وائلن کی دھنیں اداس کیوں ہیں؟ دعا عظیمی

فضا میں سر بکھرے، وہ آنکھیں بند کیے اپنی ٹھوڑی سے وائلن ٹکائے مہارت سے خوبصورت دھن سے پورے ماحول کو یکسو کیے ہوئے تھا۔ ایسے لگتا تھا پارک کا فوارہ اس کی لے پر فضا میں سفید موتی بکھیر رہا تھا۔ فرہاد ایک کنسرٹ کی تیاری میں مصروف تھا، اسے ریاضت کے لیے پارک کا یہ گوشہ پسند تھا۔ کبھی کبھار کوئی واک کرتے ہوئے اس ٹریک سےگزرتا، ورنہ عموماً لوگ قریبی ٹریک سے موڑ مڑ جاتے، درختوں کے جھنڈ میں چھپا یہ گوشہ قدرے ویران تھا، اسی لیے فرہاد اپنا سامان اٹھائے اکثر ادھر کا رخ کرتا۔

وہ بے ساختہ موسیقی کی لے سن کر کھنچی چلی آتی اور چپ چاپ اسے سنتی۔ شاید فرہاد کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوتی اور یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا، مگر آج اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس اجنبی کی خوبصورت دل سوز موسیقی کی تعریف ضرور کرےگی۔ وہ اپنےخیالوں کا پیچھا کر رہی تھی جیسے رنگوں اور خوشبو کی رسیا تتلیاں پھولوں کی تلاش میں چمن کا کونا کونا چھانتی ہیں۔

خیالات معصوم بچوں کی طرح رنگ برنگے کپڑے پہنےآگے پیچھے بےتسلسل بھاگ رہے تھے۔ کبھی سمندر کنارے ریتلی زمین پر، کبھی پانیوں کی لہروں پر تیرتے سفید آبی پرندوں کی طرح، اور کبھی کھلے میدانوں کوڈھانپے نیلے گگن پر دائروں میں تیرتی سیاہ چیلوں کی پرواز میں، وہ پارک میں سیر کے دوران خود کو بہت ہی آزاد محسوس کرتی تھی۔ کچھ دنوں سے ایک خاص گوشے سے وائلن کی خوبصورت دھن ابھرتی اور پنچھی اپنے سر بھول جاتے۔ وہ چپ چاپ درختوں کے جھنڈ میں چھپی اپنی یوگا کی مشقیں دہراتی اور ساتھ ساتھ اجنبی کے وائلن کا اُداس رس اپنی روح میں اتارتی۔ سانسوں کی مہارت اسے ایک نئے جہان کی سیر کراتی، دکھوں کی پوٹلی دریا برد ہو جاتی، دل ایک مسرور بچے کی طرح کلانچیں بھرتا، مریض درد دکھ تکلیفیں آہ و زاری، دوائیاں، سوئی، سرنجیں، ٹیکے، فینائل اور ڈیٹول کی خوشبویں بہت پیچھے رہ جاتیں۔

اس کے پاس خود کو شانت رکھنے کا یہی اک بہانہ تھا۔ والد صاحب کی بےوقت موت نے کفالت کا فرض بڑی اولاد ہونے کے ناطے اس کے نازک کندھوں پر پھینکا تھا۔ وہ تندہی سے سارے فرض نبھا رہی تھی۔ مکان کا کرایہ، بیمار ماں کی دوائیاں، چھوٹے بہن بھائیوں کے تعلیمی اخراجات، آمدنی اور اخراجات کے توازن کو سنبھالتے سنبھالتے اس کے بالوں میں سفیدی اتر آئی تھی۔

