اقصیٰ کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں - انعام مسعودی

دِل مغمُوم اور افسُردہ ضرور ہے مگر مایوس ہرگز نہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ جگہ جہاں آپ پیدا ہوتے ہیں یا پھر جن گلیوں میں آپ کا بچپن اور لڑکپن گزرا ہوتا ہے، دل ان کی جانب ہمیشہ راغب رہتا ہے۔ آپ کہیں چلے جائیں، کچھ بھی بن جائیں یا دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا اعزاز ہی کیوں نہ حاصل کرلیں اپنے لوگوں اور علاقے کے لیے آپ ویسے ہی ہوتے ہیں اور اپنا گاؤں اور گلی محلہ آپ کو بھی سب سے پیارا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کُرہِ ارض پر وہ مقامات جن کے لیے دل کی تڑپ بے اختیار اور لازوال ہے۔ اقصیٰ ان میں سے ایک ہے۔

برسوں پہلے اپنے بزرگوں سے سفرِ حجاز کی رُوداد سُن کراور نسیم حجازی، آغا شورش کاشمیری اور ابوالکلام آزاد کی کُتب کے قاری ہونے کے وجہ سے مکہ اور مدینہ کے ساتھ ایک خاص قلبی تعلق اور ان کے بارے میں سوچ کا شغف ہر پل خیالوں میں رہا تاہم ان مقامات پر جانے کی سعادت کے بعد اصل چاشنی محسوس ہوئی۔ بالخصوص مدینتہ النبی ﷺ سے واپسی کے وقت جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسے الفاظ میں بیان کرناآسان نہیں۔ ۔ ۔ مگر اقصیٰ میں بہتا لہو، اس کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے آنسو اور نوجوانوں کا جذبہ مزاحمت َرتی بھر ایمان رکھنے والے دل میں بھی ایک خاص کشش رکھتا ہے۔

تل ابیب سے اپنا سفارتخانہ یروشلم یعنی القدس میں منتقل کرنے کے حالیہ امریکی فیصلے کے تناظر میں دنیا بھر میں احتجاج اور مذمت کا سلسلہ شروع ہو چکا۔ سلامتی کونسل کا اجلاس ہو یا او آئی سی کا اجلاس یا پھر فالج زدہ عرب لیگ کی جانب سے کی جانے والی میٹنگز، سب بجا مگر اقصیٰ پر استعمارکا پنجہ اور ظلم جوں کا توں ہی رہے گا۔

پاکستان میں بھی ہر دل مغموم ہے اور مذہبی سوچ اور تحرک کے حامل لوگ اس پر صدائے احتجاج بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب ملک گیر مظاہرے اور کانفرنسیں بھی ہوں گی اور مسلمانوں کی مظلومیت کا رونا رویا جاتا رہے گا۔ مگر رونے سے کیا حاصل ۔۔۔؟ سوشل میڈیا پر اسی حوالے سے گردش کردہ ایک اقتباس بہت برمحل ہے کہ:

جب ہسپانیہ کے آخری مسلمان بادشاہ ابو عبداللہ کوسقوط غرناطہ کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا تو ایک پہاڑ کی چوٹی پر رک کر وہ غرناطہ پر آخری نظر ڈالتے ہوئے رونے لگا ۰ اس وقت اس کی ماں نے اسے یہ تاریخی الفاظ کہے تھے :“Do not cry like a woman for that which you could not defend as a man.”

