قبر میں جزا و سزا کا تصور - عظیم الرحمن عثمانی

قبر میں جزا و سزا کی نوعیت کیا ہوگی؟ اس بارے میں محققین کی مختلف آراء موجود ہیں۔ میں اس وقت ان کا تقابلی جائزہ نہیں لوں گا، بلکہ صرف اپنے تجزیہ سے آپ کو آگاہ کروں گا۔ پڑھنے والوں پر فرض ہے کہ وہ میری اس تحقیق کو ایک علمی کاوش سمجھیں اور اپنا نتیجہ خود قائم کریں۔

سب سے پہلے تو تمہیدی طور پر یہ جان لیں کہ یقین کے تین درجے ہیں،
پہلا درجہ ہے علم الیقین، یعنی وہ یقین جو علمی استدلال سے حاصل ہو۔ اس دنیاوی زندگی میں ہم سے صرف علم الیقین ہی مطلوب ہے۔
دوسرا درجہ ہے عین الیقین، یعنی آنکھوں دیکھا یقین۔ یہ وہ یقین ہے جو عالم برزخ یعنی یعنی موت کے بعد قبر میں حاصل ہوگا۔
تیسرا اور اعلیٰ ترین درجہ حق الیقین کا ہے جو روز محشر یعنی قیامت کے بعد قائم ہوگا۔
علم الیقین چونکہ اس مادّی دنیا میں مطلوب ہے لہٰذا اس میں ہمارے مادّی یعنی جسمانی حواس غالب ہیں۔ قبر میں کیونکہ جسم مٹی ہوجانے ہیں تو یہاں ہمارا روحانی وجود یا روحانی حواس کا غلبہ ہے لہٰذا معاملات بھی عین الیقین سے متعلق ہیں۔ روز حساب ہمارے جسمانی اور روحانی دونوں حواس پوری طرح بیدار ہوں گے تو یہاں حقیقت اپنے دونوں پہلوؤں سے سامنے آئے گی، جسے حق الیقین سے تعبیر کیا گیا ہے۔

قرآن حکیم کے بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیند اور موت میں ایک یقینی مشابہت موجود ہے۔ نیند اور موت جیسے دو بہنیں ہیں۔ قران کی سورہ الزمر میں درج ٤٢ آیت ملاحظہ ہو

"خدا لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں (نفوس) قبض کرلیتا ہے اور جو مرے نہیں (ان کی روحیں) سوتے میں (قبض کرلیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم کرچکتا ہے ان کو روک رکھتا ہے اور باقی روحوں کو ایک وقت مقرر تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ جو لوگ فکر کرتے ہیں ان کے لیے اس میں نشانیاں ہیں۔"

جس طرح نیند میں ہمارا شعور جزوی اور عارضی طور پر معطل ہوجاتا ہے، اور جس طرح ہمارا لاشعور ہمارے خیالات کو خواب کی صورت میں تصویری خاکہ بنا دیتا ہے بالکل ویسے ہی موت میں اس سے ملتے جلتے لیکن کہیں زیادہ گہرے نفسی و روحانی تجربات پیش آئیں گے۔ اس بارے میں بابائے نفسیات فرائیڈ کی تحقیقات بھی قابل غور ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ خواب میں آپ کے جذبات و خیالات تصویری پیغام بن جاتے ہیں۔ ان کی تعبیر بھی ہر شخص کے انفرادی تصورات کے مطابق جدا جدا ہوتی ہے۔ ایک مثال سے اسے سمجھتے ہیں، اگر بلّی میرا پسندیدہ جانور ہے اور آپ بلّی سے خوف کھاتے ہیں تو میرے خواب میں بلّی کا نظر آنا محبت کا اشارہ ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس آپ کے خواب میں بلّی کا نظر آنا خوف کی علامت ہوسکتا ہے۔ ہر خوابیدہ تصویر کی تعبیر کے پیچھے اس سے متعلق تصوّرات وابستہ ہوتے ہیں۔

اب جب ہم اسی تحقیق کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جن میں احوال قبر بیان ہوئے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی نماز یا نیک اعمال اس کے سامنے ایک خوبصورت چہرے والے انسان کے روپ میں ظاہر ہوں گے۔ اسی طرح ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے پیچھے بھاگنے والے کے سامنے دنیا ایک بدصورت بڑھیا کی صورت میں نمودار ہوگی۔ اسی رعایت سے یہ بہت ممکن ہے کہ حسد اور کینہ سانپ بچھو بن کر عذاب کا باعث بن جائے۔ مگر یہ سب احوال روحانی سطح پر ہوں گے۔ عذاب قبر سے متعلق موجود تمام احادیث غالباً اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس کے لیے عالم برزخ کی اصطلاح رائج ہے۔ یعنی یہ ایک علیحدہ روحانی عالم ہے۔ یہ لفظ برزخ دراصل 'پردہ' کا متبادل ہے اور اُس حد فاصل کے لیے استعمال ہوا ہے ، جہاں مرنے والے قیامت تک رہیں گے۔ یہ گویا ایک رکاٹ ہے جو اُنہیں واپس آنے نہیں دیتی۔