اس روز وہ رہ نہیں سکی، چند قدم کے فاصلے کو عبور کیا اور بولی، آپ وائلن بہت خوب بجاتے ہیں۔ اسے لگا اگر وہ اس کے فن کی تعریف نہیں کرے گی تو شاید ناانصافی کرےگی۔ فضا میں بہت سی گھنٹیوں کی مترنم آواز چھنکی، موروں نے رقص کیا، وہ سامنے تھی، ہلکے سبز اور سفید لباس میں، حیرت اور خوشی سے فرہاد کی آواز بوجھل سی ہوگئی۔ ہرچند گلا صاف کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔ وہ قریب تھی جسے اکثر دیکھا کرتا تھا۔ ریاضت کے بعد کچھ لمحے جان کے بیٹھ جایا کرتا تھا۔ وہ گزرتی تھی تو کلیاں کچھ اور مسکراتی تھیں۔ پتوں کا رنگ کچھ اور گہرا ہو جاتا۔ جاننا چاہتا تھا کہ وہ کون ہے؟ اس کا نام کیا ہوگا؟ مشاغل کیا ہوں گے؟ خوشی کی لہر اس کے وجود سے پھوٹتی تھی۔ بالکل ایسے جیسے سامنے فوارے سے شفاف موتیوں کی بوچھاڑ، جو گھاس کی کومل پتیوں کے سنگھار پر اترتی اور انہیں تازہ دم رکھتی۔

"آپ کا نام پوچھ سکتا ہوں؟"
"جی، میرا نام خوشی ہے، " اس نے ہاتھ میں پکڑی بوتل کاڈھکنا کھولا اور پانی کا سپ لینےاس کے قریب ہی گھاس پر بیٹھ گئی،
"آپ کب سےوائلن بجاتے ہیں؟" اس نے دھیرے سے وائلن کو چھوا، "مجھے بھی ساز اچھے لگتے ہیں، ماؤتھ آرگن بجانا آتا ہے مجھے، آپ پرانے گانے کی دھن بجا سکتے ہیں؟"
" جی ‏آپ فرمائش کریں۔" فرہاد نے محبت سےجواب دیا۔
پھر اس نے گانے کے بول سنائے، "جانے کہاں گئے وہ دن۔"

ہوا میں ٹھنڈک کا احساس بڑھنے لگا۔ نومبر کی اُجلی دھوپ اس کے کشادہ ماتھے کو چومتے ہوئے اپنی سنہری گاگر اٹھائے مغرب کے پانیوں کی جانب رواں دواں تھی۔ جانے سے پہلےفرہاد نے اس سے پوچھا "خوشی! آپ پڑھ رہی ہیں یا کسی پیشے سے منسلک ہیں؟" اس کے اوپر والے ہونٹ کے قریب کالا تل پھیلا، وہ مسکرائی اور آسمان کو دیکھا "مسیحاؤں کی مددگار ہوں میں" اور پہیلی ڈال کر پہیلی کی طرح غائب ہوگئی۔

کافی دیرچپ چاپ بیٹھا فرہاد آسمان پہ اڑتی پتنگ کو بےمقصد دیکھتا رہا۔ کبھی کبھی اڑتی ہوئی چیزیں ہمیں بھی اپنے ساتھ ساتھ لے اڑتی ہیں۔ سفید بادل ہوں ،کالے کوّے، چڑیوں کاچمبا ہو یانیلے آکاش کوچھونے کی تمنا میں ڈولتی پتنگ، خوشی کے مرغولے اڑتے رہتے اور دل ہر اڑان کوجذب کیے جاتا ہے۔

بہت دنوں تک کیفیت ایسے رہی جیسے نیلے پانیوں پر کنول ہلکورے لیتے ہوں۔ فرہاد اسی انداز سے دھنوں کو ترتیب دیتا اور سُر پکے کرنے کی محنت کرتا رہا اور بند آنکھوں سے منتظر رہا۔ شاید پھر کسی روز وہ چھم سے آئے، سریلی گھنٹیاں ہلیں اور کوئی کہے "آپ بہت اچھا بجاتے ہیں۔"

تتلیوں کے قافلے پھولوں کی جانب سفر کرتے رہے۔ سرما کی دھوپ شدید سردی میں دم توڑنے لگی، شام و سحر اپنا چکر پورا کرتے رہے مگر وہ نہیں ملی۔ دھندلی یاد بن کر ذہن کے کباڑ خانے میں جا سوئی۔ کبھی کبھار اس کا جی چاہتا دنیا کے سارےکام چھوڑ کر اس کی تلاش میں نکل جائے۔ سوگواری کے احساس کو مصروفیت کا لباس پہنانے کی کوشش میں کامیاب ہونے لگا تھا۔