"اُس کے لیے عورتوں کی طرح مت رَو جس کے لیے تُم مَردوں کی طرح لڑ نہیں سکے"

رونا دھونا، مظاہرے، یادداشتیں پیش کرنا اور کانفرنسیں کرنا سب ٹھیک، مگر اتمام حُجت کے سِوا اس سے کیا ہوگا؟ با معنی اور اثر انگیز اقدامات تو بہت مشکل ہیں تاہم علامتی حیثیت رکھنے والے ایسے کیا اقدامات کیا ہو سکتے ہیں جن کا وزن محسوس کیا جا سکے؟ یقیناً ایک ٹھوس لائحہ عمل اجتماعی غور و فکر کے بعد ہی بنایا جا سکتا ہے تاہم فی الوقت اس ضمن میں چند پہلو حسبِ ذیل ہو سکتے ہیں:

  • ساری اسلامی دنیا غزہ یا فلسطینی کنٹرول کے علاقے میں اپنے سفارت خانے قائم کرنے اور ان تک رسائی کے لیے کچھ عملی اقدامات تجویز کرے۔
  • اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے اور اس کو اسلامی سے زیادہ انسانی بنیادوں پر ایک ہمہ گیر مہم کی صورت میں چلایا جائے کیونکہ اس وقت یورپ اور مہذب دنیا میں عامیانہ درجے کے علاوہ سوچنے سمجھنے والے حلقے اسرائیلی اور امریکی حلقوں کے اقدامات کے خلاف اور فلسطینی عوام کے حق میں زیادہ رُجحانات رکھتے ہیں۔
  • سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور اردن سمیت تیل کی دولت سے مالا مال امیرعرب ممالک سے ساری اسلامی دنیا مل کر مطالبہ کرے کہ وہ اپنے سرمائے کو امریکی بینکوں سے منتقل کرکے چین یا روس کے بینکوں میں منتقل کریں۔
  • سعودی شاہی خاندان اور ایرانی اہل اقتدارکو اجتماعی کوششوں سے یہ باور کرایا جائے کہ ان کی پراکسی مسلم دنیا اور مسئلہ فلسطین کے لیے زہر قاتل ہے۔ دونوں ہی بلاکس کے حکمران طبقے اگر اپنا اقتدار تادیر قائم رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں مسئلہ فلسطین پر پراکسی سے اعراض برتنا ہو گا، ورنہ جلد یا بدیر ان دونوں بلاکس سے منسلک ممالک کے اہل اقتدار عوامی ردعمل کے نتیجے میں ہمیشہ کے لیے اپنا اقتدار کھو بھی سکتے ہیں۔
  • پاکستان اوراس جیسے دیگر اسلامی ملک جن کی عوام اس مسئلے کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتی ان کو حقائق سے روشناس کروانے کے اقدامات کیے جائیں تاکہ وہ اس بارے میں اپنی رائے اور سوچ دُرست رکھ سکیں۔
  • مسلمان ممالک مل کر سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کا لائحہ عمل بنائیں، اسرائیل نے اس میدان میں ناقابلِ تردید کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس کی استعماری طاقت صرف اور صرف سرما ئے اور فوجی طاقپ پر مبنی نہیں بلکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ملکہ بھی اس کا ایک ذریعہ ہے۔
  • فلسطینی بھائیوں کی حقیقی ضروریات اور زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں، کیونکہ ان کی جانب سے کی جانے والی مزاحمت ساری اسلامی دنیا کا فرض بھی اور اس پر قرض بھی۔

یقیناً اقصیٰ کے لیے اور بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے تاہم کہیں ناں کہیں سے ردعمل میں کیے جانے والے جذباتی اقدامات سے آگے بڑھ کرنتیجہ خیزی پر مبنی کچھ ناں کچھ کرنے کی شروعات تو کرنا ہی ہوں گی۔

Comments

انعام مسعودی

انعام مسعودی

انعام الحق مسعودی ماس کمیونیکیشن میں گریجوایشن کے ساتھ برطانیہ سے مینجمنٹ اسٹڈیز میں پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔ سوشل سیکٹر، میڈیا اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری سے منسلک ہیں۔ برطانیہ میں 5سالہ قیام کے دوران علاقائی اور کمیونٹی ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے منسلک رہے ہیں۔ چیرٹی ورکر، ٹرینر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہونے کے ساتھ قلمکار بھی ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.