"من ورائھم برزخ الی یوم یبعثون " کہ اُن کے آگے ایک پردہ ہے اُس دن تک کے لیے،جب وہ اُٹھائے جائیں گے (المومنون٢٣: ١٠٠) ۔

اسے صرف قبر کے گڑھے تک محدود رکھنا شاید درست نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کو قبر میسر ہی نہیں ہوتی۔ بعض پانی میں ڈوب جاتے ہیں، بعض کو جنگلی درندے کھا جاتے ہیں، بعض کو جلا دیا جاتا ہے اور وہ جنہیں قبر میسر آجائے، ان کے اجسام کو بھی ایک وقت بعد کیڑے کھا جاتے ہیں اور ان کیڑوں کو بھی دوسرے کیڑے کھا جاتے ہیں۔ لہٰذا قبر میں جسمانی سطح پر جزا و ثواب کا نظریہ ایک مشکل نظریہ ہے۔ حد سے حد یہ کہا جاسکتا ہے کہ مرنے کے بعد بھی روح کا کوئی نہ کوئی تعلق جسم کے ذرات سے باقی رہتا ہے مگر جزا و ثواب کے احوال اس کی روح پر ہی وارد ہوتے ہیں۔ غور کریں تو یہی معاملہ ہمیں خواب میں بھی درپیش آتا ہے، مثال کے طور پر آپ خواب میں دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کے پیچھے خنجر لیے دوڑ رہا ہے یا آپ کے پیچھے بھیانک کتے لگے ہوئے ہیں اور آپ ان سے بچنے کی خاطر سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ اچانک آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ سارا جسم پسینہ میں شرابور ہے، سانس تیز تیز چل رہی ہے اور خوف سے دل بھی زور زور دھڑک رہا ہے۔ حالانکہ نہ تو حقیقت میں کوئی آپ کے پیچھے بھاگ رہا تھا اور نہ ہی آپ کسی سے بچ رہے تھے۔

اس سے تین اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں پہلی یہ کہ اصل تکلیف یا فرحت روح محسوس کرتی ہے۔ دوسری یہ کہ روح پر گزرے احوال آپ کے جسم پر بھی اثرات مرتب کرتے ہیں اور تیسری یہ کہ خواب کے دوران آپ خواب ہی کو اصل حقیقت تسلیم کرتے ہیں۔ برزخ میں بھی جو فرحت و عذاب آپ کی اصل نفسانی شخصیت یعنی روح پر وارد ہوں گے اس کا احساس بالکل حقیقی محسوس ہوگا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا جسم جو شاید ذرّات کی صورت میں کہیں موجود ہو، وہ بھی ایک نامعلوم تعلق کی بنیاد پر اس اثر کو محسوس کرے مگر وہ تعلق کتنا مضبوط ہے؟ ہے بھی یا نہیں؟ اگر ہے تو کیا وہ وقتاً فوقتاً کمزور ہوتا جاتا ہے؟ ان سب باتوں سے قطع نظر حقیقی معاملہ دراصل روح ہی کو پیش ہوگا اور قبر کی شکل یا ان میں سوال و جواب بھی شاید تمثیلی روحانی سطح پر ہی ہوں گے البتہ روح اپنے جسم سے انسیت کے باعث اس سے ایک غیبی تعلق برقرار رکھے گی۔

شاید اسی بنیاد پر احادیث میں یہ آتا ہے کہ منکر و نکیر فرشتوں کے سوالات کے بعد قبر میں جنت یا جہنم کی کھڑکی کھول دی جائے گی جس میں صاحب قبر اپنے ٹھکانے کا شب و روز مشاہدہ کرے گا۔ قبر کو اعمال کے اعتبار سے خوب کشادہ کر دیا جائے گا یا پھر نہایت تنگ۔ یہاں قبر سے مراد میرے نزدیک برزخی یعنی روحانی قبر ہے جس کا تعلق اس مادّی قبر سے انس کی بنیاد پر قائم رہتا ہے۔ زندہ انسان کی آنکھوں کے سامنے چونکہ صرف مرنے والے کی مادّی قبر ہے اور وہ برزخ کو نہیں دیکھ پاتا، لہٰذا اس کی دعا اسی قبر کے سرہانے ہوتی ہے۔ جسے صاحب قبر اللہ کی اجازت سے اور اس غیبی تعلق کی بنیاد پر اپنے حقیقی برزخی ٹھکانے میں سن پاتا ہے۔

