کیا ماں بننے کےلیے بڑی عمر اور تربیت ضروری ہے؟ جویریہ سعید

اٹھارہ سے بیس سال کی عمر کے حوالے سے یہ خدشات کہ اس عمر کی خواتین سمجھ اور جذبات کے لحاظ سے اتنی میچور کیسے ہو سکتی ہیں کہ بچے کی تربیت کر سکیں اور آنے والے وقت میں کسی مشکل کی صورت میں جذباتی، جسمانی اور نفسیاتی طور پر مشکل حالات کو فیس کر سکیں؟ آج کل کے دور میں تو اس عمر کی خواتین عموماً ریاضی، جغرافیہ، سائنس، معاشرتی علوم، اسلامیات اور اردو انگریزی وغیرہ کی بنیادی سمجھ بوجھ باقاعدہ تعلیمی اداروں سے فارمل ایجوکیشن کی صورت میں حاصل کر چکی ہوتی ہیں۔ آج کی خاتون کا ماحول کا ایکسپوژر بھی اچھا خاصا ہوتا ہے۔ آج کی عورت کا دعوی یہ بھی ہے کہ وہ زیادہ سمجھداراور خود مختار ہے اور اپنے فیصلے خود کر سکتی ہے۔ اسی طرح اس عمر میں "ساتھی" کی خواہش اکثر اچھی خاصی شدت اختیار کر چکی ہوتی ہے۔ اس خواہش/ ضرورت کو کیسے ڈیل کیا جائے؟

ماں ہونے کے لیے بچوں سے جس شفقت اور محبت کی ضرورت ہے، وہ تو عورت کی فطرت میں ودیعت ہے، اور مشکلات کو ڈیل کرنا درحقیقت اس وقت آتا ہے جب انسان کو ان کا سامنا کرنا پڑے۔ سب سے اہم بات یہ کہ مشکل حالات میں ایموشنل، مورل اور فزیکل سپورٹ اس قدر لازمی ہے کہ اس کی ضرورت تو بڑی عمر کی ماؤں بلکہ حضرات کو بھی ہوتی ہے۔ پھر جدید طرز تعلیم اور قدیم تجربات یہ بتاتے ہیں کہ تربیت صرف کلاس روم میں بٹھا کر تھیوری پڑھا کر کی جائے تو اس کے مثبت اثرات ظاہر نہیں ہوتے، اور ہمارے کم از کم پاکستانی نظام تعلیم کا نقص ہے ہی یہ کہ گریجویشن کر لینے والا ڈاکٹر انجینئر تک عملی میدان میں آتے ہی ہونقوں کی طرح کھڑا ہوتا ہے کہ اسے عملی کام کا نہ کوئی تجربہ ہوتا ہے اور نہ ہی اندازہ۔ ایسے میں کوئی ایسا "ٹریننگ سیشن" کیسے طے جاسکتا ہے جہاں بٹھا کر ماں بننے کے گر سکھائے جا سکیں؟

ہمارا سمجھنا یہ ہے کہ فطرت کو لگے بندھے اصولوں میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ ماں بننے یا شادی کرنے کے لیے کوئی مخصوص ایج گروپ متعین نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ان چیزوں پر کئی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ پابندی اس قدر غیر فطری ہے کہ مغرب جیسے فرد کی آزادی کے علمبردار معاشرے بھی شادی اور فارمل معاہدوں پر تو پابندی عاید کر سکے ہیں، "تعلقات" اور ماں بننے کو روک نہیں سکے۔

آج کا اصل اور بڑا مسئلہ افکار اور عمل میں عدم توازن ہے۔ فرد اس قدر خود مختار اور اپنے حقوق کے لیے اس قدر حساس ہو گیا ہے کہ انسانی معاشروں، جس کی اکائی خاندان ہے ، کے لیے جس دو طرفہ ایثار، قربانی، سمجھوتے اور devotion کی لازمی ضرورت ہے، اس کے لیے وہ تیار نہیں۔

عمر کوئی بھی ہو، اگر مرد اور عورت دونوں کی تربیت اس انداز میں کی جائے کہ انھیں دوسروں کی خوبیوں خامیوں کو سمجھنے کے لیے صبر کرنا، کچھ اپنی منوانا کچھ دوسرے کی ماننا، کچھ پانے کے لیے کچھ کھونے کے لیے خود کو تیار کرنا، معاملات کو "ختم" کرنے کے بجائے سلجھانے اور کوئی بیچ کی راہ نکالنا آ جائے۔ تو وہ انسانی سماج میں اپنا کوئی بھی کردار ادا کر سکیں گے۔

ماں ہونے کے لیے سب سے اہم چیز محبت اور قربانی ہے۔ تعلیم اس کردار کو سنوارنے والی ہونی چاہیے۔ ہمارا نظام تعلیم انسانی کردار کی تعمیر کو فوکس نہیں کرتا، وہ تو بس کامیاب کارندہ بناتا ہے۔ اس لیے وہ تو شاید تیس برس کی خاتوں کو بھی ان کاموں کے لیے تیار نہ کر پائے، یہ کام تو آج بھی خدا کی بنائی ہوئی فطرت ہی کروا رہی ہے۔

بہت اہم بات یہ کہ ساری تربیت اور تعلیم عورت کی ہی کیوں؟ حضرات کو مخاطب کر کے کوئی کورسز ان کی خاندانی ذمہ داریوں کے حوالے سے کیوں نہیں ہوتے؟ منبر ہو یا سکول، اچھا شوہر، اچھا باپ، اچھا بیٹا اور اچھا بھائی وغیرہ بننے کے حوالے سے تربیت کا کام کیوں نہیں کرتے؟

ہماری نظر میں حل یہ ہے کہ تعلیم و تربیت تمام فارمل اور ان فارمل اداروں کا فوکس انسان کے انسانی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے قابل بنانا ہونا چاہیے۔ اچھی ماں، اچھا باپ، شوہر، محلے دار، رشتہ دار، شہری، اور دنیا کا باسی کیسے بنا جائے؟ یہ ہمارا فوکس اب رہا نہیں۔ ہم تو صرف "معاشرے کا ایک کامیاب فرد " بننا اور بنانا چاہتے ہیں۔

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com