بٍِٹ کوائن کیا ہے؟ حافظ محمد زبیر

بہت سے دوست بٹ کوائن کے بارے پوچھتے ہیں کہ جائز ہے یا نہیں۔ بٹ کوائن دراصل انٹرنیٹ پر استعمال ہونے والی ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے کہ جس کا آغاز 2009ء میں کیا گیا۔ عام کرنسی اور اس میں دو بڑے فرق ہیں کہ عام کرنسی کہ جسے ہم پیپر کرنسی کہتے ہیں، وہ کم از کم کاغذ کی صورت میں اپنا جسمانی وجود رکھتی ہے لیکن بٹ کوائن کا خارج میں کوئی وجود نہیں، صرف سافٹ صورت میں ہے۔ دوسرا یہ کہ عام کرنسی کے پیچھے حکومت یا بینک کی قوت ہوتی ہے لیکن بٹ کوائن ایک آزاد کرنسی ہے کہ جس کے پیچھے کوئی حکومت یا بینک نہیں ہے۔ صارف اپنی مرضی سے یہ کرنسی اپنے کمپیوٹر سے تخلیق کر سکتا ہے۔

شروع شروع میں بارٹر سسٹم تھا یعنی لوگ ایک جنس کی چیز کے بدلے دوسری جنس کی چیز حاصل کر لیتے تھے۔ مثلاً میرے پاس گندم ہے اور زید کے پاس چاول۔ اب مجھے چاول چاہئیں اور زید کو گندم تو ہم دونوں آپ میں کسی نسبت اور تناسب سے گندم اور چاول کا تبادلہ کر لیں گے، اسے بارٹر سسٹم کہتے تھے۔ اس کے بعد ایک زمانہ آیا جبکہ سونا اور چاندی کرنسی کے طور استعمال ہونے لگے۔ اوائل اسلام میں یہی کرنسی رائج تھی۔ دینار سونے کا ہوتا تھا جبکہ درہم چاندی کا۔ دینار رومیوں کا معروف سکہ تھا جبکہ درہم فارسیوں کا۔ خیر القرون میں دونوں رائج رہے ہیں۔

اس کے بعد کاغذی کرنسی کا دور آیا۔ یہ کیسے شروع ہوئی؟ اس کی ایک لمبی کہانی ہے۔ لیکن بہر حال آج ہم اسی کاغذی کرنسی کے دور میں سانس لے رہے ہیں کہ جس میں ہزار روپے کے نوٹ پر لکھا ہوتا ہے کہ حامل ہذا کو ہزار روپیہ عند الطلب ادا کیا جائے گا یعنی جو آپ کے پاس ہے، وہ ہزار روپیہ نہیں ہے، اس کی رسید ہے۔ ہزار روپیہ کچھ اور ہے، اگر آپ مانگیں گے تو آپ کو حکومت یا بینک، جو بھی اس کاغذی کرنسی کو جاری کرنے والا ادارہ ہے، ہزار روپیہ ادا کر دے گا اور اس ہزار روپے سے ان کی مراد ہزار روپے مالیت کا سونا یا چاندی ہے جو کہ اب ان کے پاس نہیں ہے کیونکہ انہوں نے نوٹ اتنے چھاپ دیے ہیں کہ جتنا ان کے پاس سونا ہے نہ چاندی۔

بس کاغذی کرنسی کی حقیقت، کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہے اور اسے کرنسی بنانے والی شے ایک ہی ہے، وہ حکومت کا ڈنڈا ہے۔ جس دن یہ ڈنڈا ختم ہو گیا، اس دن یہ کاغذ کے ٹکڑے ہیں، جو ردی کے بھاؤ سے بک سکتے ہیں۔ کاغذی کرنسی کے دور میں یہ سوال بہت انٹرسٹنگ ہے کہ بٹ کوائن جائز ہے یا نہیں؟ اس میں غور طلب بات یہ ہے کہ کرنسی کو کیا چیز کرنسی بناتی ہے؟ یہ چیزیں کوئی چار پانچ ہیں مثلاً یہ کہ کرنسی وہ ہوتی ہے کہ جس میں فوری لین دین کرنے کی صلاحیت موجود ہو اور یہ پیپر کرنسی کی نسبت بٹ کوائن میں زیادہ موجود ہے۔

اس طرح کرنسی وہ ہوتی ہے کہ جس پر لوگوں کا اعتماد ہو یعنی لوگ اسے قبول کرتے ہوں تو یہ ابھی بٹ کوائن میں کافی کم ہے جبکہ پیپر کرنسی میں بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح کرنسی قابل تقسیم ہونی چاہیے جیسے پیپر کرنسی پانچ کے سکے سے لے کر پانچ ہزار تک ہوتی ہے اور کرنسی ایسی ہو کہ جس میں نقل وحمل میں آسانی رہے جیسا کہ پیپر کرنسی یا اے- ٹی- ایم کارڈ میں تو اور آسان ہے۔

اسلام میں کرنسی کی خصوصیات میں سے جس چیز پر زیادہ زور ہے، وہ یہ ہے کہ وہ کوئی شے ہونی چاہیے، ہوائی نہ ہو۔ کاغذی کرنسی تو ہوا میں کھڑی ہے ہی، بٹ کوائن تو بالکل ہی خلاء میں ہے۔ لیکن شاید اس دنیا کی تقدیر یہی ہے کہ ہم پیپر کرنسی سے ڈیجیٹل کرنسی کی طرف جائیں گے کیونکہ اس کے مالک نے اسے ایک خاص وقت میں تباہ کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے اور وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.