ہم اپنی سمجھ کی آسانی کے لیے اصحاب قبر کو تین گروہ میں کرکے دیکھ سکتے ہیں۔ پہلے وہ جو سرکش تھے، دوسرے وہ جو نیک و پارسا تھے اور تیسرے وہ جن کی زندگی گناہ و ثواب دونوں میں گڈمڈ گزری۔

قرآن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اِس پہلو سے بالکل واضح ہوگا کہ وہ سرکشی اور تکبر سے جھٹلانے والے اور اپنے پروردگار کے کھلے نافرمان تھے یا ہوں گے ۔ اُن کے لیے ایک نوعیت کا عذاب بھی اِسی عالم برزخ میں شروع ہوجائے گا۔ اسی مشاہدے کی دلیل ہمیں قران پاک کی سورۂ مومن (غافر) میں ملتی ہے جہاں فرمایا:

وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَاب النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَاب

"فرعون والوں کو برے عذاب نے گھیر لیا ، صبح اور شام آگ کے سامنے لائے جاتے ہیں اور قیامت کے دن تو فرعون والوں کے لیے کہا جائے گا ان کو سخت عذاب میں لے جاؤ۔" ( غافر:40 - آيت:45-46 )

یعنی صاف ظاہر ہے کہ آل فرعون پر قبر میں عذاب اسی صورت میں ہوتا ہے کہ انہیں ان کا ٹھکانہ دکھایا جاتا رہتا ہے جسے دیکھ کر وہ خوفزدہ ہوتے ہیں اور روز آخر انہیں اس عذاب میں حقیقی طور پر داخل کردیا جائے گا۔

قرآن کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا معاملہ اِس پہلو سے بالکل واضح ہوگا کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے لیے درجہ کمال میں وفاداری کا حق ادا کیا ہے اور کرنے والے ہیں ۔ اُن کے لیے ایک نوعیت کا ثواب اِسی عالم میں شروع ہوجائے گا ۔قرآن کے مطابق اِس کی مثال وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں اپنے پروردگار کے حکم پر اُس کے دشمنوں سے جنگ کی اور پھر شہید ہوگئے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ :وہ زندہ ہیں،اور اپنے پروردگار کی عنایتوں سے بہرہ یاب ہورہے ہیں ۔“ (آل عمران٣: ١٦٩-١٧١)

ان دو انتہاؤں کے بیچ بیچ جو افراد ہوں گے، جن کے گناہ و ثواب دونوں بکثرت موجود ہوں ایسے افراد کے لیے جنت و جہنم دونوں امکانات کا مشاہدہ رکھا جائے گا اور ان کا حتمی اعلان آخرت میں حساب و کتاب سے ہی واضح ہو پائے گا۔ ان پر ایک طرح کی نیند طاری رہے گی جس میں یہ خوابیدہ مشاہدہ مختلف شعوری سطح پر کرتے رہے گے۔ یہ زندگی چونکہ جسم کے بغیر ہوگی لہٰذا روح کے شعور،احساس اور مشاہدات وتجربات کی کیفیت اِس زندگی میں کم وبیش وہی ہوگی جو خواب کی حالت میں ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ قیامت کے صور سے یہ خواب ٹوٹ جائے گا۔ روح کو جسم سے پھر جوڑا جائے گا اور مجرمین اپنے آپ کو یکایک میدان حشر میں جسم و روح کے ساتھ زندہ پاکر کہیں گے

"یویلنا من بعثنا من مرقدنا" ہائے ہماری بد بختی ،یہ ہماری خواب گاہوں سے ہمیں کون اُٹھالایا ہے (یٰس ٣٦: ٥٢)۔

یہ وہ مختصر روداد ہے جو احوال قبر کے بارے میں میرے نقطہ نظر کو بیان کرتی ہے۔ میری پھر استدعا ہے کہ اسے محض ایک علمی کاوش سمجھا جائے اور کوئی بھی نتیجہ انفرادی تحقیق کے بعد قائم کیا جائے۔ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے دین کی ٹھیک سمجھ اور اچھا عمل عطا کرے۔ آمین!

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.