خوشی کو بھی فرہاد کےخوبصورت سروں کی یاد تو آتی لیکن اسے علم تھا کہ اپنے غیرضروری خیالات اور جذبات کو فرائض کی نکیل کیسے ڈالنی ہے؟ محبت و شادی جیسے کاموں کے لیے اس کی زندگی نے گنجائش کب چھوڑی تھی۔ جب بھی اس کی کسی سہیلی کی شادی ٹھہرتی، ماں کے سینے کے درد میں اور اضافہ ہو جاتا۔ وہ ماں کی آنکھوں میں اپنی شادی کےجلتے بجھتے خواب پڑھتی اور انجان سی بن جاتی۔ اسے علم تھا کہ ماں کی خواہش اپنی جگہ لاکھ درست ہو مگر کیا وہ اپنی بیوہ بیمار ماں اور چھوٹے تین بہن بھائیوں کو بےآسرا چھوڑ کر اپنے لیے نئی راہیں چن سکتی تھی؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور وہ خیال ہی خیال میں سر جھٹک دیتی۔ اس کا ماننا تھا کہ ایک انسان کو سچی محبت صرف اپنے فرض سے ہونی چاہیے، وہ اپنی سچی محبت نبھا رہی تھی۔

فرہاد کی مما کا شوگر لیول کچھ ایسے متزلزل ہوا کہ آدھی رات کو قریبی کلینک کی ایمرجنسی میں لے جاناپڑا۔ افراتفری کے عالم میں اسے ہوش تب آیا جب مانوس گھنٹیوں کی آواز میں سرگوشی ہوئی۔ آپ یہ انجیکشن لے آئیں۔ پرچی ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں شناسائی کے ستارے چمکے۔ خوشی سفید لباس میں ملبوس اپنے فرائض ادا کر رہی تھی۔ وہ مسیحاؤں کی مددگارگویا ایک نرس تھی۔

اس حالت میں بھی ایک خوشی اور طمانیت کاگہرا احساس فرہاد کے تن من کوبھگو گیا۔ اسے لگا منزل قریب ہو مگر کبھی کبھار منزلیں ایسے ہی فریب دیا کرتی ہیں۔ فرہاد نے اپنی عرضی گھر والوں کے سامنے رکھی تو یہ جان کر اسے انتہائی دکھ ہوا کہ سارا اعتراض اس کے مقدس پیشے پر تھا۔ اُف! جانے کب تعلیم، تقویٰ اورخدمت ہمارا معیار ہوگا؟ ابھی تو مادّیت کے بتوں کی پرستش اپنے عروج پر تھی۔ پھر فرہاد اس دن مکمل طور پر شکست خوردہ نظر آیا، جب خوشی نے درخواست مسکرا کر کوڑے کے ڈبے میں ڈال دی اور کہنے لگی مسٹر فرہاد! یہ زندگی ہے، مجھے محبت کے پہاڑ سے ندی نہیں کھودنی، مجھے محنت کے تیشے سے اپنےخاندان کو پالنا ہے۔ ریزہ ریزہ چوڑیوں کے ٹوٹنے کی کھنک اس کے لہجے سے نکلتی ہوئی فرہاد کی سماعتوں میں اترتی چلی گئی۔ فرہاد کا جی چاہا وہ وائلن اٹھائے اور جنگلوں کی طرف نکل جائے، شہر اجنبی لگنے لگا تھا۔ پھر لوگ پوچھتے تھے کہ وائلن کی دھنیں اداس کیوں ہیں؟

Comments

دعا عظیمی

دعا عظیمی

دعا عظیمی شاعرہ ہیں، نثرنگار ہیں، سماج کے درد کو کہانی میں پرونے کا فن رکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے سوشل سائسنز میں ماسٹر کیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.