٹ ہے جو کسی بھی وقت مسلم لیگ کی سیاست کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دے گا۔

مکرر عرض ہے کہ فیصلہ تو یہی کیا گیا تھا خطاؤں پر صرف سیاست کے دروازے بند کیے جائیں گے، ذاتی زندگی پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑنے دیا جائے گا مگر، جب آپ اٹھتے بیٹھتے اپنے عزائم بیان کرتے رہیں گے تو پھر دفاع کا حق تو ہر کسی کو حاصل ہوا کرتا ہے۔ ہمارے یہاں بھٹو صاحب کا انداز خطابت اور طرز تقریر بہت مقبول ہے شاید اسی لیے شہباز شریف اکثر بھٹو صاحب کی نقالی کرتے نظر آتے ہیں اور وہ بڑی حد تک اس میں کامیاب بھی رہتے آئے ہیں لیکن انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بھٹو صاحب اپنے طرز خطابت کی وجہ سے کس انجام سے دوچار ہوئے تھے۔