دکھ کے درماں بھی ہیں بے زباں کے لیے - نوید احمد

بچپن میں عموماً گرمیوں کی چھٹیوں میں گاؤں آنا جانا لگا رہتا تھا۔ یہ کوئی زیادہ دور کی بات نہیں صرف 22، 23 سال پرانی بات ہے جب گاؤں واقعی گاؤں ہوتے تھے۔ رات لالٹین کی روشنی میں بیٹھ کر کھانا کھانا، صحن میں چارپائی بچھا کر ستاروں سے بھرپور آسمان کا مشاہدہ کرنا، دادی، نانی، خالہ، پھوپھی اور ممانیوں کے گھر چکر لگانا، صبح سویرے مدھانی سے تیار کردہ مکھن کے ساتھ پراٹھا کھانا، ایسی یادیں ہیں جن کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔

ان حسین یادوں میں جو ایک تکلیف دہ یاد ہے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ گاؤں میں بھیڑ بکریوں، گائے بھینس وغیرہ کو چَرانے کے لیے مرد حضرات صبح تڑکے ہی نکل جاتے تھے۔ یوں تو ان بے زبان جانوروں کی بڑی خاطر ہوتی تھی لیکن اکثر اوقات غصے میں ان کو جو ڈنڈے سے صلواتیں سنائی جاتی تھیں، وہ میری طبیعت پر بہت بھاری گزرتی تھیں۔ شاید زندگی میں جتنی گالیاں سنیں یا حافظے میں محفوظ ہیں، وہ اسی دور سے وابستہ ہیں۔ مجھے اس بات سے تو کوئی گلہ نہیں کہ جانوروں کو کسی حد تک مارنا ضروری بھی ہوتا ہے لیکن بلاوجہ مارنا اور مارنے کے ساتھ گالیاں نکالنا سمجھ سے بالاتر رہا۔

میں نے یہ ساری تمہید اس لیے باندھی کہ توجہ دلا سکوں کہ یہ بے زبان جانور بھی ہماری توجہ کا مستحق ہیں، ان کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ اگر یہ ہماری سواری کے کام آتے ہیں، ہماری غذا کا سبب بنتے ہیں تو جب تک یہ ہمارے زیر نگر ہیں ہم کیوں ان کو پیار محبت سے نہیں پال سکتے؟ کیوں ہمارا چھوٹی عمر کا بچہ بلی کے معصوم بچوں کو دیکھتے ہی انہیں پتھر سے مارنا چاہتا ہے؟ کیوں جانوروں پر ان کی بساط سے بڑھ کر بوجھ لادا جاتا ہے؟ کیا ہمارے مذہب کی یہی تعلیم ہے؟ آئیے اسوہ حسنہ کی روشنی میں اس موضوع پر چند احادیث کا مطالعہ کریں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ احسان کا رویہ اپنانے کی تاکید فرمائی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک بدکار عورت کی بخشش صرف اس وجہ سے کی گئی کہ ایک مرتبہ اس کا گزر ایک ایسے کنویں پر ہوا جس کے قریب ایک کتا کھڑا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا اور قریب تھاکہ وہ پیاس کی شدت سے ہلاک ہوجائے۔ کنویں سے پانی نکالنے کو کچھ تھا نہیں۔ اس عورت نے اپنا چرمی موزہ نکال کر اپنی اوڑھنی سے باندھا اور پانی نکال کر اس کتے کو پلایا۔ اس عورت کا یہ فعل بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوا اور اس کی بخشش کر دی گئی۔(مسلم: باب فضل ساقی البہائم، حدیث:۵۹۹۷)

اسی طرح ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں اپنے حوض میں پانی بھرتاہوں اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے، کسی دوسرے کا اونٹ آکر اس میں سے پانی پیتا ہے توکیا مجھے اس کا اجر ملے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہر تر جگر رکھنے والے میں اجر وثواب ہے“ (مسند احمد:مسند عبد اللّٰہ بن عمرو،حدیث: ۲۰۷۵)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ بدسلوکی سے بھی منع فرمایا۔ حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گزرا، جس کے منہ پر داغا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسل اس کو دیکھ کر فرمایا :اس شخص پر لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے(صحیح مسلم)

جانوروں کو بلا وجہ روک ٹوک کرنے اور کرانے سے منع فرمایا۔ حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایاہے(ترمذی)

حضرت عبدالرحمٰن بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ایک مرتبہ ہم لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے جب ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا کو دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے ہم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ لیا۔ اس کے بعد چڑیاآئی اور اپنے بچوں کی گرفتاری پر احتجاج کرنے لگی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حمرہ کو اس طرح بیتاب دیکھا تو فرمایا کہ کس نے اس کے بچوں کو پکڑ کر اس کو مضطرب کر رکھا ہے؟ اس کے بچے اس کو واپس کر دو۔ (ابوداوٴد: باب فی کراہیة قتل الذر، حدیث۵۲۶۸)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موذی جانوروں کو مارنے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا: "اللہ نے ہر چیز میں احسان کرنا فرض کیا ہے؛ اس لیے جب تم لوگ کسی جانور کو مارو تو اچھے طریقے سے مارو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ (مسلم : باب الأمر بإحسان الذبح، ہدیث ۱۹۵۵)

ان تمام احادیث کا لب لباب یہ ہے کہ ایک بندہ مومن نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ جانوروں کے لیے بھی سراپا شفقت و محبت ہوا کرتا ہے۔ جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنا مثلاً پالتو جانوروں کی دیکھ بھال، انہیں بروقت کھانا دینا، موسم کی شدت سے انہیں بچانا، جانوروں کو ذبح کرتے ہوئے بھی تکلیف سے بچانا، نیز بیماری کی حالت میں اس کا خود یا جانوروں کے ڈاکٹر سے علاج کروانا، سامان لادتے ہوئے جانور کی جسمانی ساخت کو ملحوظ رکھنا وغیرہ ایسے کام ہیں جن کا خیال رکھنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ مجھے امید ہے کہ جہاں ہم ربیع الاول میں میلاد کی محافل منعقد کروا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بلند کرتے ہیں وہیں ہم ان کی مبارک سنتوں کو زندہ کر کے معاشرے کو سکون کا گہوارہ بنا دیں گے۔ ان شاء اللہ